سینئر صحافی ارشد شریف بھی وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے،انتہائی مشکل سوال پوچھ لیا

سینئر صحافی ارشد شریف بھی وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے،انتہائی مشکل سوال ...
سینئر صحافی ارشد شریف بھی وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے،انتہائی مشکل سوال پوچھ لیا

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی ارشد شریف بھی وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے اورانتہائی مشکل سوال پوچھ لیا۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ ڈیووس کو دوستوں کی جانب سے سپانسر کئے جانے کی خبروں پر ارشد شریف نے بھی سوالات اٹھادیئے، سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر دیئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا عمران خان نے حلف اٹھایا تھا کہ ’ اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔‘انہوں نے سوال اٹھائے کہ’ عمران خان نے ڈیووس کا دورہ نجی حیثیت میں کیاتھا یا بطور وزیراعظم؟‘’ پاکستان کے وزیراعظم کے سرکاری دورےکا خرچ دوست کیسے اٹھاسکتے ہیں؟‘’کیایہ حلف کی خلاف ورزی نہیں؟‘۔

اپنے سلسلہ وارٹویٹس میں انہوں نے لکھا کہ ’جب طاقتور سیاستدانوں کے دوست مڈل مین بن جائیں تو اسے کرپشن بذریعہ پراکسی کہتے ہیں۔‘کے الیکٹرک میں اکرا م سہگل کی مداخلت کتنی ہے؟ کیا وزیراعظم عمران خان نے دوستوں کے اس سستے سفر کی قیمت میں کے ای کے اربوں کے بقایا جات سے اپنے دوست کی جان چھڑنے کیلئے کچھ کوئی مدد کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا’سیاستدانوں کوملنے والی سستی مالی معاونت کے بدلے ان کے دوستوں کی کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچتا ہے۔اسے کہتے ہیں کرپشن بذریعہ پراکسی۔امیر کبیر دوستوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے غریب پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کا نیا فارمولہ متعارف کروایا گیاہے.'

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ سوئٹزرلینڈ کے اخراجات اکرام سہگل و دیگر دوستوں نے اٹھائے۔ وزیراعظم عمران خان نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 21 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والے عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کی اور اس دوران فورم کے مرکزی اجلاس سے خطاب کے علاوہ مختلف سیشنز میں بھی گفتگو کی۔ڈیووس میں ناشتے کی میز پر گفتگو کے دوران عمران خان نے بتایا کہ ان کے ڈیووس کے دورے کے اخراجات اکرام سہگل، عمران چوہدری اور کچھ دیگر دوستوں نے اٹھائے۔

عمران خان نے مزید کہا اگر ان کے دوست دورے کے اخراجات نہ اٹھاتے تو وہ کبھی بھی ساڑھے 4 لاکھ ڈالرز کا بوجھ حکومت پر نہ ڈالتے۔

جیونیوز کے مطابق عالمی اقتصادی فورم کے دوران لبنان کے سابق وزیر خارجہ کو اس وقت ہزیمت اٹھانا پڑی جب انہوں نے یہ بتایا کہ ان کے دورہ ڈیووس کیلئے رقم کسی اور نے دی تھی۔جبران باصل کے اس جواب کے بعد صورتحال ان کیلئے مزید پریشان کن ہوگئی جب نیدرلینڈز کی وزیر نے کہا کہ انہیں تو حکومت میں ہوتے ہوئے ایسی دوستیوں کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔

خیال رہے کہ عام طور پر عوامی عہدہ رکھنے والے شخص سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں سے تحائف اور مالی فوائد حاصل نہ کرے کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے بھی دوستی نبھاتے ہوئے ان کے مفادات کا خیال رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

مزید : قومی