ہمارا عدالتی نظام کو تاہی برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ہمارا عدالتی نظام کو تاہی برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا:چیف جسٹس لاہور ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشید شیخ نے کہا ہے کہ ہمارا عدالتی نظام کسی بھی قسم کی کی کوتاہی کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،پاکستان سمیت پوری دنیا میں موسمیاتی تغیرات سے لوگوں کی زندگیاں شدید متاثر ہورہی ہیں،پانی کی کمی اور آب و ہوا سمیت دیگر مسائل کی وجوہات سے لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں جنرل ٹریننگ پروگرام کے تحت 11ویں تربیتی کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔چیف جسٹس نے مزید کہا ججوں کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر مسئلے پر نظر رکھیں، موسمیاتی تبدیلیاں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے،پاکستان میں ہماری روزمرہ زندگیوں پر موسمیاتی تبدیلیاں اثر اندازہو رہی ہیں،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نئے قوانین اور ان میں ہونیوالی ترامیم سے اپ ٹو ڈیٹ رہنا ججوں کے ضروری ہے، سسٹم ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہمارا عدالتی نظام کسی بھی قسم کی کی کوتاہی کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،جج کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر بہترین انصاف فراہم کریں، ہمارے لئے باعثِ فخر ہے کہ ہمارے جج اپنی استعداد کار سے بڑھ کر کام کرتے ہیں، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ جوڈیشل افسروں کیلئے اندرون و بیرون ملک تعلیمی سکالرشپس شروع کروائیں تاکہ انہیں سیکھنے کے مزید مواقع میسر آ سکیں،اس سے قبل ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامرنے اپنے خطاب میں کہا کہ ریسرچ ورک کے بغیر ججوں کے فیصلوں میں بہتری نہیں آسکتی،پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ججوں کو ریسرچ ورک کے حوالے سے بہترین تربیت فراہم کررہی ہے،ہم تربیتی کورسز کو بامعنی بنانے کیلئے ہر ممکن اصلاحات لارہے ہیں،جج تربیتی کورسز کے ذریعے اپنی شخصیت اور کام میں نکھار لارہے ہیں،تقریب میں رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اشترعباس، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ریحان بشیر اورپنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے فیکلٹی ممبران، افسروں و تربیتی کورس مکمل کرنے والے ایڈیشنل سیشن جج اور سول جج بھی موجود تھے۔تقریب میں تربیتی کورس مکمل کرنے والے ججوں کے نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے تربیتی کورس مکمل کرنے والے جوڈیشل افسروں میں اسناد تقسیم کیں۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر