روہنگیا مسلمانوں پر عالمی عدالت کا فیصلہ ظالم حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ:رحمٰن ملک

  روہنگیا مسلمانوں پر عالمی عدالت کا فیصلہ ظالم حکمرانوں کے منہ پر ...

  



اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما وسینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے میانمار روہنگیا کے مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے اور یہ فیصلہ دنیا کے ظالم حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے اور یہ وقت ہے کہ اب پاکستان بھی تمام ثبوتوں کے ساتھ مظلوں کشمیریوں کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے کیونکہ مودی کے کشمیر میں مظالم آنگ سان سوچی سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔جن بنیادوں پر میانمار حکمرانوں کے خلاف فیصلہ آ چکا وہی سب کشمیر میں ہو رہا ہے میں ہر فورم پر حکومت سے مودی کے مظالم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کی اپیل کر چکا ہوں۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ پر از خود نوٹس لے چکا ہوں کہ پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہو گیا ہے۔اگر حکومت کشمیر کے مسئلے پر عالمی عدالت انصاف میں نہیں جائے گی تو ہم کشمیر یوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مودی کبھی پاکستان پر حملے کرنے کی جرات نہیں کرسکے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج دوبارہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مودی کے مظالم کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کے حوالے سے خط لکھا ہے۔عالمی عدالت انصاف نے میانمار کے حکمران آنگ سان سوچی کو روہنگیا قتل عام کا مجرم قرار دیا ہے اور ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔رحمان ملک نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ پر میں از خود نوٹس لے چکا ہوں۔پریشانی اس بات کی ہے کہ زیادہ کرپشن والے ملک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ 120 ہو گیا ہے۔

رحمان ملک

مزید : صفحہ آخر