ٹرمپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے قابل مواخذہ قرار دیا جا سکے،صدارتی قاونی ٹیم کا سینیٹ میں موقف

ٹرمپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے قابل مواخذہ قرار دیا جا سکے،صدارتی قاونی ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے سینیٹ میں مواخذے کے مقدمے کے دوران موقف اختیار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جسے قابل مواخذہ قرار دیا جا سکے۔ بدھ سے جمعہ تک تین دن کے دوران ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے استغاثہ کے سات منیجرز نے مواخذے کی دو منظور شدہ دفعات کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کے حق میں دلائل پیش کئے۔ ہفتے کے ر و ز وائٹ ہاؤس کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کیخلاف دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے قانون اور آئین کیخلاف کوئی کام نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس ٹیم کے سربراہ قانونی مشیر پیٹ کیپولون کے علاوہ تین ارکان صدر کے ذاتی مشیر جے سیکولو، وائٹ ہاؤس کے نائب مشیر مائیک پرپورا اور پیٹ فلبن شامل تھے۔ اتوار کی تعطیل کے بعد سرکاری ٹیم پیر اور منگل کو اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔ وائٹ ہاؤس کی قانونی ٹیم کے سربراہ پیٹ کیپو لون نے سینیٹ کو بتایا اگر سینیٹ نے صدر کو عہدے سے فارغ کیا تو یہ اختیارات کا ناجائز استعمال ہو گا کیونکہ یہ فیصلہ عوام کو اپنے ووٹوں کے ذریعے کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے صدر کا دفاع کر تے ہوئے کہا انہوں نے یوکرائن کے صدر سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے ان پر کوئی ناجائز دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں نے فون کے ٹرانسکر پٹ کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے یہ ضرور کہا تھا یورپی یونین کے روس کیخلاف یوکرائن کا دفاع کرنے کے معاملے میں تمام بوجھ میں شرکت کرنی چا ہئے کیونکہ یہ صرف امریکہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مسٹر کیپولون نے بتایا ڈیموکریٹ منیجرز نے یہ بات چھپا کر رکھی کہ اصل میں یوکرائن کے صدر نے صدر ٹر مپ کے اس موقف سے پورا اتفاق کیا تھا۔ دفاعی ٹیم کی طرف سے ہفتے کے روز دلائل پیش کرنے کا آغاز کرنے سے پہلے ایک ٹویٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے متوقع کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ سیشن ٹیلی ویژن پر موت کی وادی ثابت ہو گا۔ صدر کے ذاتی قانونی مشیر جے سیکولو نے سینیٹ کو بتایا صدر ٹر مپ نے یوکرائن کے صدر سے سابق نائب صدر جوبا ئیڈ ن اور ان کے بیٹے ہنٹر کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا وہ درست تھا کیونکہ ان کی یوکرائن کی توانائی کی کمپنی میں کرپشن کی ایک پوری تاریخ ہے۔ صدر کے ذاتی مشیر جے سیکولو نے سینیٹ میں دلائل پیش کرتے ہوئے کہا ڈیموکریٹس کو یہ مطالبہ سینیٹ کی بجا ئے عوام سے کرنا چاہئے صدر ٹرمپ کو عہدے سے فارغ کیا جائے کیونکہ آئین کے بانیوں کی یہی خواہش تھی۔ وائٹ ہاؤس کے نائب مشیر پیٹرک فلبن نے موقف اختیار کیا کہ ایوان کی سپیکر نینسی پلوسی کو یہ اتھارٹی حاصل نہیں تھی کہ وہ پورے ایوان نمائندگان کے ووٹوں کے بغیر مواخذے کی کارروائی شروع کرتیں۔ ان کا کہنا تھا جن انٹیلی جنس افسروں نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن میں اپنے ہم منصب سے فون پر گفتگو کو قومی مفاد کیخلاف قرار دیا تھا ان کو انسپکٹر جنرل نے سیا سی طور پر متعصب کہا تھا لیکن اس تبصرے کو چھپا لیا گیا۔

ٹرمپ موخذاہ

مزید : صفحہ اول