پاکستان بنگلہ دیش ٹی 20سیریز۔۔۔۔شاہینوں نے میدان مار لیا

پاکستان بنگلہ دیش ٹی 20سیریز۔۔۔۔شاہینوں نے میدان مار لیا

  



کرکٹ پھرجیت گئی، پاکستان اوربنگلہ دیش کے درمیان بادلوں کی آنکھ مچولی اورلاہورکے سہانے موسم میں سجے کرکٹ میلے نے اپنارنگ خوب جمایا۔جہاں شائقین کرکٹ صرف پاکستان کی ٹیم کوہی داددینے نہیں پہنچے بلکہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے لئے بھی تحسین کے جذبات لے کرسٹیڈیم آئے۔چہروں پرایک طرف پاکستان کاجھنڈاتھا تودوسری طرف بنگلہ دیش کاپرچم جس سے ثابت ہوتاہے کہ پاکستانی قوم امن، کھیل اورثقافت کی دلدہ ہے۔پاکستان اوربنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تیسرا اورآخری ٹی20میچ کل قذافی سٹیڈیم لاہورمیں کھیلاجائے گا۔پاکستان اوربنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹی 20میچ میں قومی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اورپہلے میچ کی وننگ الیون ہی میدان میں اتری۔ پاکستانی کھلاڑیوں کے نام اورشرٹ نمبریہ ہیں۔بابر اعظم کپتان شرٹ نمبر56، احسان علی شرٹ نمبر93،محمد حفیظ شرٹ نمبر8، شعیب ملک شرٹ نمبر18، افتخار احمدشرٹ نمبر95، محمد رضوان شرٹ نمبر16، عماد وسیم شرٹ نمبر9، شاداب خان شرٹ نمبر29، شاہین شاہ آفریدی شرٹ نمبر40، محمد حسنین شرٹ نمبر87 اور حارث رؤف شرٹ نمبر97۔جبکہ ریزروکھلاڑیوں میں عمادبٹ شرٹ نمبر37، خوش دل شاہ شرٹ نمبر72، عثمان قادر شرٹ نمبر91، اور محمدموسیٰ شرٹ نمبر70شامل ہیں۔جبکہ پاکستان کے خلاف دوسرے ٹی 20میچ میں بنگلہ دیش کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ر محمد متھن کی جگہ مہدی کو شامل کیا گیا۔بنگلہ دیش کی ٹیم ان کھلاڑیوں محمد محموداللہ کپتان، تمیم اقبال، محمد نعیم، مٹن داس، مہدی حسن، سومیا سرکار، عفیف حسین، امین الاسلام، الامین حسین، شفیع الاسلام اور مستفیض الرحمٰن پر مشتمل تھی۔جبکہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کا بنگلہ دیش کیخلاف پلہ بھاری ہے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود ہے بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی جیت کا تناسب 80 فیصد ہے۔ اب تک باہمی10 میچوں میں سے 8 پاکستان اور 2 بنگلہ دیش نے جیتیہیں پاکستان 2008 میں بھی بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کی میزبانی کرچکا ہے۔ 20 اپریل 2008 کو کراچی میں پاکستان102 رنز سے کامیاب ہواتھا۔ دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2016 میں مدمقابل آئیں تھیں۔ جہاں گرین شرٹس 55 رنز سے سرخر ہوئے تھے۔دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ 2 ستمبر 2007 کو کینیا کے شہر نیروبی میں آمنے سامنے آئیں تھیں، جہاں پاکستان نے 30 رنز سے کامیابی اپنے نام کی۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش کے خلاف سیریز میں فوکس ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن کو برقرار رکھنے پر ہو گا۔ بہترین رزلٹ دینے کی کوشش کریں گے۔ بابر اعظم نے کہا کہ شعیب ملک سینئر کھلاڑی ہیں ان کی موجودگی میں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کے حفیظ اور شعیب ملک اس وقت ٹیم کا حصہ تھے جب پاکستان ٹیم نمبر ون بنی تو میں نے سوچا ان کو دوبارہ ٹیم میں ہونا چاہیے۔ شاہین شاہ آفریدی اچھی بولنگ کر رہے ہیں، حارث روف بھی بی بی ایل میں اچھی بولنگ کر کے آئے ہیں۔ بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش ٹیم کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ بنگلہ دیش ایک اچھی ٹیم ہے جس میں سینئر اور جونئیر کھلاڑی شامل ہیں، کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لیا جا سکتا۔ سیریز میں اچھا کھیلنا ہو گا۔ بابر اعظم نے کہا کہ یہ پریشر نہیں کہ یہاں سری لنکا کے خلاف اچھا نہیں کھیلے تھے، وہ سیریز گزر گئی اب اس سیریز پر توجہ ہے، اپنی پوری قوت کے ساتھ کھیلیں گے۔ موسم کی وجہ سے وکٹ سلو ہو سکتی ہے لہذا اسی کے مطابق کمبی نیشن بنائیں گے، لگتا ہے دھوپ نکلنے سے فائدہ ہو گا، اس وکٹ پر 180سے 190کے درمیان رنز بننے چاہئیں۔ بنگلہ دیش کے اسٹار کرکٹر مشفق الرحیم کو بھی آنا چاہیے تھا۔ میرا مشفیق الرحیم کے لیے پیغام ہے کہ اگر یہ کھلاڑی آئے ہیں تو انہیں بھی آنا چاہیے تھا لیکن نہ آنے کا فیصلہ ان کا ذاتی ہے۔جبکہ مشفیق الرحیم اور کوچنگ اسٹاف کے پانچ اراکین دورہ پاکستان سے دستبردار ہو گئے تھے۔ مشفیق نے اس فیصلے کی وجہ اپنے اہلخانہ کے تحفظات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹی20، ٹیسٹ یا ون ڈے کسی بھی میچ کے لیے پاکستان کا دورہ نہیں کریں گے۔مشفق الرحیم نے کہا کہ کہنا تھا کہ میرے لیے بنگلہ دیش کے لیے نہ کھیلنے سے بڑا کوئی گناہ نہیں لیکن میں نے پاکستان سپر لیگ کے مکمل طور پر پاکستان میں انعقاد کی خبر سن کر ہی کسی بھی قسم کی پیشکش سے انکار کردیا تھا کیونکہ میرے اہلخانہ راضی نہیں۔ دوسری جانبسرفراز احمدٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کے کامیاب ترین کپتان ہیں جنھوں نے37میں سے29میچز جیتے ہیں۔ 2016 سے 2018تک دو سال میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی غیرمعمولی رہی۔ اس دوران پاکستان نے سرفراز احمد کی قیادت میں مسلسل گیارہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتیں۔ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 90میچز جیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ لیکن اب پاکستان کی ٹاپ پوزیشن خطرے میں ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش ایک میچ ہارا تو عالمی رینکنگ میں دوسرے اور تینوں ہارنے کی صورت میں تیسرے نمبر پر چلا جائے گا۔ پاکستان 2009میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی جیت چکا ہے۔ 2019پاکستان کیلیے انتہائی مایوس کن سال رہا۔ جنوبی افریقاکے خلاف اسے شعیب ملک کی قیادت میں تین میچوں کی سیریز میں دو ایک سے شکست ہوئی۔ سرفراز احمد کی قیادت میں انگلینڈ سے واحد میچ ہارنے کے بعد پاکستان کو عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر کی ٹیم سری لنکا کے خلاف وائٹ واش کی ہزیمت کا سامنا رہا۔ سرفرازاحمد کپتانی سے ہٹادیے گئے اور آسٹریلیا کے دورے میں بابراعظم کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی لیکن اس دورے میں پاکستان سیریز کے تین میں سے دو میچ ہارگیا۔ ایک میچ بارش کی وجہ سے نامکمل رہا۔ اسی دوران عالمی نمبر دو ٹیم انگلینڈ کو نیوزی لینڈ نے شکست دے دی تھی اس طرح پاکستان کی نمبر ایک عالمی رینکنگ آسٹریلوی دورے میں ختم ہونے سے بچ گئی تھی۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کے بعد دیگر ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی، پی سی بی اپنی جانب سے آئی سی سی کے 3ایونٹس کی میزبانی کے لیے بھی پیش کش کرے گا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ایشیا کپ کی میزبانی چھوڑنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 8سال میں آئی سی سی کے 30ٹورنامنٹس ہونے ہیں، ایشیا کپ کی میزبانی بنگلہ دیش کو دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، ایم سی سی کے خلاف دو میچز قذافی اسٹیڈیم اور 2 ایچیسن کالج میں کھیلے جائیں گے۔وسیم خان نے بتایا کہ ایم سی سی ٹیم کی قیادت کمار سنگاکارا کریں گے اور ٹیم کے کھلاڑیوں میں روی بوپارا، سمت پٹیل، معین علی بھی شامل ہوں گے۔پی سی بی کے سی ای او نے بتایا کہ ایچیسن کالج میں لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے خلاف دو میچ کھیلے جائیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بار ہم پوری پی ایس ایل پاکستان میں کروانے جا رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو مانو سواہنی کا دورہ پاکستان اختتام پذیر ہوگیا۔ 2 روز ہ دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے اسلام آباداور لاہور میں مثبت اور مفید ملاقاتیں کیں۔ پی سی بی ہیڈ کوارٹر اور قومی کرکٹ اکیڈمی کا دورہ کیا۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کہا کہ آئی سی سی کے 2 رکنی وفد کے ساتھ اگلے آٹھ سالہ سائیکل کے حوالے سے بڑی مثبت اور تعمیری میٹنگز ہوئی ہیں۔ یہ جاننا مفید رہا کہ آئی سی سی ہم کیا توقعات رکھتی ہے۔ ان کی روشنی میں بورڈ اپنی پیشکش سے متعلق دستاویزات بہتر انداز میں تیار کر سکے گا۔ میٹنگ میں چیئرمین احسان مانی، چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اور چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر بھی موجود تھے۔ آئی سی سی کے جی ایم کمرشل کیمبل جیمیسن بھی ساتھ تھے۔ ترجمان بورڈ کے مطابق دورے کا مقصد 2023کے بعد آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی پر مشاورت ہے۔ قومی اکیڈمی میں ڈائریکٹر مدثر نذر نے انہیں بریف کیا۔ آئی سی سی کا 2 رکنی وفد نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہنچا۔ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پریزینٹیشن دی گئی۔ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو مانو سواہنی کا دورہ آئی سی سی کے 2023سے 2031کے درمیان شیڈول ایونٹس کے حوالے سے اپنے ممبرز کو بریف کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اس دور میں آئی سی سی نے مینز کے آٹھ، ویمنز کے آٹھ، چار مینز انڈر 19اور چار ویمنز انڈر 19 کے ایونٹس شامل ہیں۔اجلاس میں مانو سواہنی اور کیمبل جیمیسن نے ان ایونٹس کی میزبانی کی پیشکش، اس کے طریقہ کار اور متوقع ٹائم لائنز کے بارے میں جامع اور تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ مانو سواہنی نے پی سی بی کو کرکٹ کی پروموشن گلوبل حکمت عملی، ڈویلپمنٹ اور عالمی کرکٹ کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بھی اپ ڈیٹ کیا۔

مزید : ایڈیشن 1