نوشتہء دیوار

نوشتہء دیوار
نوشتہء دیوار

  

ہار نہ مانیں،بالکل نہ مانیں، آپ بہادر کپتان ہیں،کرکٹ ورلڈ کپ جیسا کارنامہ آپ رقم کرچکے، ہار نہ مانیں، مگر نوشتہ دیوار تو پڑھ لیں جو لکھا جا چکاکہ بیڈ گورننس اور مہنگائی کے ہاتھوں یہ حکومت پٹ چکی۔آخری بال تک لڑنے کا عزم بے وزن ہوچکا، کیونکہ میچ توختم ہوچکا،وہ تو آخری گیند تک جاتا دکھائی نہیں دے رہا،میچ  اس وقت ون سائیڈڈ ہے۔آپ پانچ سال کی سیریز میں تین صفر سے بری طرح ہار چکے، اب تو کلین سویب کے لئے اپوزیشن بھرپور جذبے اور فتح کا عزم لئے اقتدار کے چبوترے کی طرف ووٹوں کی طاقت سے  بڑھ رہی ہے۔آپ نے مردہ پچ بنا کر اس  پر اپوزیشن کو بیٹنگ  دے دی، اس پر آپ کے  تیز ترین باؤلر بھی مہنگائی کی فری شارٹس کے سامنے بری طرح ناکام رہے……فیصل آبادمیں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچ ہو رہا تھا،پاکستان نے آسٹریلیا کے تیز ترین اور خطرناک باؤلر ڈینس للی کا توڑ کرنے کے بالکل مردہ وکٹ بنا لی۔للی باؤلنگ کراکرا کر تھک گیا اور اسے کوئی وکٹ نہ ملی نہ ہی باؤلنگ میں کوئی سپیڈ نظرآئی،للی نے ٹیسٹ کے اختتام پرکہا:   ” اس پچ پر میری قبر کھود دو“  ۔

عمران خان کی حکومت نے بھی اپنی کارکردگی کی ایسی ہی مردہ وکٹ تیار کی ہے،جس پر کوئی کارنامہ رقم نہ کر سکی۔مہنگائی اور بیڈ گورننس کی مٹی سے تیار کردہ پچ پر تحریک انصاف کے فاسٹ باؤلر شوکت یوسفزئی اور شبلی فراز بھی ڈینس للی جیسی بے بسی کا اظہار کررہے ہیں۔ 

حکومت کا سب سے پہلا کام عوامی ریلیف ہوتا ہے۔مشکل سے مشکل حالات میں بھی عام طبقے پر بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔اگر حالات سخت بھی ہوں تو امراء سے قربانی لی جاتی ہے، یہاں تو عام آدمی کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔عام آدمی پر مہنگائی کا اتنا بوجھ ڈال دیا گیا کہ اس کا جینا دشوار ہوگیا۔غریبوں کا ہمدردعمران خان اب سابقہ حکمرانوں کی طرح آئیں بائیں شائیں کرنے لگا ہے، اس کے پاس کوئی پالیسی نہیں سوائے پرانے حکمرانوں کی طرح اپنی مجبوریوں کا رونا رونے اور بین الاقوامی حالات کا نوحہ کرنے کے ، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کا درد لہجے میں چھلکتا ہے، نہ غریبوں کی ہمدردی کے لئے آواز گلوگیر ہوتی ہے:

آنکھوں کا رنگ با ت کا لہجہ بدل گیا

وہ شخص  اک شام  میں کتنا  بدل گیا

شیر شاہ سوری کی مثالیں دینے والا عمران خان آج بہادر شاہ ظفر کی طرح  بے بسی کے ترانے گارہا ہے۔تین سال بعد بھی ان کے کھاتے میں کوئی جرنیلی سڑک،کرنسی روپے کا اجراء،ڈاک کا نظام، عدل و انصاف کا شفاف سسٹم اور تجارت کے فروغ جیسا کوئی عظیم کارنامہ کچھ بھی تو نہیں، سوائے رونے دھونے کے،ایک کے بعد ایک ناکامی،ایک بحران ختم ہوتا ہے تو دوسرا جنم لے لیتا ہے۔عام اشیائے ضررویہ کی قلت اپنی جگہ ایک نوحہ ہے۔ گندم کی بمپر کراپ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اورعوام آٹا غائب کی دوہائی دینے لگتے ہیں،گنے کی ریکارڈ فصل کا ڈنکا بجایا جاتا ہے اور ساتھ ہی چینی کی قیمتوں میں اضافے  کے سارے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔ تبدیلی کے سارے دعوے اپنی موت آپ مرتے جارہے ہیں۔ہر بحران کے بعد اگلے تین ماہ بعد بہتری کی نوید سناتے ہوئے اگلے تین ماہ بعد مزید ابتری دکھائی دے رہی ہے:

آپ جب چہرہ بدل کر آگئے

سچ تو یہ ہے ہم بھی دھوکہ کھا گئے

حکومت کی بری کارکردگی کا خلاصہ یہی ہے کہ کوئی منصوبہ بندی نہ تھی اور نہ  تین سال کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی بنائی جا سکی ہے۔آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر کام کرنا ہی اس حکومت کا ویژن  ہے۔اپنا وزیر خزانہ ہے،نہ گورنر اسٹیٹ بینک تو پھر عوامی فلاح کے منصوبے اور مہنگائی سے ریلیف کیسے ملے؟افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد گورنر اسٹیٹ بینک کی نااہلی سے جس طرح ڈالر نے اڑان لی، اس نے حکومت کے طوطے اڑا دئیے اور حکومت اسے کے بعد بالکل ا’کھڑی ا’کھڑی دکھائی دے رہی ہے، جسے کوئی سہارا دینے کو تیارنہیں ۔عمران خان کی مقبولیت کا سکائی لیب انتہائی تیزی سے نیچے کی طرف جارہا ہے۔تبدیلی کا سونامی مہنگائی کے طوفان کے سامنے بے بس ہوچکا۔وزیراعظم کو ہر میٹنگ میں وزراء چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ مہنگائی سے عوام ہم سے بہت ناراض ہیں، لیکن وزیراعظم کو شائد کسی ماہرنفسیات نے یہ یقین دلا دیا ہے کہ آئی ایم ایف کو خوش رکھنا ہی اصل کامیابی ہے اور عوامی مشکلات کم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گایا پھر اصل حقیقت یہی ہے کہ عمران خان انہتائی بے بس ہیں، ان  کے پاس اپنی پالیسی ہے نہ عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ جس سے یہ مہنگائی کم ہوسکے۔ کپتان کے پاس اقتدار کرائے کی گاڑی کی طرح ہے۔وزیرخزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے اورحکومت اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، ان کا کام بس ہر چھ ماہ بعد اتحادیوں کو بلا کر ان کے تحفظات دور کرنا اور ان سے معذرت کرنا ہے اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے سابقہ حکمرانوں کو برابھلا کہنا اور اپنی مجبوریوں کا رونا رونا اس کے علاوہ پچھلے تین سال میں اور کچھ دکھائی نہیں دیا۔

تحریک انصاف کی حکومت کی خیبرپختونخوا میں شکست کی وجوہات پر تحقیقاتی رپورٹ پڑھ کر ہنسی آئی…… ”ٹکٹوں کی غلط تقسیم اور پارٹی امیدواروں کو وزراء کی مخالفت کی وجہ سے شکست ہوئی“……کسی اندھے سے پوچھیں تو وہ شکست کی وجہ دو لفظوں میں بتا دے گا ……بیڈ گورننس اور مہنگائی……حکومت ان دونوں کمزوریوں پر قابو پا لے تو ووٹ اس کے حق میں نکلیں گے۔کچھ واقفان حال تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات عمران خان نے اپنے  ریلیف کے لئے کرائے ہیں، کیونکہ تمام سروے  اور تجزئیے صاف ظاہر کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ایجنڈے اور کرائے کے وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک کے ہوتے ہوئے عوام اس حکومت سے شدید ناراض ہیں، اس لئے عمران خان نے واضح شکست کے باوجود خیبر پختونخوا میں انتخابات کرانے کا رسک لے کر اپنے لئے سپیس حاصل کی ہے تاکہ طاقتور حلقوں کو بتا سکیں کہ مزید یہی ایجنڈا چلتا رہا تو لوگ ان کی حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔عمران خان نے خود تو نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا، انہوں نے اپنے ساتھ طاقتور حلقوں کو بھی نوشتہ دیوار پڑھنے پر مجبور کیا ہے۔اب عمران خان اگلے چند ہفتوں کے دوران عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں گے،اگر وہ کامیاب ہوگئے تو پھر اگلے انتخابات میں میدان میں کھڑا ہونے کے قابل ہوسکیں گے،ورنہ تو شائد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو کہ کوئی سیاسی پارٹی حکومت کرے اور اس کے جیتے ہوئے لوگوں میں سے کوئی بھی  پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا نہ ملے۔

مزید :

رائے -کالم -