پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس،ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس،ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن اور اکبر ایس بابر کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں الیکشن کمیشن کوئی عدالت یا ٹربیونل نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹرا کورٹ اپیل میں الیکشن کمیشن کے اختیارات سے تجاوز کو نظر انداز کر کے خلاف قانون حکم نامہ جاری کیا، ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال کرتے ہوئے متنازعہ حقائق پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ درخواست میں کہا گیا کہ سنگل بینچ کا 18 جولائی 2018 ء کا چیمبر آرڈر بھی قانون کی نظر میں درست نہیں، الیکشن کمیشن آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے اور اس کا 12 دسمبر 2019 ء کا حکم غیر قانونی ہے۔عمر ان خان نے درخواست میں مزید کہا کہ اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکالا گیا ہے، ان کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کی ای میل بھی ریکارڈ پر موجود ہے لیکن ہائی کورٹ نے اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف کا ممبر قرار دیا۔ اکبر ایس بابر کیس میں متاثرہ فریق نہیں، اس لیے ان کا سکروٹنی کمیٹی میں پیش ہونا خلاف قانون ہے۔وزیراعظم نے حنیف عباسی بنام عمران خان کیس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق قواعد طے کر دیئے تھے۔

عمران خان/رجوع

مزید : صفحہ اول