وفاقی اشتہارات کی پالیسی فریقین کیساتھ مشاورت سے نافذکرینگے، محمدطاہر حسن

  وفاقی اشتہارات کی پالیسی فریقین کیساتھ مشاورت سے نافذکرینگے، محمدطاہر حسن

  



کراچی(خصوصی رپورٹ)پرنسپل انفارمیشن آفیسر حکومت پاکستان محمد طاہر حسن نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات نے وفاقی اشتہارات کے اجراء کی پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے جو اے پی این ایس اور دیگر میڈیا تنظیموں کی مشاورت کے بعد نافذ کی جائیگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی این ایس کی سندھ کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔محمد طاہر حسن نے میڈیا پالیسی کے مسودہ کے اہم نکات کی وضاحت کی اور اے پی این ایس سے درخواست کی کہ وہ اپنی تجاویز اور تحفظات سے آگاہ کرے تاکہ متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے پالیسی کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے سندھ کمیٹی کے اراکین کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔اے پی این ایس سندھ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید مہر شمسی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اورسیکرٹری جنرل سرمد علی نے پی آئی او کا خیر مقدم کیا اور انہیں مرکزیت پر مبنی اشتہاری پالیسی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے وضع کردہ سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اس پالیسی کے ذریعے اشتہارات جاری کرنے والے اداروں کو اپنی ضروریات کے مطابق میڈیا تجویز کرنے سے روک دیا گیا ہے جس کے باعث تمام وزارتوں،محکموں اور خودمختار اداروں کے فیصلہ سازی کے عمل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیا گیا ہے اس طرح ان کی آزادی سلب کرلی گئی ہے انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پی آئی ڈی کے علاقائی دفاتر کو انکے کردار سے محروم کردیا گیا ہے۔ سندھ کمیٹی کے اراکین نے پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ پی آئی ڈی کی طرف سے جاری کردہ اشتہارات میں سندھ کے اخبارات کو مکمل طور پر نظر اندازکیا جارہا ہے۔اجلاس میں حمید ہارون(صدر)، سرمد علی(سیکرٹری جنرل)، جاوید مہر شمسی(چیئرمین)، شہاب زبیری(فنانس سیکرٹری)، حسن اکبر(روزنامہ ڈان)، بلال فاروقی(روزنامہ آغاز)، رفیق احمد پیرزادو(روزنامہ پاک سندھ)، نجم الدین شیخ (روزنامہ دیانت)، محمد سلیم (روزنامہ سجاگ)، علی بن یونس(روزنامہ بیوپار)، زاہد عباسی(روزنامہ نوسج)، قاضی سجاد اکبر(روزنامہ دی ریجنل ٹائمز)، فیصل شاہ جہاں (روزنامہ جدت کراچی)، منگل داس اروانی(روزنامہ ہلال پاکستان)، امتیاز اخترقاضی (روزنامہ تعمیر سندھ)، ممتاز علی پھلپھوٹو(روزنامہ عوامی پرچار)، سید اکبر طاہر(روزنامہ جسارت)، نصر اللہ جمالی(روزنامہ سندھ حیدر آباد، مختار احمد عاقل(روزنامہ فرض)، اقبال حسین تونیو(روزنامہ جنگ)، حسینہ جتوئی (روزنامہ موہل) نصیر احمد(روزنامہ سروان)، منصور کورائی(روزنامہ واکا)، فیصل زاہد ملک(روزنامہ پاکستان آبزرور)، مبشر میر(روزنامہ پاکستان کراچی) اور سید تراب شاہ (روزنامہ اوصاف)، ایس ایم منیر جیلانی(جوائنٹ سیکرٹری نے خصوصی دعوت پر شرکت کی، محمد سلیم(روزنامہ سندھ سجاگ)، نثار ناز(روزنامہ سرکار) اور منظرنقوی(روزنامہ دی فنانشل) نے بطور مبصر شرکت کی۔

طاہر حسن/اے پی این ایس

مزید : صفحہ آخر