وفاقی محتسب نے 40 برسوں کے دوران کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں،اعجاز احمد قریشی 

    وفاقی محتسب نے 40 برسوں کے دوران کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں،اعجاز احمد ...

  

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے ادارے کے چالیسویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک سادہ اور پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ نے گزشتہ 40 برسوں کے طویل سفر کے دوران کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس کے لیے نیک نامی کا باعث ہیں۔ انہوں نے سابقہ محتسبین کی خدمات کو بھی بھرپور انداز سے سراہا جن کی مسلسل کاوشوں سے اس ادارے نے ترقی کی منازل طے کیں اور اب تک 19 لاکھ کے قریب شکایات نمٹا ئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ پچھلے سال ہم نے بہت سے نئے اقدامات اٹھائے اور سادہ وآسان دفتری طریقِ کار اختیار کرکے کسی اضافی بجٹ اور مزید افرادی قوت کے بغیر ایک سال میں اپنی کارکردگی میں 50 فیصد اضافہ کیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چھوٹے شہروں اور دور دراز کے علا قوں میں کھلی کچہریوں کا آغاز کیا گیا اور ہمارے17 علاقائی دفاتر کی طرف سے تحصیلوں  اور ضلعوں کی سطح پر کھلی کچہریاں لگا کر ملک بھر میں عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا گیا۔ اسی طرح معائنہ ٹیمیں ترتیب دی گئیں اور ایسے ادارے جن کے خلاف شکایات زیادہ تھیں وہاں پر ہمارے سینئر افسران پر مشتمل ٹیموں نے دورے کرکے لوگوں کی شکایات سنیں اور موقع پرہی ہدایات جاری کیں نیز متعلقہ افسران سے میٹنگز کرکے نظام کی اصلاح کے لیے قابل ِ عمل تجاویز دیں جس کے باعث دفتری طریقِ کارمیں بہتری کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہوگئے اور ان اداروں کے خلاف شکایات میں کمی آئی۔ پچھلے سال اپریل میں آئی آر ڈی (Informal Resolutions of Disputes) کا منصوبہ شروع کیا گیا جس کے تحت جرگہ اور پنچا ئیت کی طرز پر باہمی رضامندی سے غیر رسمی مصالحتی انداز میں اب تک لوگوں کے1114 تنازعات حل کئے گئے جب کہ 226 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔ سال 2022 کے دوران انوسٹی گیشن افسروں اور ایڈوائزروں کی ذمہ داریاں بڑھائی گئیں جس کے باعث ان کی کارکردگی میں سوفیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر اس سال 3 ارب روپے سے زائد مالیت کے تنازعات کے بارے میں شکایت کنندگان نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا، بصورتِ دیگر ان تنازعات کا بوجھ بھی عام عدالتوں پر پڑنا تھا۔وفاقی محتسب نے بتایا کہ دور دراز اور غیر ترقی یافتہ علاقوں کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے میرپور خاص، خضدار اور سوات میں تین علاقائی دفاتر قائم کرنے کے علاوہ حال ہی میں وانا (جنوبی وزیرستان) اور صدہ ضلع کرم میں دو ذیلی دفاتر بھی کھولے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب میں ایک شکایت کو نمٹانے کے لیے حکومت کا برائے نام خرچہ ہوتا ہے جس کے باعث یہ ادارہ عوام الناس کو فوری انصاف فراہم کرنے کا انتہائی سستا ذریعہ ہے۔ اسے آپ غریبوں کی عدالت بھی کہہ سکتے ہیں، جہاں نہ کوئی فیس ہے اور نہ ہی وکیل کاخرچہ۔ انہوں نے مزید بتایا کہOut Reach Complaint Resolution   (OCR)پروگرام کے تحت ہمارے افسران نے سال 2022 کے دوران ملک بھر کے تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر جا کر 50487 شکایات کا ازالہ کیا۔ سال 2022 کے دوران وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کو وفاقی اداروں کے خلاف ایک لاکھ 64 ہزار 174 شکایات موصول ہوئیں جو کہ سال 2021 کے مقابلے میں 49 فیصد زیادہ ہیں جب کہ ایک لاکھ 57 ہزار 770 شکایات کے فیصلے کئے گئے جو پچھلے سال سے 47.7 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے سال کے مقابلے میں آن لائن شکایات میں بھی 100فیصد اضافہ ہوا۔وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے بتایا کہ ہم نے 90 لاکھ کے لگ بھگ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے باقاعدہ ایک شکایات کمشنر مقرر کر رکھا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرکے ان کے مسائل حل کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں ہم نے ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر یکجاسہولیاتی ڈیسک قائم کر رکھے ہیں جہاں 12 متعلقہ اداروں کے ذمہ داران ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے موجود ہوتے ہیں اور موقع پر ہی شکایات کا ازالہ کرتے ہیں۔ سال 2022 کے دوران شکایات کمشنر برائے اوورسیز پاکستانیز کی طرف سے بیرون ملک پاکستانیوں کی 137,423 شکایات نمٹائی گئیں جو کہ 2021 کے مقابلے میں 133 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیلوں کی اصلاح کے لیے شکایات کے سلسلے میں 12 سہ ماہی رپورٹیں سپریم کورٹ میں پیش کی جا چکی ہیں جب کہ مختلف سرکاری اداروں کی اصلاح کے لئے تیار کی گئی 28 مطالعاتی رپورٹوں کی سفارشات پر عمل درآمد کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور اس کے لیے الگ سے ایک عمل درآمد ونگ بنایا گیا ہے۔ وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے بتا یا کہاکہ وفاقی محتسب کا ادارہ 24 جنوری 1983 کو قائم ہوا تھا اور 24 جنوری 2023 کو اس ادارے کو قائم ہوئے 40 سال پورے ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان پوسٹ نے وفاقی محتسب کی طرف سے عوام کو مفت اور فوری انصاف فراہم کرنے کے 40 سال کے کامیاب سفر پر 20 روپے کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے۔ وفاقی محتسب نے بتایا کہ پاکستان ایشیا  کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے پہلے وفاقی محتسب کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا۔ ایشین امبڈسمن ایسوسی ایشن (AOA) کے نام سے قائم تنظیم میں 25 ممالک شامل ہیں اور اس کے ارکان کی تعداد 44 ہے۔ پاکستان کے وفاقی محتسب کا ایشیا  کے محتسبین کی اس ایسو سی ایشن میں ایک کلیدی کردار ہے۔ اس ادارے کا مرکزی سیکرٹیریٹ وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ کے دفتر میں واقع ہے اور وہ اس ایسوسی ایشن کے بھی صدر ہیں۔ ایسے ہی انٹرنیشنل امبڈسمن انسٹی ٹیوٹ (IOI) اور اسلامی ممالک کے محتسبین کی تنظیم OIC امبڈسمن ایسوسی ایشن میں بھی پاکستان ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -