اندھیرے کا ہالہ

اندھیرے کا ہالہ
اندھیرے کا ہالہ

  



ملتان کینٹ کے محفوظ پان والے چوک پر ایک موچی بیٹھاہے، اب تو اس کی سفید براق داڑھی ہے، لیکن جب وہ ساٹھ کی دہائی میں وہاں آیا تھا تو ایک جوان اور خوبرو لڑکا تھا۔ ہم جب صبح سکول جاتے تو اسے دیکھتے کہ سڑک پر اپنے اردگرد کی زمین صاف کر رہا ہے۔ کبھی ہلکا چھڑکاؤ بھی کرتا، کیونکہ اس نے سارا دن وہاں بیٹھنا ہوتا تھا…… چونکہ ہمارا گھر ساتھ ہی تھا، اس لئے شام کے وقت اس کے پاس بیٹھ جاتے اور اس کی باتوں کے ساتھ اسے جوتیوں کی مرمت کرتے بھی دیکھتے۔ جو ملتان میں رہتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ صدر بازار کینٹ اور اس چوک کی کیا اہمیت ہے؟یہ وہ گزرگاہ ہے، جہاں سے محترمہ فاطمہ جناح بھی گزریں اور ذوالفقار علی بھٹو بھی، بے نظیر بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کا بھی یہاں سے گزر ہوا،بلکہ کئی کئی بار ہوا۔ یہ موچی جواب موچی بابا ہو گیا ہے، ان تمام مناظرکا عینی شاہد ہے۔ گویا اس نے ”انقلاب“ کی ساری داستان اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، اصغر خان، ولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان،سب اسی چوک میں کھڑے ہو کر جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو جب بھی ملتان ائرپورٹ سے نواب صادق حسین قریشی کے وائٹ پیلس پرانا شجاع آباد روڈ جاتے تو وہ بھی یہیں سے گزرتے اور اس چوک پر رک کر لوگوں سے خطاب کرتے۔ چوک کے ساتھ ہی ایک ”گڈ فٹ ہٹلرز“ شاپ تھی جو پیپلز پارٹی کینٹ کا دفتر بھی تھا۔ذوالفقار علی بھٹو وہاں بھی رک کر کارکنوں سے ملاقات کرتے۔ یوں ملتان میں سب سے زیادہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز یہی صدر بازار ہوتا تھا۔ جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو پہلی بار اپنے آبائی شہر آمد پر انہوں نے بجائے سیدھا اپنے گھر جانے کے، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روایت کو نبھاتے ہوئے صدر بازار سے گزر کر جانے کا فیصلہ کیا۔ موچی بابا یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا ہے، لیکن اس کی حالت نہیں بدلی، نہ ہی زمین سے اٹھ کر کسی کرسی پر بیٹھنا نصیب ہوا ہے۔ شب روز خان نسلاً پٹھان ہے اور کئی دہائیاں پہلے خیبرپختونخوا سے ہجرت کرکے ملتان آیا اور یہیں بس گیا۔ بہت معروف اور مقبول شخصیت ہے اور زندہ دل بھی۔ آج بھی لوگ اس سے کوئی مذاق کرتے ہیں تو اس کا جواب اسی انداز میں دیتا ہے۔

کل مَیں صدر بازار گیا تو حسبِ معمول اس کے پاس جا بیٹھا۔ اس نے گاہکوں کے لئے ایک چھوٹی سی پیڑھی رکھی ہوئی ہے۔ اس نے حال احوال پوچھا اور پھر اچانک یہ سوال داغ دیا: ”آٹا ملا ہے“؟…… مَیں نے کہا شب روز خان یہ کیا مذاق ہے؟ کہنے لگا آج کل تو سب یہی پوچھتے ہیں، حال چال کا اندازہ اسی سے لگاتے ہیں۔ پھر کہنے لگا، تمہیں یاد ہے ذوالفقار علی بھٹو دور میں تم اور مَیں روشن کارڈ لے کر تھانہ کنیا کے ساتھ بنے ڈپو پر جاتے تھے،لائن میں لگتے تھے، کبھی تمہاری باری پہلے آ جاتی تھی اور کبھی میری، کئی بار تو مَیں نے تمہیں اپنی باری دی، تاکہ تم جلدی آٹا چینی لے جاؤ۔ مَیں نے کہا ہاں مجھے سب یاد ہے۔ اس زمانے میں راشن کارڈ ہمیں بہت عزیز ہوتا تھا، بہت قیمتی بھی، آج کے شناختی کارڈ سے بھی زیادہ، کیونکہ اگر وہ کارڈ گم جاتا تو راشن بھی بند ہو جاتا تھا، پھر بازار سے مہنگا آٹا اور چینی خریدنا پڑتی تھی۔ کہنے لگا:”یار! زیادہ آج مجھے تو اپنا وہ زمانہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اس میں تو بڑی خوشحالی تھی، راشن پر چیزیں ملتی تھیں، پر مل جاتی تھیں اور سستی بھی ہوتی تھیں، اب تو مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور پھر ملتی بھی مہنگی ہیں۔ کیا ہم نے یہی ترقی کی ہے؟…… اب مَیں اسے کیا سمجھاتا، مَیں تو پڑھ لکھ کر پروفیسر بن گیا تھا، خوشحال بھی ہو گیا تھا، گاڑی، بڑا گھر، بینک بیلنس، معقول ماہانہ آمدنی، غرض سب کچھ تو میرے پاس آ گیا، مگر وہ زمین پر بیٹھا رہا، جوتیوں کی مرمت سے اس کا دن شروع ہوتا اور شام کو ختم ہو جاتا۔ اس کی آمدنی تو اس تیز رفتاری سے نہیں بڑھی، جس شدت سے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سو اس کا یہ کہنا تو بنتا ہے کہ چالیس پینتالیس سال پہلے کا پاکستان خوشحال تھا، آج بدحال ہے۔ اسے آج بھی بدحالی کا احساس نہ ہوتا،اگر آٹا 70روپے کلو اور چینی 85 روپے کلو نہ خریدنا پڑتی۔ وہ پاکستانی غریبوں کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہے، جو غریب پیدا ہوئے اور غربت کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے، لیکن ان کی ایمانداری، محنت، ملک سے محبت اور انسانی جذبوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک زمانے میں شب روز خان پورے دن میں بڑی مشکل سے پچاس روپے کماتا تھا۔ پالش کرنے کے پچاس پیسے لیتا اور اچھی مرمت کا روپیہ دو روپیہ معاوضہ مل جاتا، لیکن اس کی گذر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔ وہ اپنا گذارا بھی کرتا اور ماں باپ کو بھی پیچھے پیسے بھیجتا۔ آج وہ سات آٹھ سو روپے روزانہ کما لیتا ہے، مگر اسے یوں لگتا ہے، وہ غریب ہو گیا ہے۔ بوڑھا ہونے کی وجہ سے اپنے اور بیوی کے لئے جب گلزار میڈیکل ہال سے، جس کے سامنے وہ نصف صدی سے بھی زائد عرصے سے بیٹھا ہے، کوئی دوائی لینے جاتا ہے تو یوں لگتا ہے، جیسے اس نے قطرہ قطرہ کر کے جو پیسے سارے دن میں کمائے ہیں، انہیں ایک دوائی کی قیمت اپنے ساتھ بہا لے گئی ہے۔

کل وہ ایک اور بات پر بھی رو پڑا۔ اس نے جیب سے بجلی کا بل نکال کر دکھایا۔ کہنے لگا، پچھلے سال تو سردیوں میں بل صرف پانچ چھ سو کا آتا تھا، اب پانچ چھ ہزار کا آ رہا ہے۔ ذرا دیکھ کر بتائیں کہ بجلی کتنی جلی ہے؟ میرے گھر میں تو صرف بلب جلتے ہیں، فریج بھی نہیں۔ مَیں نے بل دیکھا تو موجودہ یونٹس صرف 70جلے تھے اور موجودہ بل 407روپے تھا۔ باقی چار ہزار روپے ایف۔ اے۔پی سرچارج کی مد میں درج تھے، یوں بل 4407 روپے بن گیا تھا۔ اب مَیں اسے کیسے سمجھاتا کہ اس حکومت نے عوام پر ستم ڈھانے کے کیا کیا راستے ایجاد کر لئے ہیں؟ ہر ماہ اربوں روپے ایف۔ اے۔پی سرچارج کے نام پر وصول کئے جا رہے ہیں، نہ تو اس کا کوئی فارمولا عوام کو معلوم ہے اور نہ ہی کہیں شنوائی ہوتی ہے۔ پہلے تو چیف جسٹس آف پاکستان ایسی زیادتیوں کا ازخود نوٹس لے لیتے تھے، اب تو دنیا چیخ رہی ہے، لوگ آنسو بہا رہے ہیں، مگر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ مَیں شب روز خان کا مایوس اور روہانسا چہرہ دیکھ کر سوچنے لگا، اگر کوئی اس شخص کی یادوں کا ایکسرے کرے، ان میں جھانک کر دیکھے،ان کی گہرائی میں جائے تو اسے اندازہ ہو کہ پاکستان میں عوام کے ساتھ کیا کچھ ہوا ہے، انہیں کیسے کیسے خواب دکھا کر مارا گیا ہے؟ مجھے تو وہ دن بھی یاد ہیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی راج کی مہم چلائی تھی، جب وہ ملتان کے کھر ہاؤس میں بیٹھ کر کارکنوں کو یہ نوید سناتے تھے کہ اب ان کا راج آنے والا ہے۔ مَیں اور شب روز خان کتنی روشن آنکھوں سے وہ منظر دیکھتے تھے۔ لڑکپن میں ہونے کے باوجود ہمیں یوں لگتا تھا، جیسے ہم بادشاہ بننے والے ہیں۔ ان دنوں شب روز خان اپنے ٹھیئے پر بیٹھ کر بہت چہکتا، ذوالفقار علی بھٹو کی باتیں سناتا، خوشی سے پھولا نہ سماتا۔ اب کوئی اس شخص کے کرب کا اندازہ لگائے کہ جس نے پچاس سال پہلے جو خواب دیکھے ہوں، پھر پچاس سال تک ان خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھا ہو، اس کے دکھ کا عالم کیا ہو گا؟ اسے چار دہائیاں پہلے کا راشن کارڈ نظام اچھا لگنے لگے اور وہ خواہش کرے کہ کاش وہ دور لوٹ آئے تو اسے کیا ترقی ئ معکوس نہیں کہیں گے؟

اصل پاکستان وہ چند فیصد طبقہ نہیں جو اوپر چلا گیا ہے، اصل پاکستان یہ پاکستانی ہیں، جنہیں اوپر کی آرزو میں دنیا سے ہی جانا پڑا ہے۔ مجھے یاد ہے جب عمران خان اپنی رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں قلعہ کہنہ قاسم باغ پر جلسہ کرنے آئے تھے تو اس دن شب روز خان نے اپنا کام بند رکھا تھا، وہ نئے کپڑے پہن کر جلسے میں شرکت کرنے گیا تھا، اس نے تحریک انصاف کے رنگوں کی ٹوپی بنوائی تھی اور جھنڈا پکڑا تھا۔ مَیں نے اس سے پوچھا تھا کہ اس نے اپنے سامنے سے محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو، نوازشریف اور نجانے کن کن لوگوں کو گزرتے دیکھا ہے، کبھی اُٹھ کر ان کے لئے نعرہ نہیں لگایا، عمران خان کے لئے نعرہ بھی لگا رہا ہے اور جلسے میں شریک ہونے بھی جا رہا ہے؟آخر اس کی وجہ کیا ہے؟کہنے لگا مجھے یقین ہے قائداعظم کے بعد ہمیں سچا لیڈر مل گیا ہے۔ یہ ہماری زندگی بدل دے گا۔ مَیں عمران خان کے ساتھ ہوں،اس کے ساتھ رہوں گا۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے عمران خان دو بڑی سیاسی جماعتوں کو شکست دے کر اقتدار میں آ گئے، مگر یہ کیا، ایسے جنونی حامیوں میں مایوسی کیوں پھیل رہی ہے، کیوں انہیں راشن کارڈ والادور یاد آنے لگا ہے؟ کوئی تو ان کو امید دلائے۔ عمران خان اپنے ذات کی حد تک تو آج بھی ایک اُمید ہیں، لیکن اس اُمید کے اردگرد جو اندھیرے کا ہالہ پروان چڑھ رہا ہے، اسے بھی تو روکنا ضروری ہے۔ اسے کون روکے گا؟ عمران خان ہی یہ کام کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اندھیرا پھیلانے والے تاجروں کے نرغے سے باہر آ سکیں۔

مزید : رائے /کالم