بھارت کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے،مودی سرکار ہمارے سفارتکاروں کووادی تک مسلسل رسائی دے،افغان امن عمل کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں:امریکہ

بھارت کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے،مودی سرکار ہمارے سفارتکاروں کووادی تک ...

  



واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) امریکہ نے بھارت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں بھارت کا دورہ کرنیوالی امریکی معاون نائب وزیر خارجہ ایلس ویلزنے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تمام سیاسی رہنماؤں کو رہا کرے جنہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ایلس ویلز نے غیر ملکی سفارت کاروں کے حالیہ دورہ کشمیر کو مفید اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت ہمارے سفارتکاروں کو کشمیر تک مسلسل رسائی دے۔بھارت میں متنازع شہریت قانون کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے دورہ بھارت کے دوران شہریت قانون سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا، بھارت میں سڑکوں پر سیاسی اپوزیشن اور میڈیا سمیت عدالتوں کی جانب سے بھی اس قانون کا کڑا جمہوری جائزہ لیا جارہا ہے، امریکا قانون کے تحت سب کو مساوی تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ دوسری طرف ایلس ویلز نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 2020میں 10پاکستانی خریداروں کے وفد اور 5علاقائی تجارتی شوز کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں، اس سے پاکستان اور امریکی کمپنیوں کے درمیان گہرا تعلق قائم ہوگا، دہشت گرد وں کی مالی معاونت کیخلاف ٹاسک فورس کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی اسلام آباد کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم پاکستان سے اس ایکشن پلان کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کو بھرپور سراہتے ہیں، پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کی کوششوں سمیت اس کے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کا مکمل ہونا اہم ہے۔امریکی سفیر نے 3 جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے دورے کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ 'افغانستان میں طویل امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاکستان کے پاس اہم قوت ہے'۔ایلس ویلز نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں حکومت، فوج، سول سوسائٹی اور تجارتی رہنماں کے ساتھ مختلف ملاقاتیں کیں۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ایجنڈے کا سب سے اہم حصہ اس بات کو سمجھنا تھا کہ ہم اپنے باہمی تعلقات کو اس تعاون کے موافق کیسے بڑھا سکتے ہیں جو ہم افغانستان میں امن اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے حاصل کر رہے ہیں۔افغان امن مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد اور ان کی ٹیم دوحہ میں طالبان کو طاقت کے استعمال میں کمی لانے کی طرف راغب کرنے کیلئے موجود تھی تاکہ افغانوں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اجازت دی جاسکے۔انہوں نے امریکا-پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ 'ہم نے بین الاقوامی عسکری تعلیم اور تربیتی پروگرام کی بحالی سے ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان سے امریکی صدر کی تعمیری ملاقات جیسی اعلی سطحی بات چیت سے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں کافی پیش رفت دیکھی ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی اصلاحات کی کوششوں کی عالمی بینک نے 2019 میں 10 بڑے اصلاح کرنے والوں میں سے ایک کے طور پر ان کی نشاندہی کی تھی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خلاف ٹاسک فورس کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی اسلام آباد کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے اس ایکشن پلان کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کو بھرپور سراہتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کی کوششوں سمیت اس کے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کا مکمل ہونا اہم ہے۔اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے کے لیے امریکی مدد کی خواہش کا اظہار کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ایلس ویلز نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایکشن پلان ہے جسے پاکستان کو پیش کیا گیا تھا، یہ ان تقاضوں کو پورا کرنے کا سوال ہے جو بین الاقوامی نظام میں تمام ممالک سے سے پوچھا جاتا ہے، لہذا یہ کوئی سیاسی عمل نہیں لیکن ہم اس کی تائید کرتے ہیں اور ہم پاکستان کی مدد کیلئے تیار ہیں کیونکہ وہ ان ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے۔

امریکہ

مزید : صفحہ اول