ایوان کے آداب اور سرکاری ٹیکس؟

ایوان کے آداب اور سرکاری ٹیکس؟
ایوان کے آداب اور سرکاری ٹیکس؟

  



اپنے زمانہ رپورٹنگ کے دوران ہمیں پارلیمانی رپورٹنگ کا بہت موقع ملا،زمانہ طالب علمی میں پنجاب اسمبلی کی کارروائی دیکھی اور سُنی تو اپنے پیشہ ئ صحافت کے دوران بھی پنجاب اسمبلی، مغربی پاکستان اسمبلی اور جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے اجلاسوں کی بھی کوریج کی،اس دوران ایوانوں میں ہونے والی سنجیدہ اور پُرمغز بحث سُنی اور رپورٹ کی تو ہنگامہ آرائی کے منظر بھی دیکھے، تاہم آج کے دور میں جو کچھ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہوتا ہے، سابقہ ادوار ان سے کہیں بہتر تھے کہ ان میں کارروائی بھی ہوتی اور پارلیمان میں بہتر ماحول بھی پایا جاتا تھا، لیکن حالیہ دور میں جو کچھ ان ایوانوں میں چاہے، ایوانِ بالا، ایوانِ زیریں اور صوبائی ایوان ہوں، اکثر ہوتا ہے وہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔ ایوان میں جو بھی کارروائی ہوتی ہے وہ ریکارڈ ہو جاتی اور ٹائپ بھی ہوتی ہے کہ ایوان میں اگر ریکارڈنگ کا نظام ہے تو سٹینو گرافر بھی ہوتے ہیں، جو شارٹ ہینڈ میں کارروائی نوٹ کر کے ٹائپ کرتے ہیں،یہ کئی اہلکار ہیں جو باری باری ڈیوٹی دیتے ہیں۔ایک صاحب خاص وقت تک بیٹھ کر کارروائی نوٹ کرتے اور پھر دوسرے اہلکار کے آنے پر جا کر وہ حصہ ٹائپ کر آتے ہیں،یوں ایوان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ ریکارڈ ہو جاتا ہے،اب تو سی سی ٹی وی کیمروں کا بھی اہتمام ہے جو ویڈیو بناتے رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تو ایک پارلیمینٹ چینل بنا دیا گیا ہے جو ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کی کارروائی نشر کرتا ہے اور یہ ریکارڈ بھی ہوتی ہے یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایوان میں ہونے والی کارروائی ہر طرح سے محفوظ ہوتی ہے اور پھر یہ ایوان کی لائبریری میں کتابی اور اب آڈیو، ویڈیو صورت میں موجود ہے۔اگر اراکین محترم استفادہ کرنا چاہیں تو لائبریری ایک نعمت ہے،جہاں ایوان میں ہونے والی بحث، تمام گفتگو اور رولنگز بھی محفوظ ہیں۔یہ سب عرض کرنے کا مقصد ہے کہ اس دور میں ان ایوانوں کی جو صورتِ حال ہے،وہ پہلے جیسی نہیں، ہماری گذارش یہ ہے کہ یہ حالت بتدریج ہوئی، سابقہ ادوار میں ہنگامہ آرائی ہوتی رہی، کبھی کبھار شدت بھی ہوئی تاہم الزامات کی جو بوچھاڑ اور بدتہذیبی اب ہوتی ہے۔ ایسی پہلے نہیں ہوتی تھی، یوں بھی70والی اسمبلیوں کے بعد جو ادوار آئے، اور مجلس شوریٰ سے منتخب ایوانوں تک پہنچے ان میں اگر ہنگامے ہوئے تو رپورٹنگ کے انداز بھی بدل گئے،ہمارے ساتھیوں نے محنت سے جی چرایا، سنجیدہ بحث کی، رپورٹنگ سے توجہ ہٹا کر ہنگاموں پر مرکوز کر لی، چنانچہ جہاں ایوان کے کلچر میں تبدیلی آئی وہاں صحافتی کلچر بھی تبدیل ہوا اور اب زیادہ توجہ اسی پر رہتی ہے کہ ایوان میں فقرے بازی، بلکہ ہنگامہ آرائی ہو تو چٹ پٹی خبر بنے۔ گذشتہ روز (جمعہ) پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اسے سابقہ ادوار سے بدتر قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ تہذیب کی دھجیاں اُڑا دی گئیں، جو مکالمے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان ہوئے ان کو رپورٹ کرتے وقت بھی احتیاط کی گئی ہے، ہم کوئی منصف نہیں کہ فیصلہ کریں، کس نے کیا کِیا۔ یہ سب اسمبلی ریکارڈ میں ہے،لیکن یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ ایوان عوام کے ٹیکسوں سے چلتے ہیں اور منتخب اراکین کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ وہ عوامی ووٹ لے کر یہاں پہنچے ہیں۔اگر یہی سچ ہے تو پھر یہاں عوام ہی کے مسائل کی بات ہونا چاہئے،لیکن یہاں باقی سب کچھ ہوتا ہے، سوائے عوامی مسائل پر گفتگو کے، اور یہی کچھ جمعہ کی کارروائی کے دوران ہوا۔

ہمارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبر زیدی فرماتے ہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے، ان کا یہ کہنا اس حوالے سے ہے کہ انکم ٹیکس بچایا جاتا،سیلز ٹیکس چوری ہوتا ہے، تاہم ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ چیئرمین ایف بی آر جو ایک بڑے ٹیکنو کریٹ ہیں، یہ فرما دیں کہ یہ جو حکومتی اور حکومتی اداروں کا نظام عوام کے مسائل سے اغماض برت کر چل رہا ہے۔ یہ کن سے وصول کئے جانے والے پیسوں سے چلتا ہے۔یہ سب ہماری جیبوں سے نکلنے والے پیسے ہیں،ہر شخص خریدار ہے اور جو بھی کوئی جو بھی شے خریدتا ہے،اس پر کئی قسم کے ٹیکس ادا کرتا ہے اور پھر یہی عوام ہیں،جو یوٹیلٹی بلوں کے نام پر بھی لوٹے جا رہے ہیں۔یہ ابھی کل کی بات ہے کہ چکن کی اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیوں نے اپنی اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے،اس کی ایک معمولی مثال یہ ہے کہ ”چکن نگٹس“ جو بچوں کے لئے لا کر استعمال کئے جاتے ہیں ان کا بڑا پیک500روپے کے لگ بھگ تھا جو اب800روپے سے اوپر ہو گیا،دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ان اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر کوئی نیا ٹیکس لگا دیا گیا ہے،چنانچہ یہ ٹیکس مینو فیکچررز تو نہیں دیں گے، پر یہ ٹیکس سھی اب قیمت بڑھا کر عوام ہی سے وصول کیا جا رہا ہے،اس سے بھی پہلے اسی حکومت نے درآمد کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی ٹیکس بڑھائے اور لگائے، حتیٰ کہ بچوں کے پیمپر اور فوڈ کی اشیاء پر بھی ٹیکس عائد کر دیئے گئے، ان کی شرح والی ایک ہی مثال کافی ہو گی کہ اٹلی سے درآمد ہونے والے ایک مکھن جو زیتون کے تیل سے بنتا ہے اور دِل کے مریضوں کے لئے مفید ہے، کی قیمت 400روپے تھی، اب یہی پیک جو 400گرام پر مشتمل ہے، قریباً1000روپے کا ہو گیا۔یوں امراضِ قلب والے بے چارے مریض ایک مفید مکھن سے محروم ہو گئے کہ اتنی قیمت میں نہیں خریدا جا سکتا۔یہی حال دوسرے فوڈ سپلیمنٹ، حتیٰ کہ ادویات کا بھی ہے اور یہ سب ٹیکس بالآخر صارف کی جیب سے ہی جاتے ہیں تو محترم چیئرمین اور کون سا ٹیکس وصول کرنا چاہتے ہیں، یہاں تو پانی اور بجلی سے لے کر سوئی گیس کے استعمال تک بھی سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے اور یہ بھی صارف ہی دیتا ہے اور اس میں کسی کا لحاظ نہیں، جو بجلی، گیس، پانی اور فون استعمال کرے گا اسے تو یہ سب ادا کرنا ہو گا،حتیٰ کہ پانی کے بل میں جو صفائی اور سیوریج کا بل شامل ہوتا ہے ان پر بھی سیلز ٹیکس ادا کیا جاتا ہے، تو وہ کون سے ٹیکس ہیں جو لوگ نہیں دیتے، وہ صرف اور صرف انکم ٹیکس ہے، ورنہ یہاں تو سانس لینے پر بھی ٹیکس عائد ہے۔محترم! شبر زیدی صاحب کی خدمت میں یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ لوگ اس لئے ٹیکس سے کتراتے ہیں کہ آپ کے محکمے بہت تنگ کرتے اور ہر ایک کو بے ایمان تصور کرتے ہیں اور پھر آپ حضرات بالواسطہ ٹیکسوں کی شکل میں ایک ہی شے پر بار بار ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں، آپ خود دیکھ لیں کہ خام مال کی درآمد پر ٹیکس، پھر اس خام مال سے بنی شے پر ٹیکس اور پھر اس پر سیلز ٹیکس، ہم تو ایک ہی شے پر تین بار سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ یہ سارے بالواسطہ ٹیکس کریں اور سادہ طریقے سے براہِ راست ایک یا دو ٹیکس وصول کر لیں، چاہے شرح بڑھا لیں آپ کو ٹیکس مل جائے گا۔

مزید : رائے /کالم