طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے پائیلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ

طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے پائیلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (ایس ایچ سی سی)نے میڈیکل بائیولوجی اینڈ انفیکشنز ڈیزیز سو سائٹی آف پاکستان(ایم ایم آئی ڈی ایس پی) کے تعاون سے متعدی امراض سے نمٹنے کیلئے چوتھی بنیادی ٹرینگ ورکشاپ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (سویٹ)منعقد کی۔ جس میں ڈاکٹروں، نرسز، سرکاری و نجی اسپتالوں کے انتظامی افسران اور دیگر نے شرکت کی۔ ان اسپتالوں کی ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ایس ایچ سی سی ان صحت کے مراکز کا کلینکل آڈٹ کرے گی۔ڈائریکٹیوریٹ آف کلینکل گورننس اینڈ ٹریننگ ایس ایچ سی سی نے انفیکشن پریونیشن اینڈکنٹرول ٹاسک فورس میٹنگ منعقد کی۔ جس میں چیف ایگز یکٹیو آفیسر ایس ایچ سی سی ڈاکٹر منہاج قدوائی، ڈاکٹر اشرف علی شاہ، ڈاکٹر رفیق خانانی، ڈاکٹر عمران سومرو، ڈاکٹر جبران، مس رفعت، مس روشن اور ڈاکٹر فائضہ بھٹو نے شرکت کی۔ ا س میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک پائیلٹ پروجیکٹ لاڑکانہ کے اسپتالوں میں میں شروع کیا جائے گا جہاں پر طبی فضلے کو ٹھکانے لگانے کیلئے انسرینیٹر کی سہولیات دستیاب ہوں۔ کلینکل ایکسپریٹ ایس ایچ سی سی ڈاکٹر فائضہ بھٹو نے صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی سربراہی میں متعدی امراض سے نمٹنے کے حوالے سے ہونے والی میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ میں انفیکشن کنٹرول اور بچا کیلئے صوبائی اور ضلع سطح پر کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔ڈائریکٹیوریٹ آف لائسنسنگ اینڈ ایکریڈیشن کو 41مزید اسپتالوں نے رجسٹریشن کیلئے درخواستیں جمع کروائیں اور اب تک سندھ بھر سے 10447 درخواستیں وصول ہوچکی ہیں۔ جبکہ 40مزید صحت کے مراکز کو رجسٹریشن سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے جس سے صوبے بھر میں رجسٹرڈ مراکز کی تعداد 9439ہوچکی ہے۔ انسداد شکایات ڈائریکٹیوریٹ کو اسپتالوں سے متعلق 125شکایات اب تک وصول ہوئیں جن میں سے 82کو کامیابی سے حل کیا جاچکا ہے جبکہ 37دیگر محتلف مراحل میں ہیں اور چھ کو قانونی طریقے سے حل کیا جارہا ہے۔

مزید : صفحہ آخر