کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پرانے ڈیٹا پر مبنی ہے ؟ اصل حقیقت سامنے آ گئی ، بہت سے صحافی شرم سے پانی پانی ہو گئے

کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پرانے ڈیٹا پر مبنی ہے ؟ اصل حقیقت سامنے آ ...
کیا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پرانے ڈیٹا پر مبنی ہے ؟ اصل حقیقت سامنے آ گئی ، بہت سے صحافی شرم سے پانی پانی ہو گئے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے حال ہی میں ” کرپشن پرسپیشن انڈیکس “ 2019 کی رپورٹ جاری کی جس میں کرپشن کی پرسیپشن کو 33 سے کم کر کے 32کر دیا گیا ہے ،جبکہ کرپشن کی عالمی رینکنگ میں پاکستان 117 سے تین درجے بڑھ کر 120 پر چلا گیاہے ۔کچھ صحافیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں جن دو ایجنسیوں نے پاکستان کو منفی رینکنگ دی انہوں نے ڈیٹا ن لیگی حکومت کے دور میں 2015 سے 2018 کے درمیان اکھٹا کیا تاہم اب اس کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق اس معاملے پر ” دی نیوز “ میں صحافی ” فخر درانی “ کی رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی کہ کیا واقعی ہی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019 رپورٹ تشکیل دینے میں پرانا ڈیٹا استعمال کیا ہے ؟ تو اس کا جواب ” نہیں “ آیا ہے ، اس رپورٹ کا تفصیلی مطالع حقیقت کو افسانوں سے الگ کر دیتا ہے کیونکہ ا س سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تمام آٹھوں ایجنسیوں نے جو ڈیٹا استعمال کیا وہ بالکل تازہ ترین تھا نا کہ گزشتہ سالوں کا ۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ”سوشل میڈیا پر ایک کنفیوژن پیدا کی گئی کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کچھ ایجنسیوں کا پرانا ڈیٹا استعمال کیاہے ،سوشل میڈیا اور قومی میڈیا پر یہ خبر پھیلائی جاتی رہی کہ چھ ایجنسیوں کی ریٹنگ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، انہوں نے 2019 میں بھی پاکستان کو وہی سکور دیئے جو کہ 2018 میں دیئے گئے جبکہ دو ایجنسیوں نے پاکستان کو کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019 میں 2018 کے مقابلے میں منفی ریٹنگ دی ۔“

تاہم دی نیوز کی جانب سے کی جانے والی تفصیلی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ ” آٹھ متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019 کے سروے کیلئے جو ڈیٹا استعمال کیا گیا وہ بالکل تازہ ترین تھا ۔“بہر حال آفیشل رپورٹ ، 2018 اور 2019 کے ڈیٹا سیٹ کا موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ دو ایجنسیوں نے نہیں بلکہ پانچ ایجنسیوں نے پاکستان کو منفی ریٹنگ دی جبکہ تین ایجنسیوں کی جانب سے مثبت سکور دیئے گئے ۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی فل سورس ڈسکرپشن کو دیکھیں تو وہ ڈیٹا سیٹ اور اس کی دستیابی کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہے ، کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019 کی فل سورس ڈسکرپشن سروے کے دورانیہ کی معلومات بھی فراہم کرتا ہے ، جن پانچ ایجنسیوں نے پاکستان کو منفی ریٹنگ دی انہوں نے تازہ ترین ڈیٹا استعمال کیا جبکہ کسی ایجنسی نے بھی 2015 اور 2016 کے ڈیٹا کو اس مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا ہے ۔کچھ ایجنسیوں کی جانب سے سروے اکتوبر 2019 کے آخر میں جبکہ کچھ ایجنسیوں نے ڈیٹا اکھٹا کرنے کیلئے سروے 2018 میں کیا ۔

کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019 رپورٹ 13 ایجنسیوں کے ڈیٹا پر مشتمل ہے جن میں آٹھ پاکستان کے جائزے سے متعلق ہیں ۔ ان آٹھ سروے سورسز میں سے پانچ نے پاکستان کے بارے میں منفی رائے دی جبکہ تین نے مثبت ریٹنگ دی جن میں ورلڈ بینک بھی شامل تھا ۔

جن ایجنسیوں نے منفی ریٹنگ دی ان میں ” برٹیلسمین فاونڈیشن ٹرانفارمیشن انڈیکش ، گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگ، وائریٹیز آف ڈیموکریسی ، ورلڈ اکنامک فورم اور ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لاءانڈیکس “ شامل ہیں۔

صحافی فخر درانی نے ٹویٹر پر اپنی رپورٹ کے کچھ مندرجات بھی شیئر کیے جن میں ان کا کہناتھا کہ ”ان صحافیوں نے 3 اہم نکات اٹھائے۔ پہلا یہ کہ 6 سروے سورسز کی ریٹنگ unchanged تھی اور انہوں نے پاکستان کو 2019 میں وہی سکور دیے جو کہ 2018 میں دیے تھے۔ان صحافیوں نے یا تو غلط بیانی کی یا پھر 2019 اور 2018 کے سکور کا موازنہ ہی نہیں کیا۔حقیقت میں 5 ایجنسیز نے منفی، 3 نے مثبت سکور دیے۔“انہوں نے کہا کہ ”جن پانچ سروے سورسز نے پاکستان کی سکورنگ منفی کی وہ یہ ہیں۔“

فخر درانی کا کہناتھا کہ ” جن ایجنسیوں نے مثبت سکور دیئے وہ یہ ہیں :“ان کا کہناتھا کہ سوال یہ ہے کہ ٹی وی آکر پروگرام کرنے سے پہلے کیا یہ اتنا چھوٹا سا کام نہیں کرسکتے کہ صرف دو سالوں کے سکورز کا موازنہ ہی کرلیں۔

انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ” ان صحافیوں کا دوسرا نقطہ یہ تھا کہ جن دو ایجنسیز نے نیگٹو سکورنگ کی ان میں سے ایک نے فروری 2015 سے جنوری 2017 کا ڈیٹا استعمال کیا۔ اپنے اس پراپیگنڈا کو سچ ثابت کرنے کے لیے BTI کی 2018 کی رپورٹ کا پہلا صفحہ اور پہل پیراگراف دکھا دیا۔ اسکو کہتے ہیں انٹیلیکچوئل ڈس آنسٹی۔‘‘

صحافی کا کہناتھا کہ ” اگر آپ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی فل سورس ڈسکرپشن دیکھیں جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ڈیٹا کہاں سے لیا۔کب کاہے توصاف طور پر واضح ہوجاتاہے۔جس ایجنسی کا ان صحافیوں نےدعوی کیا کہ 2015 سے2017 تک کا ڈیٹا ہےوہ دراصل 2018 کی رپورٹ کا ہے۔حقیقت میں BTI کی رپورٹ شائع ہی ہردوسال بعد ہوتی۔“

فخر درانی نے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ ” تیسرا پوائنٹ ان صحافیوں نے یہ اٹھایا کہ جس دوسری کمپنی نے نیگیٹو سکورنگ کی وہ ڈیٹا بھی 2017 کا ہے۔ورلڈ جسٹس پراجیکٹ دو طرح کے سرویز کرتی ہے ایک فیس ٹو فیس اور دوسرا ایکسپرٹ اوپینین سروے۔ PI2019 کی فل سورس ڈسکرپشن میں واضح طور پر لکھا ہے کہ انہوں نے اس رپورٹ کےلیے ایکسپرٹ اوپینین سروے استعمال کیا۔ اور یہ سروے مئی 2018 سے نومبر 2018 کے دوران کنڈکٹ کیا گیا۔ایک صحافی ہمیشہ خبر فائل کرنے سے پہلے فیکٹس چیک کرتا ہے اور ویر فائی کرتاہے۔ لیکن اینکرز خود کو اس سے بالا سمجھتے ہیں اور جو انفارمیشن ا ن کو فیڈ کردی جائے بغیر تصدیق کیے چلادیتے ہیں۔اسی سے صحافت کا معیار گرا۔“

مزید : قومی