پہلے احتساب، پھر کچھ اور

پہلے احتساب، پھر کچھ اور
پہلے احتساب، پھر کچھ اور

  

 پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کی تقرری کے سلسلے میں جو کچھ ہوا وہ سب نے دیکھا، سنا، پڑھا اور پرکھا،پہلے حکومت اور اپوزیشن، دونوں کی جانب سے اپنے اپنے مجوزہ نام پیش کئے گئے‘ لیکن کسی پر اتفاق نہ کیا جا سکا پھر یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ کون ہو گا، لیکن یہ مسئلہ وہاں بھی حل نہ ہو سکا۔ قانون یہ ہے کہ جب حکومت اور اپوزیشن، دونوں ناکام ہو جائیں اور پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کر سکے تو پھر الیکشن کمیشن کو استحقاق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرے، چنانچہ الیکشن کمیشن نے اپنا یہ حق استعمال کیا،لیکن لگتا ہے کہ یہ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہو سکا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور میں اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو ممکن ہے کسی اور شہر میں پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج میں مصروف ہوں۔ 

یہ پہلا موقعہ نہیں کہ اس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے بھی یعنی پچھلے انتخابات کے وقت بھی نگران سیٹ اَپ کے قیام کے سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین عدم اتفاق سامنے آتا رہا ہے یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ حکمرانوں اور اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھے عوام کے نمائندوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر اعتبارکرنے کو تیار نہیں۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ یہ صرف ہمارا ملک ہے جہاں نئے انتخابات سے پہلے ایک نگران سیٹ اَپ قائم کیا جاتا ہے۔ دنیا میں کسی اور ملک میں اتنی ”بے وسائی“ یعنی عدم اعتماد کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا کہ جو حکومت قائم ہے پہلے اس کا خاتمہ ہو، پھر ایک نیا عبوری سیٹ اَپ قائم کیا جائے جو الیکشن کرائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس ساری کاوش کے باوجود ہارنے والی کوئی پارٹی کوئی سیاست دان الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتا اور انتخابات کے بعد ہر سمت سے بس ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے، دھاندلی ہوئی ہے، مینڈیٹ چرایا گیا ہے، ووٹوں یا سیٹوں میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1971ء کا الیکشن فیئر اینڈ فری تھا، لیکن کون نہیں جانتا کہ اس کے نتائج کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا اور اس ضد کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں نکلا تھا۔ 

آپ نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بات سنی۔ اُنہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کر کے ملک میں استحکام لانا ہو گا، ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل آئین کی عمل داری میں مضمر ہے،پاکستان کو ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے، پاکستان سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے حوالے سے خود کفیل ہے اور مفتاح اسماعیل نے جو یہ کہا ہے کہ 20 سال سے قرض بڑھ رہا ہے،51 ہزار ارب روپے قرض پہنچ چکا ہے، پاکستان کو اس سال 21 ارب ڈالر قرضے واپس کرنے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی عروج پر ہے، بعض ادارے اربوں روپے نقصان کر رہے ہیں، معیشت پر قابو پانے کے لئے برآمدات بڑھانی ہوں گی، زراعت کے شعبے میں بھی بہتری لائی جائے۔ میرے خیال میں ان لوگوں نے پاکستان کی ری امیجنگ کی بات کی ہے۔ کیا خیال ہے آج جب ہم اپنی آزادی کی75ویں سالگرہ منا چکے ہیں تو ہمارا، ہم سب کا پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا ہم اپنے ملک کو وہ منزل دے سکے جس کا خواب اس کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لینے والوں نے دیکھا تھا۔ یقینا نہیں۔ یہاں تو مسائل ہی مسائل ہیں۔ مسائل اور مشکلات کی ایک پوری دلدل ہے جس کا ہمیں سامنا ہے،یہاں خوراک کی کمی ہے، توانائی کا بحران ہے، درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں، قرضوں کا پہاڑ ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر کی کمی ہے، رشوت ہے،کرپشن ہے اور سفارش کا کلچر ہے۔

ان حالات میں ہمیں ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس کے تحت نجی شعبے کو فعال کیا جا سکے اور سرکاری اداروں کو ذمہ دار بنایا جا سکے۔ انہیں ان آئینی کردار تک محدود رکھا جا سکے تاکہ سب ادارے اپنے اپنے پیرامیٹرز کے اندر رہ کر ملک و قوم کی ترقی میں اپنے حصے کا کردار ادا کر سکیں۔ انفراسٹرکچر تیار کرنے، سماجی خدمات کی فراہمی اور معاشرے کے نچلے طبقوں کو معاشی نظام کے تحت لانے کے سلسلے میں بھی ریاست کا کردار بنیادی اہمیت و افادیت کا حامل ہو گا۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے دستکاروں، کاشت کاروں، اور صنعت کاروں کو روزگار کی فراہمی بھی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ بڑی سطح پر معاشی استحکام کے علاوہ نچلے درجے پر معاشی ترقی اور معاشرے کے ہر فرد کو معاشی عمل میں شامل کرنے کے لئے ایک نیا ماڈل تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔اگر سبھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قومی مقاصد کی درست نشاندہی کے قابل ہو جائیں اور اگر سبھی اپنے تصورات کو واضح انداز میں پیش کر سکیں تو شاید ہم آنے والی سیاسی قیادت کے لئے ایک لائحہ عمل متعین کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں شاہد خاقان عباسی صاحب نے ری امیجنگ کی جو بات کی ہے، اسی تناظر میں کی ہے لیکن میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ملک کو کرپشن‘ رشوت اور سفارش کے کلچر سے نجات دلائے بغیر ایسی کوئی ری امیجنگ کی جا سکتی ہے۔ میرا خیال ہے ہم سب کو فی الحال کسی بھی طرح کے انتخابات کو بھول جانا چاہئے اور سب سے پہلے اس بات کا تعین کرنا چاہئے کہ ملک و قوم کو اس نہج تک پہنچانے والے کون ہیں؟ جب یہ تعین ہو جائے تو پھر ان سب کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئے اور ان کا احتساب کرنا چاہئے کہ انہوں نے ملک و قوم کے ساتھ یہ کھلواڑ کیوں کیا۔ جنہوں نے ملک کے وسائل کو لوٹا ان سے یہ مال واپس حاصل کیا جائے۔ جب یہ کڑا احتساب ہو جائے اور ملک کے ساتھ بُرا کرنے والوں کو ان کے کئے کی سزا مل جائے تو پھر انتخابات کی طرف آنا چاہئے۔ تب جو الیکشن ہو گا اور اس کے نتیجے میں جو اسمبلیاں تشکیل پائیں گی وہی دراصل ملک کو اس منزل کی طرف لے جا سکیں گی جس کا خواب اس ملک کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لینے اور پھر قربانیاں دینے والوں نے دیکھا تھا۔

مزید :

رائے -کالم -