خواتین کے لیے رول ماڈل

خواتین کے لیے رول ماڈل
خواتین کے لیے رول ماڈل

  

تحریر: آمنہ خان

بے نظیر بھٹو اپنی سوانح عمری "دختر مشرق" (Daughter Of the East )میں لکھتی ہیں کہ 1971 کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دعوت پر 28 جون 1972ء کو مذاکرات کے لئیے بھارت کے صوبے ہماچل پردیش کے صدر مقام شملہ پہنچے تو ان کی مرکزی کابینہ کے علاوہ 19 سالہ بے نظیربھٹو بھی اُن کے ہمراہ تھیں۔مذاکرات میں چوتھے روز ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔دو  جولائی 1972ء کو الوداعی ڈنر کے موقع پر آ خری نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں امید پیدا ہو چلی کہ شاید مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ مذاکرات کے لیے بھٹو صاحب کے ساتھ اُن کی کابینہ کے دو ارکان کانفرنس روم میں گئے۔

وفد کے باقی ارکان متجسس تھے کہ اِنہیں مذاکرات کے کامیابی یا ناکامی کا فورا کیسے پتہ چلے گا؟تو انہوں نے آ پس میں کوڈ ورڈ طے کیے کہ اگر مذاکرات کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوا تو اندر موجود رکن باہر آ کر کہے گا کہ لڑکا ہوا ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا فیصلہ پاکستانی موقف کے خلاف ہوا تو کہے گا لڑکی ہوئی ہے۔یعنی بھٹو صاحب جیسے لبرل، آ زاد خیال صدر کی کابینہ کے وزرا بھی شعوری یا لا شعوری طور پر"لڑکی "کو مایوسی یا ناکامی کا استعارہ گردانتے تھے۔ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ صنفی لحاظ سے برتے جانے والے امتیازی سلوک کی تاریخ صدیوں پرانی ہےلیکن پچھلی چند دہائیوں سے ہماری معاشرت پر جمی یہ برف شاید اب پگھلنے لگی ہے۔

تاریخ نے دیکھا کہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کے انتخاب کا سہرا پاکستان کے سر پہ سجا، بے نظیر بھٹو نے بھی پاکستانی خواتین کی تعمیر وترقی اور انہیں معاشرے کا کار آمد فرد بنانے کے لیے انقلابی اقدامات کیے۔اُنہوں نے خواتین کے لئیے ویمن بنک کی بنیاد رکھی۔فیملی کورٹس بنائیں جہاں خواتین ججز کو تعینات کیا گیا،خواتین کی تعلیم کے اور انہیں معاشی لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لئیے خصوصی اقدامات کیے،شاید انہی اقدامات کا ثمر ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب ارم بخاری کی صورت میں ہمارےسامنے ہے۔

ارم بخاری کو بلا شبہ پنجاب کی پہلی ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس سے پہلے وہ ہائیر ایجوکیشن  اور ویمن ڈویلپمنٹ میں تعینات رہ چکی ہیں جہاں اُنہوں نے پنجاب کے عوام بالخصوص خواتین کے کی فلاح وبہبود کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ارم بخاری نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کا عہدہ سنبھالتے ہی انقلابی اقدامات کا آ غاز کر دیا۔چند روز قبل اُنہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب کی ہدایت پر ورکنگ ویمن کی ہراسگی سے متعلق رولز کا جائزہ لیا اور مزید بہتری کے لیے تجاویز وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائیں ۔

ورکنگ خواتین کو درپیش مسائل کا ازالہ بہت ہی ضروری ہوگیا ہے،ہراسمنٹ کے حوالے سے رولز میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ ورکنگ خواتین اعتماد کے ساتھ کام کر سکیں تحفظ کے حوالے سے کیے جانے اوور سیز پاکستانی وطن مالوف کی معیشت کے لئیے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان بھی ان کی خدمات کے معترف ہیں اور اوور سیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔

اوور سیز پاکستانیوں کی زمینوں جائیدادوں پر قبضہ عام بات بن چکی ہے، اس لیے قبضہ گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اب اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات ای میل یا ٹیلی فون کی بجائے براہ راست وڈیو لنک کے ذریعے سننے کا فیصلہ قابلِ تحسین ہے۔ رواں سال شکایات سیل کو کل 4403 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 3062 کو حل کر دیا گیا۔ اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات بذریعہ وڈیو لنک سننے کے بعد متعلقہ ادارے ہنگامی بنیادوں پر شکایات کا ازالہ کریں گےاور اس کی رپورٹ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب ارم بخاری کوبھیجیں گے۔

میری ارم بخاری سےملاقات ہوئی تو ان کا  ویژن جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ عوامی فلاح اور بھلائی کے لیے دلجوئی کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں،میرے خیال میں ہر انسان پر مختلف اور متضاد ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انفرادی ، خاندانی، معاشرتی، قومی اور ملکی ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’بےشک، ہم نے انسان کو بڑی محنت اور مشقت میں رہنے والا بنایا ہے‘۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے گفتگو کرتے ہوئے پیغام دیا کہ بطورایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب تعیناتی خاتون ہونے کے ناطے میرے لیے یہ ایک دوہراچیلنج ہے، مجھے یہ ثابت کرنا ہے کہ خواتین اگر کسی اعلی منصب پر فائز ہوتی ہیں تو وہ اپنے فرائض کو، ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اپنے حصے کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے ایک رول ماڈل قائم کرنے کی کوشیش کرونگی۔ (انشاللہ)انسان میں وہ صلاحیت و استعداد  ہے، جس کی بدولت وہ ان ذمہ داریوں کو نہ صرف برداشت کرسکتا ہے، بلکہ احسن طریقے سے انجام بھی دے سکتا ہے،اس لیے بطور سول سرونٹ ہم سب فرض شناسی سے ملک وقوم کی خدمت کریں،فرض شناسی محض نمود و نمائش نہیں بلکہ کردار و گفتار میں مطابقت اور ہم آہنگی کا دوسرا نام ہے۔ فرض شناسی کا یہ معیار افراد ہی نہیں بلکہ اقوام اور ریاستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

 کرپشن سے پاک خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے،عوام کو سہولیات کی فراہمی کا معاملہ ہو یااوورسیز پاکستانیز کے مسائل ، عوامی بھلائی کے کام ہوں یاآپ کے ڈویژن، ضلع،تحصیل یا ٹاؤن کے مسائل اپنی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے فرائض منصبی کو انجام دیں کیونکہ" ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ"

یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ہماری بیوروکریسی کے تمام افسران عوامی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں گے کیونکہ ہر شعبہء زندگی میں احساس ذمے داری کو اپنانا ایمان اور بندگی کا تقاضا ہے۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -