کروناوائر س، عالمی لیبارٹر یوں سے مدد طلب پر مسافروں کی سکر یننگ

کروناوائر س، عالمی لیبارٹر یوں سے مدد طلب پر مسافروں کی سکر یننگ

  



ملتان+کوٹ ادو(وقائع نگار +نامہ نگار)کرونا وائرس کے ملتان میں 2کیس سامنے آ گئے کرونا وائرس کے شبہ میں نشتر ہسپتال میں لائے جانے والے ایک مریض مریضوں کا تعلق چائنہ جبکہ ہے۔ پاکستان نے کرونا وائرس کی تشخیص دوسرا چائنہ پلٹ کپتانی ہے کیلئے عالمی لیبارٹریوں سے مدد مانگ لی ادھر پاکستان میں موجود تمام چائنیز کے ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے تفصیل کے مطابق ملتان میں چائنہ سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کو کرونا وائرس کے شبہ میں نشتر ہسپتال ملتان لایا گیا ہے اور یہاں پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ان کا علاج جاری ہے نشتر ہسپتال میں چائنہ کی کمپنی میں کام کرنے والے فینگ فین نامی ورکر کو کرونا وائرس کے شبہ میں نشتر ہسپتال میں لایا گیا ہے جبکہ اس کے ساتھ کام کرنے والا دوسرا مریض بھی نشتر ہسپتال میں زیر علاج ہے کرونا وائرس کے شبہ میں داخل ہونے والے مریضوں کے ٹیسٹوں کو یانگ گانگ کی لیبارٹریوں میں بھیجا جا رہا ہے دوسری طرف پورے ملک کی طرح نشتر ہسپتال میں کام کرنے والے پیرا میڈیک اور ڈاکٹروں میں بھی خون وائرس پھیل گیا ہے پاکستان کی تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود پاکستان میں اور خصوصاً ملتان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی موجودگی لمحہ فکریہ ہے اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو مزید کیس بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ کرونا وائرس کے شبہ میں ایک اور شخص کو نشتر ہسپتال میں داخل کروادیا گیا، اس حوالے سے نشتر ہسپتال انتظامیہ کے مطابق 24جنوری کو ملتان کے رہائشی رحمت اللہ چین سیواپس ا?ئے تو طبیعت ناساز ہونے پرانہیں گزشتہ روز نشتر ہسپتال ایمرجنسی لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے رحمت اللہ کو کرونا وائرس کے شبہ میں وارڈ نمبر 27میں منتقل کردیا،ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ شخص روزگار کے سلسلے میں چین میں مقیم تھااور وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوسکتے ہیں،تاہم کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے ملتان سمیت ملک بھر میں کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے، ڈاکٹروں کے مطابق کرونا وائرس لاعلاج مرض ہے جس کا پوری دنیا میں علاج دریافت نہیں ہواہے کرونا وائر س چھوت کا مرض ہے جبکہ کرونا وائرس جانوروں سے انسان میں مبتلا ہوتا ہے اور کرونا وائر س کے مرض سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنا چاہئے۔کرونا وائرس کے شبہ میں نشتر ہسپتال میں زیر علاج چینی شخص کے نمونے اسلام آباد بھجوانے کے بعد اسکے قریب رہنے والے تمام افراد کے نمونے حاصل کئے جا رہے ہیں،محکمہ صحت کی ٹیمیں ملتان میں چائنیز کیمپ پہنچ گئیں،چینیوں سمیت انکے قریب رہنے والے ڈرائیور مترجم اور شیف کی معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔واضح رہے چائنا میں دہشت پھیلانے والے کرونا وائرس کے شبہ میں گزشتہ روز رات گئے انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان سے چالیس سالہ چینی شخص کو نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا،چالیس سالہ فینگ فین چند روز قبل چائنا کے شہر (وہان) سے واپس لوٹا تھا اور گزشتہ دو روز سے بخار میں مبتلا تھا جس پر اسے نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈ منتقل کر کے نمونے آج نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلام آباد بھجوا دئیے گئے ہیں جہاں سے چائنیز ایمبیسی کے ذریعے نمونے بیروت یا ہانگ کانگ بھجوائے جائیں گے،ادھر شبہ میں پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد محکمہ صحت ملتان کے افسران کو ہوش آ گیا جس کے بعد محکمہ صحت کی ٹیمیں انڈسٹریل اسٹیٹ چائنیز کیمپ روانہ ہو گئی ہیں جہاں بہت سے چینی باشندے رہائش پذیر ہیں جہاں سے تمام افراد کی معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔اس کے علاؤہ گزشتہ شب ایک اور مریض بھی کرونا وائرس کے شبہ میں داخل ہوا ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے کرونا وائرس کے لئے ہسپتالوں میں فوکل پوائنٹس نامزد کرنے،ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ(ایچ ڈی یو)فعال کرنے کا حکم دیا ہے۔جبکہ مریضوں معلومات سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب،ڈائریکٹر وبائی امراض کنٹرول پنجاب کے علاوہ کسی اور کو دینے سے روکدیا ہے۔محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے پہلے سے نامزد فوکل پوائنٹس کو ائیر پورٹ ہیلتھ آفیسر سے رابطہ رکھنے،مشتبہ کرونا وائرس مریض کی نزدیکی ہسپتال کے ایچ ڈی یو میں فوری منتقلی کی ہدایت کی ہے۔مشتبہ مریض کی شناخت،نام،موبائل نمبر،طبی ریکارڈ صرف سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب،ڈائریکٹر وبائی امراض کنٹرول پنجاب کو فراہم کیا جائے گا۔ایچ ڈی یو میں ضروری سٹاف،ادویات وغیرہ کی فراہمی 24 گھنٹے یقینی بنائی جائے گی۔متعلقہ ضلع کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اپنے ڈسٹرکٹ سرویلنس کوآرڈینیٹر کے ذریعے مریض کی ہسپتال منتقلی،خون کے نمونے لینا یقینی بنائیں گے۔ہسپتالوں کے شعبہ پتھالوجی کے سٹاف کو کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کے خون کے نمونے لینے کی ٹریننگ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹسٹ کی سہولت ہی دستیاب نہیں ہے۔نشتر ہسپتال میں کرونا وائرس کے شبہ میں داخل پہلے مریض فنگ فان (FING FAN) کا ٹسٹ کروانا بھی مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔فنگ فان چین کا رہائشی ہے اور 21 جنوری کو پاکستان آیا تھا۔وہ ملتان میں انڈسٹریل سٹیٹ میں چائنیز کیمپ میں رہائش پذیر ہے۔اور کرونا وائرس جیسی علامات ظاہر ہونے پر اسے نشتر ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ نمبر 27 میں داخل کروایا گیا ہے۔اس مرض کی علامات میں بخار،کھانسی،سانس میں رکاوٹ،نمونیہ شامل ہیں۔تاہم پاکستان میں ابھی تک کرونا وائرس کے تشخیصی ٹسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔یہ ٹسٹ چین اور دو دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔نشترذرائع کے مطابق مریض کے خون کے نمونے کلچر ٹسٹ کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ)اسلام آباد بھجوائے گئے ہیں۔جبکہ کرونا وائرس کے ٹسٹ کے لئے چینی سفارتخانے نے بھی پاکستان کو کٹس فراہم کی ہیں۔ماہر امراض سینہ پروفیسر ڈاکٹر اعظم مشتاق نے بتایا کہ کرونا وائرس کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔تاہم اینٹی بائیوٹکس دیکر مرض کو قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔اور فی الحال چین کا سفر نہ کریں۔اگر چین میں پہلے سے موجود ہیں تو منہ کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔ہاتھوں کو باقاعدگی سے اور بار بار صابن سے دھوئیں۔کھانسی یا چھینک آنے پر منہ کو ٹشو یا کپڑے سے ڈھانپ لیں۔استعمال کے بعد ٹشو کو مناسب طریقے سے ضائع کریں۔گوشت اور انڈوں کو صحیح طرح سے پکائیں۔جنگلی یا پالتو جانوروں سے غیر محفوظ رابطہ نہ رکھیں۔علاوہ ازیں نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مصطفے کمال پاشا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے شبہ میں نشتر ہسپتال میں زیر علاج چینی شخص کا علاج بدستور جاری ہے کرونا وائرس سے متعلق آگاہی اور معلومات کے لئے فوکل پرسن نامزد کردیا گیا ہے۔چینی باشندے کا مکمل طبی سہولیات دی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نشتر ہسپتال میں دو روز قبل چائنہ کے شہر وہان سے واپس ملتان آنے والے 40 سالہ فینگ فین کو نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ جس کے خون کے نمونے گزشتہ روز نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھجوا دئیے گئے ہیں۔ فیں نگ فین کو عام نزلہ زکام اور گلے کی خرابی کی شکایت کی وجہ سے نشتر ہسپتال لایا گیا تھا۔ چونکہ متاثرہ شخص حال ہی میں چائنا سے واپس آیا تھا اسلئے کرونا وائرس کے شبہ میں مریض کو داخل کر کے نمونے اسلام آباد بھجوا دئیے گئے ہیں تاہم فینگ فین کو گلہ خرابی اور زکام کی ادویات دی گئیں جس سے اسے افاقہ ہوا ہے اور مریض تیزی سے صحت کی جانب گامزن ہے قومی امکان یہی ہے فینگ فین کرونا وائرس کا شکار نہیں ہو گا تاہم احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز کے مطابق مریض کا علاج جاری ہے،جبکہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال کے شعبہ امراض سینہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر انجم نوید جمال کو کرونا وائرس سے متعلق فوکل پرسن بھی نامزد کر دیا گیا ہے۔محکمہ صحت ملتان نے چین سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کے لئے انٹرنیشنل ائیر پورٹ ملتان پر کرونا وائرس کاونٹر قائم کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ملتان ڈویڑن ڈاکٹر سید وسیم الحسن رمزی،چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر منور عباس نے ائیر پورٹ کا دورہ بھی کیا۔کرونا وائرس سکریننگ کاونٹر پر ڈاکٹروں و سٹاف کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔

کرونا وائرس

مزید : صفحہ اول