مسلم دنیا میں جہل، توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، پروفیسر عطا الرحمن

مسلم دنیا میں جہل، توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، پروفیسر عطا الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم دنیا میں جہل اور توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، مسلم ممالک کے کسی بھی سائینسی ادارے نے ابھی تک کوئی ایک نوبل پرائز حاصل نہیں کیا ہے جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج نے تنہاء121 نوبل پرائز حاصل کیے ہیں، کامسیٹس کوچاہیے کہ وہ پالیسی سازی میں تعلیم، سائینس، ٹیکنالوجی اور انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن پر خصوصی فوقیت دیں۔  یہ بات انھوں نے بدھ کو بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کامسیٹس کی کوآرڈینیٹنگ کونسل کے چوبیسویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔افتتاحی تقریب سے کامسیٹس کی کوآرڈینیٹنگ کونسل کے چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر اشرف شالان، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری، کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نفیس زکریا اور بین الاقوامی مرکز کی پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین نے بھی خطا ب کیا۔ اس موقع پردی ورلڈ اکیڈمی آف سائینسزکے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن سمیت دیگرملکی اور غیر ملکی ماہرین بھی موجود تھے۔پروفیسر عطا الرحمن نے مسلم دنیا میں سائینس اور تعلیم کی مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا مسلم ممالک کے مقابل یونیورسٹی آف کیمبرج کے محض ایک کالج ٹرینیٹی نے اب تک34 نوبل پرائز اپنے نام کیے ہیں، انھوں نے کہا نوبل انعام یافتہ دو مسلم سائینسدان ڈاکٹرعبدالسلام اور ذیوائل احمد نے بالترتیب برطانیہ اور امریکہ میں اپنا تحقیقی کام کیا تھا۔ پروفیسر خالد عراقی نے اجلاس کے شرکاء کوجامعہ کراچی میں خوش آمید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حقیقی قومی ہیرو کو پہچانے کی ضرورت ہے، نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائینسدان ڈاکٹرعبدالسلام حقیقی معنیٰ میں قوم کے ہیرو تھے۔ انھوں نے کہا موسمیاتی تغیر ایک اہم مسئلہ ہے مگر پاکستان میں اس قدرتی مظہر کی طرف توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ بیرونِ ملک بیس سال پہلے بھی یہ مسئلہ بہت اہم تھا، سندھ اور بلوچستان میں سیلاب محض قدرتی آفت نہ تھی بلکہ اس میں انسانی کوتاہی بھی شامل ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -