انسانی سمگلروں نے نوجوان کو یورپ جانے کا جھانسہ دیکر تنہاء چھوڑ دیا

انسانی سمگلروں نے نوجوان کو یورپ جانے کا جھانسہ دیکر تنہاء چھوڑ دیا

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ) افغانستان کے انسانی سمگلروں نے 12سال قبل لنڈیکوتل کے رہائشی نوجوان شکیل احمد کو یورپ جانے کا جھانسہ دیکر ایران پہنچنے پر تن تنہا چھوڑ دیا جہاں پر وہ ناکردہ جرم کی پاداش میں تہران کے سنٹرل حصار جیل میں پابند سلاسل ہے تہران جیل میں قید نوجوان شکیل احمدکے والدین، بیوی بچے، بہن بھائی اور دیگر اہل و عیال ان کی شکل دیکھنے کو ترس گئے متاثرہ خاندان کا وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پوری پاکستانی اورتہران حکومت سمیت تہران قونصل جنرل اسلام آباد کے حکام سے نوجوان شکیل احمد کی رہائی اور ان کو اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا اس سلسلے میں نیاز مین گل ولد اول خان سکنہ لنڈی کوتل خیبر ایجنسی نے بتا یا میرے بیٹے شکیل احمد نے سال 2008میں ایک افغانی شخص کے ساتھ رقم کا لین دین کا اور پھر ان کو کہا کہ آو کہ تمہیں افغانی پاسپورٹ پر یورپ لے جائیں میرا بیٹا بھی ان کے ساتھ گیا اورپھر کافی عرصہ ان کا کچھ اتہ پتہ نہ چلابہت تگ و دود کے بعد 2015میں ایران کے قونصلیٹ کے زریعے اطلاع موصول ہوئی کہ آپ کے بیٹے کو رہا کر دیا گیا ہے جس سے ہم خوش ہوئے لیکن یہ اطلاع حقیقت کے برعکس تھی اور اس کے چند ماہ بعد میرے بیٹے نے مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنٹرل حصار جیل تہران میں قیدہے اور ان کو رہا نہیں کیا گیا گذشتہ کئی سالوں اپنے جوان بیٹے کی رہائی کیلئے تگ ودود کر رہا ہوں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ میرے بیٹے نے 5سال ایران اور افغانستان بارڈر سزا کاٹی اور 6سال حصار سنٹرل جیل تہران میں سزا کاٹی ان کی سزا کا معیاد بھی ختم ہو گئی ہے لیکن ان کا نام کااندارج شکیل احمد ولد نیازمین گل کی بجائے شکیب احمد ولد نیاز احمد کی وجہ سے رہائی میں مشکلات پیش آرہے ہیں کیونکہ میرے بیٹے کے نام کا اندارج تاحال افغانستان کی فہرست میں ہے اس لئے ان کے نام کا اندراج پاکستانی فہرست میں کی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر