بھارت استعماریت کی راہ پر چلتا رہا تو جلد بکھر جائیگا

بھارت استعماریت کی راہ پر چلتا رہا تو جلد بکھر جائیگا

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے بھارت اگر استعماریت کی راہ پر چلتا رہا تو جلد بکھر جائیگا، اب بھارت میں عورتیں بھی سڑکوں پر نکل کر آواز بلند اور آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں،نریندر مودی کے مذموم عزائم کو خود بھارت کے عوام نے خاک میں ملا دیا ہے، وہ وقت دور نہیں جب آزادی کی حسین صبح کا جو خواب کشمیریوں نے دیکھا تھا اس کی تعبیر بھارت میں ذات پات کے نظام کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے اہل بھارت دیکھیں گے۔ یہ بات انہوں نے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں جڑواں شہروں کی مختلف جا معات اور تعلیمی اداروں کے طلبہ کی سوال و جواب کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کی، جس کا اہتمام کشمیر یوتھ الائنس نے کیا تھا۔ تقریب میں الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی، ڈاکٹر اسامہ ظفر، رضی طاہر، مخدوم شہاب الدین اور نوید احمد نے بھی اظہار خیال کیا۔ صدر آزادکشمیر کامزید کہنا تھا بھارت جمہوری ملک ہونے کا دعویدار ہے لیکن حقیقت یہ ہے اپنے قیام کے صرف دو ماہ بعدہی اس نے کشمیر پر قبضہ کر کے اپنے چہرے پر خود کالک لگا دی تھی۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام گزشتہ 72سال سے بھارت کی اس غیر قانونی و غیر جمہوری قبضے کیخلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ان کو اپنا پیدائشی حق، حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔ یہ سمجھنا درست نہیں بھارت کی کانگریس پارٹی نے کشمیریوں پر کم مظالم ڈھائے ہیں کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنے میں کانگریس کا بھی اسی طرح حصہ ہے جیسے بی جے پی کا ہے لیکن بھارت موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ہٹلر، مسولینی اور ملازووچ سے بھی بدتر ہے جس نے ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ مودی کے اقدامات سے نہ صرف بھارت بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ مودی جنگ کی راہ پر چل نکلا ہے اور کہتا ہے وہ پاکستان کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔ مودی کو اس بات کا احساس نہیں کہ اگر بھارت نے پاکستان کیخلاف جوہری ہتھیار استعمال کئے تو پاکستان کا جواب بھی برابر کا ہو گا، جس سے پورا خطہ تباہ ہو جائیگا۔ سردار مسعود خان نے کہا اقوام متحدہ کی قرار د ا د و ں پر عملدرآمد نہ ہونے کی ساری ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جس نے ان قراردادوں کو تسلیم کرنے کے باوجود کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کیلئے مختلف حیلوں بہانوں سے رائے شماری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی اور کشمیر پر اپنے فوجی قبضہ کو مستحکم کیا۔ مسئلہ کشمیر حل نہ کرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن اقوام متحدہ نے کشمیر کے متنازعہ ہونے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ بھارت کی نو لا کھ فوج نہتے و بیگناہ کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ان حالات میں کشمیریوں نے دوباہ مسلح جدوجہد شروع کی تو وہ یہ کام کسی سے پو چھ کر نہیں کریں گے کیونکہ ظلم و جبر کیخلاف مسلح جدوجہد مظلوم کشمیریوں کا فطری رد عمل ہو گا۔ امریکہ میں اپنی جان و مال کی حفاظت کیلئے اسلحہ رکھنا اس کا استعمال کرنا اگر امریکی شہریوں کا حق ہے تو یہی حق کشمیریوں کو اپنی جان و مال کی حفاظت کیلئے کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ کی آزادی اور امریکیوں کی حقوق کی جنگ لڑنے والے جارج واشنگٹن کو بھی دہشت گرد کہا گیا تھا جسے امریکیوں نے اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔ کشمیر میں آزادی اور حریت کے باب رقم کرنیوالے دہشتگرد نہیں بلکہ کشمیریوں کے ہیرو ہیں دنیا انہیں جو کہے ہمیں اس سے سروکار نہیں۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انکاکہنا تھا چین کی مدد سے حالیہ عرصے میں دو بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا اور سلامتی کو نسل کے کسی رکن نے یہ نہیں کہا کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا ریاست پاکستان بھارت کیخلاف عسکری ذرائع کو استعمال نہیں کرے گی بلکہ انہوں نے یہ کہا پاکستان کشمیریوں کی آزادی کیلئے سیاسی و سفارتی ذرائع استعمال کریگا اور یہ پاکستان کا دیرینہ موقف ہے۔ پاکستان کا سلامتی کونسل میں جانا، دنیا کی پارلیمان کا کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنا اور کئی ممالک کا کشمیر یوں کے حق خودارادیت کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا عملی اقدامات ہیں۔ لیکن بھارت نے اگر کسی قسم کی جارحیت کی تو اس کیخلاف فوجی اقدام کو بھی ہم خارج از امکان نہیں قرار دے سکتے۔ صدر آزادکشمیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی آزادی کیلئے عوام میں جذبہ بیدار کریں، سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم اور کشمیریوں کے بیانیہ کو دنیا تک پہنچائیں اور علم و فن اور سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر کے آزادکشمیر اور پاکستان کو مضبوط تر بنائیں۔

سردار مسعودخان

مزید : پشاورصفحہ آخر