شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے حوالے سےایسا دعویٰ کردیا کہ ن لیگ کے لئے نئی پریشانی کھڑی ہو جائے

شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے حوالے سےایسا دعویٰ کردیا کہ ن لیگ کے لئے ...
شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے حوالے سےایسا دعویٰ کردیا کہ ن لیگ کے لئے نئی پریشانی کھڑی ہو جائے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت استعفیٰ دینے اور سندھ کی حکومت کی قربانی دینے کیلئے تیار نہیں،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم) سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں،پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں تحریک عدم اعتماد لانے پر واضح اختلاف ہے، افغان مسئلے کا واحد راستہ جامع مذاکرات ہیں،نئی امریکی انتظامیہ افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتی جبکہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے،کشمیر کا سودا کوئی مائی کا لال نہیں کر سکتا،مسئلہ پر اپوزیشن سیاست نہ کرے،براڈ شیٹ معاملہ پر معاہدہ کب ہوا کس نے کیا؟ ہم حقائق کی چھان بین چاہتے ہیں،جب انکوائری کمیشن بیٹھے گا تو سب کچھ بے نقاب ہو جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہؤے کہاکہ پی ڈی ایم کے اندر خاصی بے چینی ہے،پی ڈی ایم میں یکسوئی نہیں ،پیپلز پارٹی کسی صورت استعفیٰ دینے اور سندھ کی حکومت کی قربانی دینے کیلئے تیار نہیں ہے،عمر کوٹ میں ضمنی الیکشن کے دوران سندھ حکومت نے انتظامیہ کا بے دریغ استعمال کیا،اب وہ مناسب وقت کا بہانہ بنا رہے ہیں، استعفوں کیلئے مناسب وقت تو 2023 کا ہے،پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں تحریک عدم اعتماد لانے پر واضح اختلاف ہے،پی ڈی ایم سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے،اپوزیشن کے دوست قبل ازیں میز پر بیٹھ کر گفتگو کرنے کی بات کر رہے تھے اور آج اپنے ہی مطالبے کی نفی کر رہے ہیں،نیب میں ترمیم کیلئے جو انہوں نے 34 نکاتی تجاویز دیں وہ قابل عمل نہیں تھیں، پی ڈی ایم کا موقف تضادات سے بھرا ہوا ہے اور اس میں کلیرٹی نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہاکہ ہر نئی انتظامیہ کو حق ہے کہ وہ چیزوں کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے،ہمارا موقف یہ ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، اس کا واحد راستہ جامع مذاکرات ہیں،میرے نزدیک موجودہ امریکی قیادت بھی اس بات کا ادراک ہے،زلمے خلیل زاد کی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ اس طرف اشارہ ہے، نئی امریکی انتظامیہ افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتی ہے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں،نئی امریکی انتظامیہ کی ترجیحات ہمارے نقطہ نظر سے مطابقت رکھتی ہیں، امریکی وزیر خارجہ کو میں نے خط لکھ کر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال میں پاکستان اور خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں، میری رائے میں چالیس سالوں کے بعد امید کی کرن پھوٹی ہے،میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ امن کی کاوشوں میں شریک رہیں گے،افغانستان میں قیام امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے سارا بوجھ پاکستان پر ڈالنا مناسب نہیں ہو گا،اس مسئلے کا اصل حل افغان قیادت کے ہاتھ میں ہے کیونکہ یہ ملک ان کا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر ہم نے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے،مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق بری طرح پامال کیے جارہے ہیں،گذشتہ سترہ ماہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو جیل میں بدل دیا گیا ہے،ہمیں توقع ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرے گی، سفارتی سطح پر پچھلے ڈھائی سالوں میں ہمیں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں،ان ڈھائی سالوں میں جس طرح مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھایا گیا وہ مثالی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری رائے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی پابندیوں کے باوجود دنیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے واقف ہیں لیکن اگر کہیں پر خاموشی نظر آتی ہے تو وہ مصلحتاً ہو سکتی ہے، بین الاقوامی میڈیا جس قدر مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے آج متحرک ہے اتنا ماضی میں کبھی نہیں رہا، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں جس طرح بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، ایسا پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا،رائے عامہ بننے میں وقت لگتا ہے،کشمیر کا سودا کوئی مائی کا لال نہیں کر سکتا،میری اپوزیشن سے ہمیشہ گذارش رہی ہے کہ اس حوالے سے سیاست نہ کریں،اگر اپوزیشن کے پاس اس حوالے کوئی اچھی تجویز ہے تو ہم ماننے کیلئے تیار ہیں، بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے کوئی امکانات نہیں ہیں،بھارت کے ساتھ کوئی بیک چینل رابطہ نہیں ہے۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ براڈشیٹ کے حوالے سے ہم چاہتے ہیں کہ شفاف تحقیقات ہوں،یہ معاہدہ کب ہوا کس نے کیا؟تحریک انصاف اس کی ذمہ دار نہیں،ہم حقائق کی چھان بین چاہتے ہیں،جب انکوائری کمیشن بیٹھے گا تو سب کچھ بے نقاب ہو جائے گا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم سعودی عرب کے شکرگزار ہیں کہ اُنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا ہاتھ تھاما،سعودی عرب نے ہمیں بیلنس آف پے منٹ اور تیل کی فراہمی میں معاونت کی،سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب ہم اپنے روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم بنانے کی کوشش کریں گے تو اس کا نقصان ہو گا جیسا اسحق ڈار  نےکیا،ہمیں اِس غلط فیصلے پرنظرثانی کرنا پڑی چنانچہ ڈالر کی قیمت بڑھی،آج مہنگائی مسلم لیگ نواز کا تحفہ ہے،بھاری قیمت پر بجلی کے معاہدے بھی نون لیگ کاتحفہ ہیں ،نون لیگ کی پالیسیوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہیں،اِن ڈھائی سالوں میں قرض کے حجم میں 25 ہزار ارب سے ساڑھے چھتیس ہزار ارب اضافہ ہوا جو تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار ارب بنتے ہیں،اس میں ساڑھے چھ ہزار ارب سابقہ حکومتوں کے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگیاں کی گئیں،پندرہ سو ارب امپورٹ اور کورونا کی وجہ سے ہمیں ریلیف دینا پڑا، ساڑھے گیارہ ہزار ارب میں سے گیارہ ہزار ارب سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کے حوالے سے بڑھے۔

مزید :

قومی -