پشاور:پسے ہوئے ملازمین کو نہ چھیڑا جائے، امین خان 

پشاور:پسے ہوئے ملازمین کو نہ چھیڑا جائے، امین خان 

  

پشاور(سٹی رپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے 10 فیصد کمی لانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر امین خان نے کہا ہے کہ حالیہ مہنگائی نے ملازمین کو پہلے سے پسا ہوا ہے، اب اگر ان حالات میں تنخواہوں میں اضافے کی بجائے کمی کا منصوبہ بنایا گیا تو یہ اقدام سرکاری ملازمین سے زندگی چھیننے کی مترادف تصور ہوگا. انہوں نے کہا کہ یہ سراسر نا انصافی ہے کہ تنخواہوں میں تفاوت برقرار ہے اور وفاقی حکومت ایک ہی طرز پر تنخواہوں میں کمی کر رہا ہے. یہ کیسے ممکن ہے کہ ایگزیکٹو یا سو فیصد الاونسز لینے والے اور بغیر الاونسز ملازمین سے ایک ہی طرز پر تنخواہیں کاٹی جائیں. انہوں نے کہا کہ جو ملازمین ایگزیکٹو یا سو فیصد الاونسز لے رہے ہیں ان سے دس فیصد کٹوتی کی جائے جبکہ بغیر الاونسز والے ملازمین کو نہ چھیڑا جائے۔اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ آفیسرز ایسوسی کسی بھی ایسی تجویز کی مخالفت کرتی ہے جبکہ تجویز کرتا ہے کہ یکساں تنخواہوں کی ادائیگی کا نظام رائج کیا جائے۔مختلف اداروں و کیڈرز کے آفیسرز اور ملازمین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امین خان نے مشورہ دیا کہ اگر حکومت نے واقعی بچت پالیسی اختیار کرنی ہے تو ایگزیکٹو الاونسز سمیت دیگر غیر ضروری عیاشیاں ختم کی جا سکتی ہیں یا اس سے خصوصی کٹوتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رننگ تنخواہ پر 150 فیصد یا سو فیصد الاؤنس لینے والے ملازمین سرکاری کفایت شعاری مہم کا حصہ بنتے ہوئے ایگزیکٹو الاونسز واپس کردیں. انہوں نے اربابِ اختیار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن اس وقت خیبرپختونخوا سمیت بلوچستان، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمین کی جاندار آواز ہے جو کسی بھی صورت ملازمین کے ساتھ نا انصافی کو برداشت نہیں کریں گے. ہم نے حالیہ سیلاب کے بعد حکومت کے ساتھ مل کر تنخواہوں سے کٹوتی کی تھی تاکہ نقصانات کے ازالے میں ہمارا بھی حصہ ہو۔صوبائی صدر امین خان نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت 10 فیصد ممکنہ کٹوتی کے لیے تیار نہیں، کفایت شعاری دکھانی ہے تو ایگزیکٹو الاونسز واپس لیے جائیں یا ان سے کٹوتی کی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -