انٹرٹینمنٹ کے سارے شعبوں میں نام کمانا چاہتی ہوں 

انٹرٹینمنٹ کے سارے شعبوں میں نام کمانا چاہتی ہوں 

  

نوجوان اداکارہ،ماڈل تعبیر چودھری کہتی ہیں!

زیب چودھری کی بیٹی، صنم چودھری کی بھانجی ہونے پر فخر ہے

حسن عباس زیدی

پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نوجوانوں کے لئے نہایت پرکشش جگہ بن چکی ہے کیونکہ اس انڈسٹری نے حالیہ دس سالوں میں نئی نسل کو صرف شہرت ہی نہیں بلکہ قابل عزت روزگار بھی دیا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر نوجوان اب میڈیا خاص طور پر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ہی پروفیشن بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ہم صرف حالیہ چند سالوں پر ہی غور کریں تو ہمیں فلم،ٹی وی،تھیٹر اور فیشن انڈسٹری میں سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کام کرتے نظر آرہے ہیں جن میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہیں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی اور انہیں شہرت بھی مل گئی۔تعبیر رضوان چوہدری بھی ایک ایسی ہی ینگسٹر ہیں جو یہی سوچ کر اس انڈسٹری کا حصہ بنی ہیں اور اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔اگرچہ ابھی ان کے کیرئر کا آغاز ہے جس کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنے میں بھی مصروف ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ انسان کسی بھی شعبے میں کام کرے اس کے لئے سب سے پہلے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔تعبیر رضوان چوہدری نے حال ہی میں او لیول کیا ہے جس کے بعد وہ مزید تعلیم بھی حاصل کریں گی۔اگرچہ ابھی تعبیر رضوان چوہدری کی شوبز انڈسٹری میں باقاعدہ آمد کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن وہ جتنا بھی کام کرچکی ہیں وہ سب لوگوں نے بہت پسند کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی یہی وجہ ہے کہ وہ پر اعتماد انداز سے انڈسٹری میں قدم رکھ رہی ہیں۔وہ اپنے نام کی مناسبت سے خوابوں کی تعبیر محنت کے ذریعے حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ تعبیر رضوان  چوہدری کا تعلق شوبز انڈسٹری کی ایک معروف فیملی سے ہے لیکن وہ محنت کے بل بوتے پر کام کرنے کی خواہش مند ہیں کیونکہ چھوٹی عمر میں ہی وہ بہت پراعتماد ہیں۔تعبیر رضوان چوہدری معروف اداکارہ زیب چوہدری کی بیٹی اوراداکارہ صنم چوہدری کی بھانجی ہیں۔ ان کے والد رضوان چوہدری معروف بزنس مین اورپروڈیوسر ہیں جو کئی مشہور ڈرامے بناچکے ہیں۔یہ تعبیر رضوان کے کیرئر کا سب سے پہلا انٹرویو ہے جس میں انہوں نے نہایت پراعتماد انداز سے گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے تعبیررضوان نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں سب لوگوں کی طرح میں بھی سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہی۔ سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرتی تو سب تعریف کرتے اور ماڈلنگ کا مشورہ بھی دیتے،میں نے کچھ دوستوں کے لئے شوٹ وغیرہ کرائے اور یوں یہ سفر شروع ہوگیا۔ میں نے ابھی کافی برانڈز کے شوٹ کئے ہیں اور ایک کمرشل بھی سائن کیا ہے جو اسی سال منظرعام پر آئے گا۔میں صرف ماڈلنگ یا فیشن انڈسٹری میں ہی نہیں بلکہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے تمام شعبوں میں ہی کام کرنے کی خواہش مند ہوں،وہ چاہے اداکاری ہو یا ہوسٹنگ یا پھر اینکرکے طور پر کام کرنا پڑے۔میں کیمرے کے سامنے بہت اچھا بول سکتی ہوں اس لئے مجھے ذرا بھی پریشانی نہیں ہے،چونکہ میں نے ایک ایسی فیملی میں آنکھ کھولی جس کے لوگ پہلے ہی شوبز میں تھے اس لئے میں نے بھی اس بارے میں سوچنا شروع کردیا اور ویسے بھی ماما ہی میری آئیڈیل ہیں تو میں نے بھی فیصلہ کیا کہ اسی فیلڈ میں کام کروں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے حال ہی میں اولیول کیا ہے اور اس عمر میں ہر انسان فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔میں اپنی والدہ اور خالہ کے کیرئرسے انسپائر تھی اس لئے اپنے لئے اس فیلڈ کا انتخاب کیا اور اس فیصلے کے لئے مجھے زیادہ نہیں سوچنا پڑا ویسے بھی جب میں چھوٹی تھی تو اکثر دوست مذاق اڑایا کرتے تھے کہ تم نے تو ایکٹر ہی بننا ہے۔ شوبز میں کام کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھوں گی اور مستقبل میں بزنس اور لاء  پڑھنے کا ارادہ ہے،میرے لئے ابھی اس عمر میں کمانا

 ضروری نہیں ہے اس ی وجہ سے کوئی پریشر بھی نہیں کیونکہ میں یہ سب شوقیہ کررہی ہوں جس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم مکمل ضرور کروں گی۔ایک سوال کے جواب میں تعبیر رضوان نے بتایا کہ اگرچہ میں نے ابھی شوبز میں باقاعدہ قدم نہیں رکھا لیکن مجھے بہت اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ شوبز کے کئی نامورلوگوں نے مجھے کام کی آفرز کی ہیں،میں نے اپنی ماما اور خالہ کو ہی دیکھ دیکھ کر بہت کچھ سیکھ لیا ہے جو مجھے آگے جا کر کام آئے گا،میری ماما نے ڈراموں میں ہر طرح کے کردار کئے جب کہ وہ خالہ کے بارے اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ وہ رونے دھونے والے کردار زیادہ کرتی ہیں البتہ میں ورسٹائل کام کروں گی اور خود پر یکسانیت کا لیبل نہیں لگواؤں گی۔میں اب باقاعدگی سے ٹی وی ڈرامے دیکھ رہی ہوں اور اس سے پہلے اپنی ماماکے تمام ڈرامے ہی دیکھ چکی ہوں۔اب پاکستان میں مختلف موضوعات پر مبنی اچھے ڈرامے بن رہے ہیں۔مجھے”عہدوفا“ بہت پسند تھا کیونکہ ٹین ایجر کے بنایا گیا تھا جسے بڑوں نے بھی پسند کیا،اس کی کہانی بہت اچھی تھی،اسلامی اور معاشرتی روایات کی عکاسی بھی بہترین اندازسے کی گئی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میرے والد نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور کبھی مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی کوئی پابندی لگائی کیونکہ ہماری ساری فیملی لبرل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جتنے بھی نوجوان فنکار کام کررہے ہیں وہ سب اپنی اپنی جگہ بہترین ہیں لیکن مجھے سجل علی،ہانیہ عامر اور احدرضامیرزیادہ پسند ہیں اور ان سب کے ساتھ ساتھ ماہرہ خان کو سب سے زیادہ پسند کرتی ہوں کہ انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام مثبت اور قابل عزت طریقے سے روشن کیا۔ایک سوال کے جواب میں تعبیررضوان چوہدری نے کہا کہ نوجوان کو چاہیئے کہ سوشل میڈیا سے مثبت انداز میں فائدہ اٹھائیں۔یوٹیوبراور ٹک ٹاکر اس سے پیسہ بھی کمارہے ہیں اور عزت بھی،ہر دورکی تفریح مختلف  ہوتی ہیں۔ ایک زمانے میں صرف ریڈیو ہی تفریح کا ذریعہ تھا لیکن آج ہر چیز بدل چکی ہے اور تفریح کے نئے نئے ذرائع آرہے ہیں جن سے لوگ انجوائے کررہے ہیں۔اس میں برائی نہیں البتہ نوجوانوں کو نفرت انگیز چیزوں سے دور رہنا چاہیئے۔ہمارے معاشرے کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے برداشت کیونکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے لوگوں میں برداشت نہیں ہے اوروہ ذرا ذرا سے بات پر بھڑک جاتے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -