2008 میں پرویز مشرف کو پاکستان سے نکلوانے کی ڈیل لیکن امریکی صدر جارج بش نے کن 2 حکمرانوں کو40 لاکھ ڈالر ادائیگی کیلئے کہا تھا؟تہلکہ خیز دعویٰ

2008 میں پرویز مشرف کو پاکستان سے نکلوانے کی ڈیل لیکن امریکی صدر جارج بش نے کن 2 ...
2008 میں پرویز مشرف کو پاکستان سے نکلوانے کی ڈیل لیکن امریکی صدر جارج بش نے کن 2 حکمرانوں کو40 لاکھ ڈالر ادائیگی کیلئے کہا تھا؟تہلکہ خیز دعویٰ

  



کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ڈیل کے تحت مشرف کو پاکستان سے نکلوانے کیلئے اس وقت کے سعودی بادشاہ عبداللہ اوردبئی کے حکمران شہزادہ محمد کو سابق صدراور جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کوچالیس لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کا کہا تھا۔

یہ تہلکہ خیز دعویٰ نامور مصنف شجاع نواز کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’دی بیٹل فار پاکستان‘ (پاکستان کیلئے جنگ) میں کیاگیاہے جس پر دی نیوز نے خبر لگائی ہے۔ شجاع نواز نہ صرف نامور مصنف ہیں بلکہ وہ واشنگٹن کے اٹلانٹک تھنک ٹینک کے بھی رکن ہیں۔

کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ’اسی ڈیل نے ہی سابق صدر کو مواخذے سے بچایا جس کی دھمکی آصف زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے مشرف کو دی تھی۔ٹرانزیشن ڈیل کا سلسلہ برطانیہ اور امریکا کی قیادت میں 2006میں شروع ہوا تھا۔ دونوں ملکوں نے بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی جلاوطنی ختم کرنے اور آصف زرداری کے صدر بننے کے بعد مشرف کی واپسی کی راہ ہموارکرنے کی کوشش کی۔

کتاب کے مطابق اس وقت کے امریکی سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور رچرڈ بوشر اوربرطانوی وزارت خارجہ و کامن ویلتھ کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیاسی امورمارک لیال گرانٹ نے اس سارے عمل کی سربراہی کی تھی۔اس سارے معاملے میں امریکی وزیرخارجہ کنڈولیزا رائس نے بھی متحرک کردار اداکیاتھا۔

کتاب کے مطابق اس معاملے میں مختلف اوقات میں مختلف افراد نے پرویز مشرف کی نمائندگی کی جن میں آئی ایس آئی کے سابق چیف اور سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، آئی ایس آئی کے میجر جنرل احتشام ضمیر، مشرف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج شامل ہیں۔معاملے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کیا۔پرویز مشرف کی پاکستان سے بحفاظت روانگی کیلئے امریکی ، برطانوی ، سعودی اور اماراتی حکام نے ملکر کا م کیاااور پاکستانی سیاسی جماعتوں کی قیادت کو قائل کیا کہ وہ مشرف کے غیرآئینی اقدامات پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔

کتاب کے مطابق سابق صدر کی قسمت کا فیصلہ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران کیاگیا۔اس ملاقات کیلئے امریکی صدر بش نے عرب امارات کے اس وقت کے ولی عہد اور موجود وزیراعظم راشد المکتوم کو دعوت دی تھی ۔

کتاب کے مطابق مشرف کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی اس ملاقات نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا حتمی فیصلہ کیاگیا۔دوران گفتگو بش نے اماراتی حکمران سے کہا کہ پاکستانی صدر کو پراپرٹی اور پروٹوکول کے مطابق روانہ ہونا چاہئے۔کتاب کے مطابق اسی وقت سعودی بادشاہ عبداللہ سے رابطہ کیاگیااور انہوں نے اس معاملے کی تکمیل کیلئے دو ملین ڈالرزکی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی جس کے بعد دبئی کے حکمران بھی اتنی ہی رقم اداکرنے کیلئے تیار ہوگئے۔یہ رقم مشرف کے لندن اور دبئی میں موجود بینک اکاونٹس میں جمع کرائی گئی اور اس سے انہوں نے مذکورہ دونوں شہروں میں پراپرٹیز خریدیں۔

سابق صدر پرویز مشرف کئی بار اس بات کا برملااظہاربھی کرچکے ہیں کہ سعودی شاہ عبداللہ نے انہیں دبئی میں جائیداد خریدنے کیلئے بھاری رقم فراہم کی ہے، تاہم انہوں نے کبھی بھی دبئی کے حکمران سے متعلق بات نہیں کی۔

مزید : قومی /ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا