برطانیہ سے بھاگ کر داعش کے جنگجو کی دلہن بننے والی شمیمہ بیگم نے برطانوی وزیراعظم کو اب تک کی اہم ترین پیشکش کردی

برطانیہ سے بھاگ کر داعش کے جنگجو کی دلہن بننے والی شمیمہ بیگم نے برطانوی ...
برطانیہ سے بھاگ کر داعش کے جنگجو کی دلہن بننے والی شمیمہ بیگم نے برطانوی وزیراعظم کو اب تک کی اہم ترین پیشکش کردی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ سے بھاگ کر شام جانے اور شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجو کی دلہن بننے والی شمیمہ بیگم اب واپس برطانیہ آنے کے لیے جتن کر رہی ہے۔ اسی کوشش میں اب اس نے برطانوی وزیراعظم کو شدت پسندی کے انسداد میں مدد کی پیشکش کر دی ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق شمیمہ بیگم ، جو داعش کے خاتمے کے بعد شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں رہ رہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو اپنی کہانی سنانا چاہتی ہے تاکہ کوئی اور اس جیسی غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔

22سالہ شمیمہ بیگم نے جی بی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”میرے خیال میں میرے پاس وہ تجربہ ہے جو دوسروں کو داعش جیسی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں میں جانے سے روک سکتا ہے۔ میری کہانی سے نوعمر لڑکے لڑکیاں سیکھ سکتے ہیں کہ انہیں کس طرح شدت پسندوں کے پراپیگنڈے سے بچنا اور ان کے ہاتھوں استعمال ہونے سے محفوظ رہنا ہے۔ میں وزیراعظم بورس جانسن سے کہنا چاہتی ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی اکیلے آدمی کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر طرح کی مہارت کے حامل لوگ چاہئیں اور میں نئی نسل کو شدت پسندانہ خیالات سے بچانے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہوں۔“

واضح رہے کہ شمیمہ بیگم 15سال کی عمر میں برطانیہ سے فرار ہو کر ترکی کے راستے شام گئی تھی۔ اس نے وہاں ایک شدت پسند سے شادی کی اور تین بچوں کو جنم دیا۔ خود شمیمہ بیگم کا کہنا ہے کہ شام میں وہ جس کیمپ میں رہ رہی ہے، وہاں وہ خود بھی محفوظ نہیں ہے۔ 

مزید :

برطانیہ -