یوکرائنی طیارے کومیزائل مارنے والا شخص کہاں ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کو 32 سال پرانی بات یاد دلا دی

یوکرائنی طیارے کومیزائل مارنے والا شخص کہاں ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ ...
یوکرائنی طیارے کومیزائل مارنے والا شخص کہاں ہے؟ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کو 32 سال پرانی بات یاد دلا دی

  



تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران میں رواں ماہ یوکرائن کے مسافر طیارے کو میزائل سے مار گرانے والا شخص اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے؟ایرانی وزیر خارجہ کے انکشاف نے پوری دنیا میں تہلکہ برپا کر دیا ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق رواں ماہ جنوری میں تہران ائیرپورٹ کے قریب یوکرائن کے مسافر طیارہ اپنی پرواز کے چند منٹوں بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا تھا اور اس حادثے میں عملے سمیت 176 مسافر ہلاک ہو گئے تھے،ابتدا میں ایرانی حکومت کی جانب سے مسافر طیارے کی تباہی کو حادثہ قرار دیا گیا تھا تاہم تین روز بعد ایرانی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ یوکرائن کا مسافر طیارہ حادثے میں نہیں بلکہ ایرانی کمانڈ سسٹم کی غلطی سے میزائل لگنے سے تباہ ہوا ہے جس پر پوری دنیا میں ایران کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع ہو گئی تھی جبکہ ایرانی عوام نے بھی بڑی تعداد میں اس سنگین ترین غلطی احتجاج کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے ایرانی حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا تھا ۔اب ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے جرمنی کے میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے یوکرائن کا مسافر طیارہ میزائل مار کر تباہ کرنے والے ایرانی کو قیدخانہ میں ڈال دیا ہے ۔ڈاکٹر جواد ظریف کا یاد دلاتے ہوئے کہنا تھا کہ32 برس پہلے امریکہ نے ایرانی مسافرطیارہ کو ما گرایا تھامگراس نے آج تک سرکاری طور پر معافی نہیں مانگی بلکہ امریکی فوجی کوجو اس جہاز کو گرانے کا ذمہ دار تھاتمغہ سے سرفراز کیا گیا جبکہ ہم نے اپنے ملک کے شہری کو جو یوکرین کے طیارہ گرانے کا مجرم ہے اسے جیل میں ڈال دیا ہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ واقعتا لوگوں کو یہ شکایت کرنے کا حق ہے کہ فوری طور پر اطلاعات نہیں دی گئی لیکن یہ ایرانی حکومت کی غلطی نہیں تھی جبکہ خود اِنہیں اس حادثے کی حقیقت معلوم ہونے میں دو دن لگے۔

ڈاکٹر جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران نے یوکرائن کی حکومت کو طیارے کی تباہی پر تحقیقات میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے جبکہ ہم نے یوکرائن کو تفتیش کا حصہ بنانے کے لئے راستہ کھلا رکھا ہے،ہم بین الاقوامی ضرورت کی بنیاد پر باضابطہ تفتیش کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ 8 جنوری کو یوکرین کا جہاز فلائٹ نمبر 752 تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ائرپورٹ سےپرواز کرنےکے کچھ منٹوں بعد حادثہ کا شکار ہوگیا تھا۔جس میں اس جہاز پرسوار تمام 176 لوگوں کی موت ہوگئی تھی ،طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں یوکرائن، ایران، کناڈا، افغانستان،جرمنی، سویڈن اور برطانیہ کے شہری شامل تھے۔ تین دنوں بعد ایرانی فوج نے دشمن کا ایک کروز میزائل سمجھ کر غیر ارادی طور پر جہاز مارگرانے کا اعتراف کیاتھا۔ْ

مزید : بین الاقوامی