بہرام ڈی آواری کی آخری رسومات

بہرام ڈی آواری کی آخری رسومات

  

ملک کی معروف کاروباری شخصیت، ہوٹل انڈسٹری کے نامور پروموٹر اور ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے دو گولڈ میڈلز جیتنے والے بہرام ڈی آواری کی آخری رسومات بیچ لگڑری ہوٹل سے متصل اُن کی رہائش گاہ میں ادا کی گئیں ہیں۔اُن کی عمر81 برس تھی اور وہ گزشتہ چند روز سے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، اتوار کی رات اُن کا انتقال ہو گیا جس کے بعد اُن کا جسد خاکی محمود آباد میں واقع ٹاور آف سائلنس (مینارِ خاموشی) لے جایا گیا۔  اُن کے سوگواران میں بیوہ اور تین بچے شامل ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سمیت ممتاز سیاسی،سماجی و کاروباری شخصیات نے اُن  کے انتقال پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ بہرام آواری نے پہلی مرتبہ ایشین گیمز 1978ء میں منیر صادق کے ساتھ مل کر کَشتی رانی میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ دوسری بار 1982ء میں وہ اپنی اہلیہ گوش پی آواری کی شراکت میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اُنہیں 14اگست 1982ء کو تمغہ برائے حسن ِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا تھا۔ بہرام آواری انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے،  اُن کی ملک کے ساتھ پارسی کمیونٹی کے لیے کی گئی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ہماری دُعا ہے کہ رب ذوالجلال اُن کے سوگواروں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے اور پسماندگان کو پاکستان کی خدمت کرنے کے اُسی جذبے سے سرشار کرے جو مرحوم بہرام ڈی آواری میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

مزید :

رائے -اداریہ -