میرا، تیرا افسر کیوں؟

میرا، تیرا افسر کیوں؟
میرا، تیرا افسر کیوں؟

  

 تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل کئے جانے کے بعد دو صوبوں میں قبل از وقت الیکشن کے لئے نگران سیٹ اپ قائم کر دیا گیا ہے،پنجاب میں  محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ تعینات کئے جانے کے بعد جہاں ان پر جانبداری اور پی ڈی ایم سے تعلقات کے الزامات لگائے جا رہے ہیں وہاں  بیورو کریسی میں بھی  تبادلوں اور تعیناتیوں کا نیا دور شروع ہو چکا  ہے، محسن  نقوی  ایک طویل عرصے سے  لاہور میں ایک کامیاب صحافی کے طور اپنی پہچان رکھتے ہیں اس لئے بیوروکریسی میں بھی ان کی بہت جان پہچان ہے وہ کئی افسروں کو خود بھی فون کر کے ان سے حال چال دریافت کر کے ان کی چوائس پوچھ رہے ہیں جو ایک اچھا عمل ہے،ویسے بھی وہ ملنسار اور ایک اچھے انسان ہیں،اُنہوں نے چیف سیکرٹری کے  ہمراہ پوسٹنگ ٹرانسفر  کے لئے مختلف سول اور پولیس افسروں کے انٹرویوز بھی شروع کر دیے ہیں۔ نگران سیٹ اَپ کا آئین کے تحت ایک ہی کام ہے اور وہ ہے شفاف، غیر جانبدار الیکشن کا انعقاد یقینی بنانا،اس مقصد کے لئے بیوروکریسی میں ہلچل مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، بڑے پیمانے  پر تبادلے نگرانوں کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان  چھوڑتے ہیں،بیورو کریسی کے ساتھ پچھلے کچھ عرصے سے اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا میرا  افسر تیرا افسر بنا کر  یہاں ایک ایک افسر کے دس دس بار تبادلے ہو رہے ہیں جس کا صوبے کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے،  پچھلے  چار سال میں یہ چوتھی مرتبہ ہے جب بیورو کریسی کے ایک بڑے حصے پر بد اعتمادی کا کھلا اظہار کر کے ان سے اہم عہدے واپس لے لئے گئے اور ایک دوسرے گروپ کو ذمہ داری سونپی گئی،بزدار  دور میں شائد تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے سوا کوئی بڑا کام نہ کیا گیا،بزدار کے بعد حمزہ شہباز نے مختصر وقت کے لئے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی توصرف تبادلے اور تعیناتیاں کر کے رخصت ہو گئے،چودھری پرویز الٰہی کے دور میں بھی یہ بیکار مشق نہائت استقلال سے جاری رہی، اور اب محسن نقوی جو نگران وزیراعلیٰ ہیں اور جن کا کام آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن کو یقینی بنانا ہے وہ بھی اس کام میں جت گئے ہیں،حالانکہ بیوروکریسی کا اس آئینی، جمہوری عمل میں اتنا ہی کردار ہے جس قدر آئین ان کو تفویض کرتا ہے اور یہ کام پہلے سے تعینات بیوروکریسی بھی بہتر انداز سے سرانجام دے سکتی تھی،مگر یہ تاثر دینے کی روائت قائم رکھی گئی کہ بیورو کریسی کے کچھ عناصر قابل اعتماد نہیں،اب یہ تاثر جا رہا ہے کہ پرویز الٰہی کی لگائی  بیوروکریسی ٹیم کو ہٹا کر شریف خاندان کی با اعتماد بیوروکریسی کو آگے لا کے ذمہ داری سونپ کر مرضی کے کام کرائے اور نتائج حاصل کئے جا سکیں،یوں کہا جا رہا  ہے کہ یہ تبادلے نگرانوں کی ایماء پر نہیں بلکہ  ن لیگ کے اشارہ پر ہو رہے ہیں،جو نگرانوں کی غیر جانبداری کو مشکوک بناتی ہے۔

پنجاب میں نگران حکومت کے قیام کے بعد چیف سیکرٹری کے طور پر لگائے جانے والے زاہد اختر زمان اور آئی جی کے طور پر لگائے جانے والے پولیس افسر ڈاکٹر عثمان انور،سی سی پی او  لاہور بلال کامیانہ اچھے، محنتی اور اپ رائٹ افسر ہیں،یہ پنجاب میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں مگر ان سے پہلے انہی پوسٹوں پر لگے ہوئے عبداللہ سنبل، عامر ذوالفقار اور غلام محمود ڈوگر بھی اسی طرح کے اچھے افسر تھے ان پر بھی اُنگلی نہیں اٹھائی جا سکتی،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر سمیر احمد سید   بہت ہی نفیس،قابل اور محنتی افسر ہیں مگر ان پر سٹاف افسری اور شریف خاندان سے گہرے تعلق کی چھاپ لگا دی گئی ہے، جو ان کی طرح کے اپ رائٹ افسر کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔پنجاب کے نئے سیٹ اپ میں تینوں کلیدی عہدوں پر تعینات ہونے والے افسر پوسٹوں کے لحاظ سے تھوڑے جونیئر ہیں،چیف سیکرٹری اور آئی جی کی پوسٹوں پر اگر گریڈ بائیس اور سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ کی پوسٹ پر گریڈ 20 یا21 کا  افسر ہو  تو اسے مرکز سے مزید سینئر اور تجربہ کار افسر لانے میں آسانی رہتی ہے مگر پنجاب میں مسلم لیگ(ن)ہمیشہ جونیئر افسروں کو سینئر پوسٹوں پر لگاتی رہی ہے،کہا جاتا ہے کہ سینئر پوسٹوں پر جونیئر افسر زیادہ محنت اور وفاداری سے کام کرتے ہیں۔ 

ملک میں جس طرح سیاسی محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے یہ ملک کو زہر قاتل کی طرح نگل رہی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے اتحاد ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو کسی صورت بھی تیار نظر نہیں آتے، کسی بھی معاملے پر بات چیت کا دروازہ کھولنے کو کوئی تیار ہی نظر نہیں آتا، اسی طرح ہر معاملے اور مسئلے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ  بھی ضروری سمجھ لی گئی ہے، پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پنجاب میں محسن نقوی کو نگران وزیراعلیٰ بنوا کر ایک چھکا مارا ہے،انہوں نے پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کو بتایا ہے کہ وہ  اگر ان کے ساتھ نہیں چلتے تو وہ ان کی فیملی میں دراڑ ڈال کر ان کی فیملی میں سے ہی کسی کو پنجاب کے اقتدار پر بٹھانے میں  اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 

دو صوبوں میں اسمبلیاں نہ ہونا اور یہاں نئے انتخابات کے انعقاد کے بعد حکومت بننے سے پاکستان کا سیاسی روڈ میپ بھی پہلی دفعہ خراب ہو رہا ہے،ان دو صوبوں میں نئی اسمبلیوں میں جس پارٹی کی بھی حکومت ہوگی وہ آئندہ قومی اسمبلی اور دوسری دو اسمبلیوں کے انتخابات پر بھی کافی اثر انداز ہوں گے،عوام پر ایک نفسیاتی دباو بھی ہو گا اور اس سے پنجاب اور کے پی میں موجود حکومت کو ایج حاصل ہو گا۔

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی،ایس ایس پی اشرف مارتھ مرحوم کے داماد، چوہدری پرویز الٰہی کی بھانجی کے شوہر اور مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت کے بیٹے سالک حسین کے ہم زلف بھی ہیں،انہیں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے،کہا جاتا ہے کہ چوہدری شجاعت کو پی ڈی ایم کے ساتھ مذاکرات پر انہوں نے ہی آمادہ کیا تھا،محسن نقوی کا نام اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لئے بھیجے گئے دو ناموں میں شامل تھا،پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ محسن نقوی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے قریب ہیں اور صوبے میں انتخابات پر اثرانداز ہو کر ان کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک اچھے افسر،چیف کمشنر اسلام آباد کیپٹن  محمد عثمان کو ہٹا  دیا گیا ہے کہا جا رہا ہے کہ انہیں پنجاب میں اہم پوسٹنگ دی جا رہی ہے اسلام آباد  کے باسیوں کے مطابق انہوں نے وہاں تھوڑے عرصے میں زیادہ کام کیا مگر وہ جس بات پر اڑ جائیں  اس سے پیچھے نہیں ہٹتے،یہ ان کا میرٹ بھی ہے اور ڈی میرٹ بھی،ان کی جگہ پر بھی ایک  اور کیپٹن اور  اچھے افسر کو ہی لگایا گیا ہے کیپٹن نورالامین مینگل،بہت محنتی،گو گیٹر اور مثبت سوچ کے حامل ہیں،وہ جانتے ہیں کہ کتاب پر چلتے ہوئے رزلٹ اور ریلیف کس طرح دینا ہے،انہوں نے پنجاب سمیت مختلف صوبوں میں اہم پوسٹوں پر مثالی کام کیا توقع کی جا رہی ہے کہ وہ  وفاقی دارلحکومت میں بھی  مثال قائم کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -