خیبر پختونخوا کے 3 وزرا کو کابینہ سے نکالنے کے بعد پرویز خٹک بھی میدان میں آگئے، زخموں پر نمک چھڑک دیا

خیبر پختونخوا کے 3 وزرا کو کابینہ سے نکالنے کے بعد پرویز خٹک بھی میدان میں ...
خیبر پختونخوا کے 3 وزرا کو کابینہ سے نکالنے کے بعد پرویز خٹک بھی میدان میں آگئے، زخموں پر نمک چھڑک دیا

  



نوشہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سازش میں جس کسی کا بھی ہاتھ تھا وہ ہاتھ ہم نے روک دیے ہیں اور سازش کرنے والوں کو نکال دیا ہے ،کل تک پنجاب اور بلوچستان کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا،پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھر پور کارروائی ہوگی،حکومت پشتون تحفظ مومنٹ کے ساتھ بامعنی مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں ڈائیلسیز سنٹر کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز خان خٹک کا کہنا تھا کہ   جن لوگوں کے پارٹی کے اندر اختلافات تھے اُنہیں پارٹی کے اندر رہ کر بات کرنی چاہیے تھی، کئی لوگوں کے پارٹی کے ساتھ ذاتی مسائل تھے، اُن لوگوں کے ذاتی مسائل حل ہوجاتے تو پھر نہ وزیر اعلی کرپٹ تھا اور نہ ہی حکومت خراب تھی، ان لوگوں کے ذاتی کام نہیں ہوئے تو پھر وزیراعلی بھی کرپٹ ہوگیا اور پارٹی بھی کرپٹ ہوگئی، مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے اگر ان میں ہمت ہے تو سچ بولیں کہ وہ کس وجہ سے احتجاج کررہے ہیں؟پارٹی کے خلاف جس نے باتیں کی ہیں، ان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں، پارٹی میں انتشار پیدا کرنے والوں سے جواب طلب کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کے رول کے متعلق مجھے کوئی علم نہیں، اگر کوئی ہوگا تو اس کے ساتھ بھی حساب کریں گے،فواد چودھری کا ہمارے صوبے کے وزرا سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی عمل دخل ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جن وزرا کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر صوبائی کابینہ سے فارغ کیا  ہے وہ صوبے میں تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کے ساتھ  انتشار پھیلان رہے تھے ،انتشار پھیلانےوالے بے نقاب ہوچکے ہیں،اُن کے ساتھ پورا حساب کتا ب ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ بھی ہمارے مذاکرات کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں،اگلے تین سال تک ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آئےگا کہ اتحادی ہم سے ناراض ہوں،جو وعدے ہم نے اپنے اتحادیوں سے کیے ہیں وہ پورے کررہے ہیں، اتحادی جماعتوں اور  اپوزیشن سمیت سب کے ساتھ رابطے میں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ میں نے رابطہ کیا ہے اور اِنہیں باضابطہ طور پر کہا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر بیٹھے تاکہ قبائلی علاقوں میں امن اور خوشحالی آسکے، مجھے امید ہے کے وہ میری اس دعوت کو قبول کریں گے اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے، بات چیت کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا، پی ٹی ایم کے لیے ہمارے درواز ے کھلیں ہیں،وزیر اعظم عمران خان قبائلی اضلاع کی ترقی چاہتے ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں