قبائلی اضلاع کی تمام تر محرومیوں کا زالہ کرینگے:محمود خان

قبائلی اضلاع کی تمام تر محرومیوں کا زالہ کرینگے:محمود خان

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کو نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی ترجیحی بنیادوں پر ممکن بنانے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے قبائلی ضلع باجوڑ میں ناخقی ٹنل کی مرمت اور آپریشنلائزیشن کیلئے مطلوبہ لاگت اور اس مقصد کے لئے پی کے ایچ اے کو درکار سٹاف کی بھرتی کیلئے 14نئی آسامیوں کی تخلیق کی منظوری دی ہے، اور ہدایت کی ہے کہ ان آسامیوں پر مقامی افراد بھرتی کئے جائیں۔ اُنہوں نے پی کے ایچ اے کے قبائلی اضلاع کے سٹاف کیلئے تین گاڑیوں کی خریداری کی بھی منظوری دی ہے، اور کہاہے کہ ناخقی ٹنل کی آپریشنلائزیشن سے نہ صرف قبائلی ضلع باجوڑ کے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ قبائلی ضلع مہمند اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام بھی اس ٹنل سے استفادہ کریں گے۔ اُنہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور دیگر پسماندہ علاقوں کی مصروف اور بڑی شاہراہوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ صوبے میں ذرائع آمد ورفت کی مطلوبہ معیار کے مطابق بہتری حتمی مقصد ہونا چاہئے جس سے نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر ہوں گی بلکہ سیاحت کے فروغ اور صنعت و سرمایہ کاری کی بحالی میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں خیبرپختونخوا ہائی ویز کونسل کے 18 ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، ایم ڈی پی کے ایچ اے اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو ناخقی ٹنل کے قیام، آپریشنلائزیشن و کمانڈ، مرمت، لاگت اور پیشرفت پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ناخقی ٹنل ایف ڈبلیو او کی زیر نگرانی 2407.432 ملین روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا ہے، جس کی کل لمبائی 754 میٹر ہے جبکہ ٹنل کیریج وے 8.20 میٹر ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ناخقی ٹنل کے آپریشن اور مرمت کیلئے پی کے ایچ اے 14 آسامیاں تخلیق کرے گی جن میں ٹنل انچارج کی ایک آسامی، سی سی ٹی وی روم آپریٹرکی دو، الیکٹریشن کی دو، پلمبر کی ایک، کک کی ایک، سویپر کی ایک جبکہ سکیورٹی گارڈ کی چھ آسامیاں شامل ہیں۔ ان آسامیوں پر مقامی افراد بھرتی کئے جائیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ناخقی ٹنل کی آپریشنلائزیشن و مرمت پر کل تخمینہ لاگت 15.594 ملین روپے ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے بھر بشمول قبائلی اضلاع میں سڑکوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری و بحالی کی تکمیل ممکن بنائی جائے گی۔نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں عوام کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے عوام کی تمام تر محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ ہم نے قبائلی اضلا ع کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لا کھڑا کرنا ہے، اس مقصد کے لئے تمام محکموں کو دیر پا منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ نئے اضلاع کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس مقصد کے لئے خطیر وسائل مختص کئے گئے ہیں، جن کی شفاف انداز میں ٹائم لائن کیمطابق یوٹیلائزیشن ناگزیر ہے، تاکہ قبائلی عوام کو جلد ریلیف دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے مستقبل کا تعین ہو چکا ہے، اب یہ علاقے صوبے کا مستقل حصہ اور خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔

محمود خان

مزید : صفحہ اول