کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا،فرانس،آسٹریلیا،ملائیشیا کے کئی افراد متاثر

  کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل گیا،فرانس،آسٹریلیا،ملائیشیا کے کئی افراد ...

  



کینبرا،پیرس،کوالالمپور،بیجنگ،لندن،واشنگٹن(نیوزایجنسیاں)کرونا وائرس چین کی سرحدیں پار کرکے دنیا بھر میں پھیل گیا،تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں ایک 50سالہ شخص کا کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے جو ملک میں پہلا مریض ہے،متاثرہ شخص ملبورن ہسپتال میں زیر علاج ہے۔فرانس میں کرونا وائرس سے متاثرہ 3 افراد کی تصدیق ہوگئی ہے،فرانسیسی وزیر صحت ایگنس بوزائن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا پہلا48سالہ مریض سامنے آیا ہے جو حال ہی میں چائنہ سے واپس ہوا ہے جہاں وہ وسطی چینی صوبہ ہوبے کے دارالحکومت ووہان میں کئی دن رہا ہے، جو کرونا وائرس کی نمونیا پھوٹنے کا مرکز ہے۔وزیر نے کہا ہے کہ دوسرے مریض کی بھی پیرس میں مثبت تصدیق ہوئی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اس شخص نے بھی چین کا سفر کیاتھا لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ ووہان میں ٹھہرا ہے یا نہیں۔وزارت کے ایک پریس ریلیزکے مطابق تیسرا مریض ایک مریض کا قریبی رشتہ دار ہے جو زیرتفتیش تھا اور ابھی اس کی تصدیق ہوئی ہے۔وزیر نے کہا ہے کہ چین سے واپس آنیوالے افراد جو بخار کھانسی اور سانس لینے کی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خصوصی محکمہ سے رجوع کریں جو متعدی امراض کا اعلاج کرتا ہے لیکن وہ براہ راست ہسپتال نہ جائیں۔ادھرملائیشیا کے حکام نے ہفتہ کو کہا ہے کہ سنگاپور کی سرحدی جنوبی ریاست جوہور میں کرونا وائرس کے پہلے تین مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔ملائیشیا کے وزیر صحت ڈی زولکی فلائی احمد نے کہاہے کہ متاثر ہونے والے افراد کا تعلق چین سے ہے اور وہ ایک 66 سالہ شخص کے قریبی رشتہ دار ہیں جس کا سنگاپور میں مثبت ٹیسٹ آیا ہے۔ایک بیوی اور دو پوتوں کے بھی مثبت ٹیسٹ آئے ہیں۔ احمدنے وضاحت کی ہے کہ سنگاپور ملائیشیا کے حکام کیدرمیان معلومات کے تبادلے میں حکام نے افراد کا سراغ لگانے کی اجازت دے دی ہے۔فرانسیسی وزیر صحت آنئیس بیوزِن نے جمعے کو ملک نے ایشیا اور امریکہ سے باہر مہلک وائرس کے پہلے کیسز کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا کہ یورپ کو وائرس کو وبا پھیلنے سے روکنے کے لیے کمر کسنی ہو گی اور اس کا جنگل میں لگی آگ کی طرح مقابلہ کرنا ہو گا۔برطانیہ میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق محکمہ صحت کے یہ کہنے پر ہوئی کہ وہ ان دو ہزار افراد کا سراغ لگانے کے لیے فضائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جو گذشتہ 14 دن میں ووہان سے برطانیہ پہنچے تھے۔دوسری طرف چینی صحت حکام نے ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ جمعہ کے اختتام تک ملک بھر میں نوول کرونا وائرس کے باعث بننے والے نمونیا کے 1287مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے، ان میں 237کی حالت نازک ہے۔قومی صحت کمہشن کے مطابق نمونیا کے باعث41ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں سے وسطی چینی صوبہ ہوبے میں 39، چینی شمالی صوبہ خبے میں 1 اور شمال مشرقی چینی صوبہ ہء لونگ جیانگ میں 1ہلاکت ہوئی ہے۔کل 1ہزار965مشتبہ واقعات سامنے آئے ہیں،صحت یاب ہونے والے 38افراد کو ہسپتالوں سیفارغ کر دیا گیا ہے۔جمعہ کو24گھنٹوں کے دوران444 نئے تصدیق شدہ اور 1ہزار118مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں،جبکہ بیماری کے باعث16 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔کمیشن کے مطابق صوبہ چھنگ ہائی میں پھیلنے کے بعد چین میں صوبائی سطح کے علاقوں میں متاثر ہونے والے کی تعداد 30ہوگئی ہے۔کمیشن نے کہا ہے کہ کل 15197 افراد کا سراغ ملا ہے جبکہ ان میں سے13967 طبی طور پر زیر مشاہدہ ہیں،جبکہ دیگر 1ہزار 230کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں پوری دنیا میں فیس بک پر ایک پوسٹ زیرِ گردش اور زیرِبحث ہے کہ چین میں درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والا کرونا وائرس امریکی تحقیقی ادارے، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن (سی ڈی سی)میں تیار کیا گیا تاہم سی ڈی سی کے ماہرن نے اس پوسٹ کی تردید کی ہے۔

کروناوائرس

مزید : صفحہ اول