یہاں سب چلتا ہے

یہاں سب چلتا ہے
یہاں سب چلتا ہے

  

وہ سنگین جرائم میں ملوث ایک خطرناک مفرور  امریکی قیدی تھا، پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس کی تلاش میں تھے، ایک رات خفیہ پولیس کی مخبری پر اسے ایک ویران اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا،عدالت نے اسے سزائے موت سنا دی، پھانسی والے دن اسے ایک بڑی ہال نما جگہ  پر لے جایا گیا، جہاں اس جیسے کئی خطرناک مجرموں نے اپنی زندگیوں کی آخری سانسیں لی ہوں گی۔ ایک ہٹا کٹا سیاہ فام جلاد اپنی آنکھوں میں وحشت سموئے اس کے انتظار میں تھا، خوف اس کے چہرے سے ٹپک رہا تھا اور ہر طرف ہُو کا عالم تھا۔ اس کے ارد گرد چند پولیس اہلکار اور سفید کوٹ میں ملبوس ایک ڈاکٹر کھڑا تھا۔

اسی دوران چند مزید لوگ،جنہوں نے عجیب طرز کے سفید لباس زیب تن کر رکھے تھے اندر آئے، وہ انہیں کچھ زیادہ پہچان تو نہ سکا، مگر وضع سے خاصے بھلے معلوم ہوتے تھے۔ وہ انتہائی سہما ہوا تھا اور موت کا خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ اس سے پہلے کہ اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاتا، انہی عجیب طرز کے سفید لباس پہنے لوگوں میں سے ایک جوان،قد آور  شخص آگے بڑھا اور اسے کہنے لگا، ہم تمہارے لئے کچھ خاص تو نہیں کرسکتے، مگر ہاں تمہیں ایک دوسرا آپشن ضرور دے سکتے ہیں۔اس کے چہرے پر بے بسی جوں کی توں تھی، گویا اس نے اس کی بات کو سنا ہی نہ ہو،اس سفید وردی والے شخص نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر تمہیں روایتی طریقے سے گلے میں پھندا ڈال کر پھانسی دی جائے تو تمہاری جان نکلنے میں تقریباً ایک منٹ یا اس سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے اور یہ منٹ تمہاری زندگی کا مشکل ترین منٹ ہو گا،جس میں تڑپ تڑپ کر تمہاری جان نکلے گی، جبکہ دوسرا (اس نے سامنے شیشے کے ایک ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) یہ سانپ ہے،یہ دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں سے ایک ہے، اس کے کاٹتے ہی چند سیکنڈ میں تمہاری جان آسانی سے نکل جائے گی، اب مرضی تمہاری ہے جو تم چاہو۔ آخر مرنا تو تھا ہی،لہٰذا اس نے ذرا سوچنے کے بعد دوسرا آپشن چن لیا۔اس کی جگہ اگر کوئی اور مجرم  ہوتا تو شاید وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ تڑپ تڑپ کر مرنا آخر کس کو پسند ہے؟

جلاد نے مجرم کے دائیں کان میں آہستہ سے چند کلمات کہے جو پھانسی سے پہلے ہر مجرم کو کہے جاتے ہیں، پھر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا اور اونچی آواز میں کچھ چلایا،اسی دوران ساتھ کھڑے اس دوسرے شخص نے اپنی جیب سے دو باریک سویاں نکالیں اور مجرم کی دائیں ٹانگ کے نچلے حصے پر پیر سے کچھ اوپر تیزی سے چبھو دیں۔ اس کا ایسا کرنا تھا کہ مجرم پلک جھپکتے ہی زمین پر آ  گرا، ڈاکٹر فوراً آگے بڑھا،اس کی نبض پر ہاتھ رکھا،مگر اس کی دھڑکن رک چکی تھی اور حیران کن طور پر وہ مر چکا تھا۔سب حیرت میں مبتلا تھے کہ آخر ایک سوئی کیسے کسی کی جان لے سکتی ہے!

دراصل یہ ایک تجربہ تھا جو امریکی سائنس دانوں نے سزائے موت کے اس قیدی پر کیا تھا۔ ایک واحد نوعیت کا تجربہ تھا۔بعد ازاں جب اس کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے ساتھ مزید تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ اس کی موت کی وجہ اس کا یقین تھا،اسے سانپ کے زہر کے ذریعے اپنی موت کا اس قدر یقین تھا کہ نوکیلی سوئیوں کے اس کے جسم میں گھستے ہی اس کے جسم  نے اسے سانپ کا حملہ تصور کیا اور خود بخود خطرناک زہر پیدا ہو گیا جو کہ واقعتا ایک سانپ ہی کا زہر تھا اور اس کی موت واقع ہو گئی…… یہ سب یقین کی طاقت کا کرشمہ ہے۔ اندازہ کیجئے کہ اللہ نے انسان کو کیسی عجیب طاقت بخشی ہے، جو ایک نا ممکن چیز کو بھی ممکن میں بدل دیتی ہے۔ یقین ہی وہ طاقت ہے،جس کے ذریعے ایڈیسن نے ناکامیوں کے پہاڑوں کے سینوں میں سرنگیں کھود کر انہیں بلب سے روشن کر ڈالا، یقین ہی وہ طاقت ہے جس کی بدولت آج انسان زمین سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر ہوائی سفر کرنے کے قابل ہوا ہے، یہ ایک ایسی طاقت ہے، جس کی بدولت قائد اعظم نے اسلام کے نام پر ایک الگ وطن بنا ڈالا، دیکھا جائے تو یقین کی اس انمول طاقت نے دنیا ہی کو بدل ڈالا ہے۔ 

پچھلے ستر سال سے دنیا کی ہر نعمت ہونے کے باوجود یہ ملک بدحالی اور تنزلی کا شکار ہے، کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟دراصل ایسا اس لئے ہے کہ ہم خود ہی نہیں چاہتے کہ یہ ملک بدلے، آگے بڑھے اور ترقی کرے۔ ہمارے دماغوں میں بیٹھ چکا ہے کہ پاکستان ایک تھرڈ  ورلڈ کنٹری ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا، ہم نہ تو اپنے رویوں، عادتوں اور سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو ایسا کرتے دیکھ سکتے ہیں۔ ابھی چند دن کی بات ہے کہ  ایک ضروری کام سے اپنے ایک (اعلیٰ تعلیم یافہ) دوست کے ساتھ لاہور جانا ہوا، ابھی ہم نکلے ہی تھے کہ انہوں نے ایک انتہائی مصروف شاہرا پر اشارہ توڑا اور گاڑی بھگاتے ہوئے(بڑے فخر سے) آگے نکل گئے۔ مَیں نے فوراً اس غلطی کا نوٹس کیا اور جب انہیں ان کی غلطی کا احساس دلانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی تو جواب ملا: ”جناب فکر کی کوئی بات نہیں، یہ امریکہ تھوڑی ہے، یہ پاکستان ہے، یہاں سب چلتا ہے“۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، آپ کو روزانہ اپنے ارد گرد ایسی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملیں گی،جن سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ اس سب کے ذمہ دار صرف حکمران نہیں ہیں۔میری نظر میں اس سب کے ذمہ دار بہت حد تک ہم عوام ہیں۔آپ مانیں یا نہ مانیں، جب تک ہم خود کرپٹ ہیں، تب تک ہم حکمرانوں کی کرپشن کو چاہے جتنا بھی زور لگا لیں، روک نہیں سکتے۔ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا،اس سے پہلے کہ ان منفی رویوں کا کنواں اتنا گہرا ہو جائے کہ ہمیں واپسی کا راستہ ہی نہ ملے……اور یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ:

 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

مزید :

رائے -کالم -