دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے

      دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے
      دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  جس طرح ہمارے ہاں الیکشنوں کا موسم آتا ہے تو سیاسی پارٹیاں سرجوڑ کر بیٹھ جاتی ہیں کہ اِن انتخابات میں فتح کیسے حاصل کی جائے اور آئندہ پانچ برسوں میں حکمرانی کے مزے کیسے لوٹے جائیں اسی طرح مغربی ملکوں میں بھی الیکشنوں کی بجائے جب جنگ کے بادل سر پر منڈلا رہے ہوں یا جنگ کے نقارے پرچوٹ پڑ جائے تو وہاں کے حکمران اس تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں کہ کس ملک کو ساتھ ملایا جائے تاکہ کامیابی حاصل ہو اور جب حاصل ہو جائے تو کس ملک کو مالِ غنیمت میں کتنا حصہ ادا کیا جائے۔ ایک معروف مغربی مقولہ ہے کہ ”جنگ اور محبت“میں سب کچھ جائز ہے لیکن ہم نے اس مقولے (Maxim) میں تبدیلی کر لی ہے اور سمجھ لیا ہے کہ اصل مقولہ یہ ہے کہ ”جنگ اور سیاست“ میں ہر چیز جائز ہے یعنی محبت کی جگہ سیاست نے لے لی ہے۔

ایک طویل عرصے سے مغرب میں  جمہوری نظام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اس سسٹم کو ”دو پارٹی سسٹم“ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ وہاں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں، دو پارٹیاں اُن میں شریک ہوتی ہیں۔ چھوٹی پارٹیاں تو شاذ ہی معرضِ وجود میں آتی ہیں اور اگر آئیں بھی تو کسی ایک بڑی پارٹی میں حسبِ ضرورت مدغم ہو جاتی  ہیں۔

پاکستان میں بھی گزشتہ کئی عشروں سے دو پارٹی نظام حکمرانی چل رہا تھا  لیکن 2018ء کے الیکشنوں میں ایک تیسری ”بدعت“ بھی شامل ہو گئی۔ یہ کیسے شامل ہوئی، اس کی ضرورت کیا تھی، پھر اس پر ’شاہی عتاب‘ کیوں نازل ہوا  اور اسے لہلہاتے خیابان سے پرِکاہ بنانے میں کیاکیا پاپڑ بیلنے پڑے،یہ سارا تماشا ہمارے سامنے کھیلا گیا ہے اور ایک طویل عرصے سے کھیلا جا رہا ہے۔ آج بھی دیکھا جائے تو بظاہر بڑی بڑی دو پارٹیاں ہی نظر آتی ہیں یعنی نون لیگ اور پیپلزپارٹی۔ تیسری بڑی پارٹی کو فارغ خطی دی جاچکی ہے۔ ان کے علاوہ تین چار چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اور بھی میدان مقابلہ میں موجود ہیں …… (پی ٹی آئی کو فارغ خطی دینے کی وجوہات ظاہر و باہر ہیں۔) تحریک لبیک، جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور استحکام پاکستان پارٹی وغیرہ۔ لیکن کوشش کی جا رہی ہے کہ 8فروری کی ووٹنگ میں مقابلہ نون لیگ اور پی پی پی میں ہی کروایا جائے۔ تحریک انصاف اگرچہ ایک بڑی اور مقبول پارٹی ہے لیکن اس کی مقبولیت کا ثبوت یا عدم ثبوت 8فروری کی شب معلوم ہو سکے گا، اس سے پہلے نہیں۔ آزاد امیدواروں کی بڑی دھوم مچ رہی ہے، چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں اور شرطیں باندھی جا رہی ہیں کہ آزاد امیدواروں کو گرفتار کس طرح کیا جائے اور اِن  آزاد پنچھیوں کو کس پنجرے میں ڈالا جائے……

یہ ایک نیا تجربہ ہے، دیکھیں ’دوپارٹی سسٹم‘ کے جمہوری دنگل میں ’رستمِ پاکستان‘ کون بنتا ہے۔ دنگل کروانے کے لئے جس نگران انتظامیہ کو نگرانی کا منصب سونپا گیا تھا اس کی جگہ الیکشن کمیشن نے لے لی ہے۔ سارے اختیارات اس کے پاس ہیں۔ بعض اشاریئے اس طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ 8فروری کو دنگل کے تماشائی ایک نیا نکور فیصلہ سننے کا رسک مول لیں گے اور میسرز نگران انتظامیہ اور موسیو الیکشن کمشنر بھی منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

قارئین کرام سے معذرت کہ بات دو پارٹی سسٹم سے چلی تھی کہ جو جمہوری نظام کا ایک اساسی ستون ہے اور پاکستان کے ملٹی پارٹی سسٹم کی طرف چلی گئی۔ جمہوری نظام کی روح تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ طرزِ حکمرانی عوام کا ہے، عوام کے لئے ہے اور عوام کی طرف سے ہے لیکن اس فریبِ نظر نے پاکستانی عوام کو فکر و عمل کے تناظر میں ”کنگال“ کر رکھا ہے…… چلیں آگے چلتے ہیں ……

اہلِ مغرب نے اس دوپارٹی نظام کو سیاسیات کا نہیں جنگ کا مرکز و محور بنا دیا ہے۔ وہاں جب جنگ کا موسم آتا ہے تو فریقینِ جنگ کا دو پارٹی سسٹم دو بلاکوں کے سسٹم میں تقسیم و تبدیل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ صدی کی دونوں عظیم جنگوں میں بظاہر تو دو فریق تھے یعنی اتحادی اور محوری۔ لیکن ان دو فریقوں میں کئی ممالک شامل ہو گئے۔ہم اتحادیوں کے ناموں کے اکھاڑے میں نہیں کودیں گے اور نہ محوریوں کا ذکر کریں گے۔ یہ نام جنگ و جدال کے ہر طالب علم کو معلوم ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی آج تک کے تمام چھوٹے اور درمیانے درجے کے جنگی معرکوں میں بظاہر دو فریقوں کے نام لئے جاتے ہیں لیکن یہ فریق دراصل دو ”بلاک“ ہیں جن میں کئی ممالک شامل ہو جاتے ہیں۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ لیکن کیا روس یا یوکرین صرف دو ملک ہی برسرِپیکار ہیں؟ ہم سب جانتے ہیں کہ یوکرین کی پشت پر امریکہ اور سارا مغربی یورپ کھڑا ہے (اور شریکِ جنگ ہے) یہ اور بات ہے کہ امریکہ اور مغربی یورپ کے ٹروپس یوکرین میں بہ نفسِ نفیس جاکر روسی فوج کے مقابل نہیں لڑ رہے لیکن مغرب کا سارا اسلحہ بارود اور سارا لاجسٹک سسٹم (جو جنگ کا لازمہ ہے) مصروفِ حرب و ضرب ہے…… یہی حال روس کا بھی ہے…… اگر یوکرین کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں تو روس کے ساتھ ایران، بیلا روس اور شمالی کوریاشامل ہیں۔

کسی ایک بلاک کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ایک اعلانیہ اور دوسرا خفیہ……یوکرین کی مدد کے لئے امریکہ، پولینڈ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ توبہ بانگِ دہل شامل ہیں لیکن ان کے علاوہ اور کئی یورپی اور ایشیائی ممالک بھی ہیں جو اس ”کارِ خیر“ میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہی حال دوسرے فریق یعنی روس کا بھی ہے۔ روس ایک بڑا ملک ہے لیکن ایران، بیلاروس اور چین برملا، روس کی طرفداری کررہے ہیں۔ ایران کی طرف سے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ڈرون، روس کو سپلائی کئے جا رہے ہیں، بیلاروس روسی ٹروپس کو مواصلاتی سپورٹ فراہم کرنے میں پیش پیش ہے اور شمالی کوریا نے حال ہی میں روس کو توپوں کے گولے اور راکٹ فراہم کرنے شروع کر دیئے ہیں۔

شمالی کوریا کے پاس، دوسری جنگ عظیم کے زمانے کے توپوں کے ہزارہا شیل موجود تھے جو اس نے ماسکو کو بھیجے۔ لیکن ان کے علاوہ گزشتہ دو عشروں میں شمالی کوریا نے میزائل سازی کی صنعت میں بہت ترقی کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق یہ میزائل، امریکہ کے مغربی ساحل تک ہی نہیں، اس کی مرکزی ریاستوں تک بھی مار کر سکتے ہیں۔ پیانگ یانگ نے اس کا تجربہ کئی بار کر دکھایا ہے اور قارئین کو اس موضوع پر زیادہ معلومات دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک سے زیادہ جوہری تجربات بھی کرلئے ہیں۔ اگر ایک طرف جنوبی کوریا، یوکرین کو جدید ترین امریکی اسلحہ فراہم کررہا ہے تو دوسری طرف شمالی کوریا نے بھی ایک بڑی تعداد میں اپنے میزائل ماسکو کو فراہم کر دیئے ہیں اور وہ یوکرین کے خلاف استعمال کئے جا رہے ہیں۔

شمالی کوریا کے ان میزائلوں نے یوکرین کے یورپی اتحادیوں کے لئے ایک بڑا دردِ سر پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپ نے یوکرین کو جو تازہ ترین فضائی دفاعی نظام فراہم کئے تھے ان کو بے اثر کرتے ہوئے شمالی کوریا کے یہ میزائل بڑے کامیاب ثابت ہو رہے ہیں۔ ناٹو ہیڈکوارٹر (بلجیم میں) اور پینٹاگون میں یہ اندیشے بڑھتے جا رہے ہیں کہ اگر شمالی کوریا کے میزائل روس کو ملتے رہے تو روس کا اپنا اسلحہ خانہ تو محفوظ رہے گا جبکہ ایران اور شمالی کوریا کے اسلحہ جات یوکرین کے خلاف استعمال کرکے امریکہ اور مغربی یورپ کو زچ کیا جا سکتا ہے۔

تاریخِ جنگ کا مطالعہ کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا کبھی جنگی جرائم سے توبہ تائب نہیں ہوئی…… صرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو جوہری تو کہلاتا ہے لیکن اس کی جنگیں صرف اپنے ہمسائے کے ساتھ ہوتی رہی ہیں۔ 1948ء،1965ء، 1971ء اور کارگل کی جنگیں صرف انڈیا کے ساتھ لڑی گئیں۔ ہمیں سمندر پار جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔یہ تو انگریز بہادر تھا جو ہندوستانی سپاہ کو فرانس، اٹلی، مصر،لیبیا،الجیریا، جاپان اور ملائیشیا وغیرہ کے محاذوں پر لے گیا۔ لیکن یہ سب ماقبل 1947ء کی باتیں ہیں۔ مابعد 1947ء ہمیں سمندر پار کسی جنگ کا کوئی عملی تجربہ حاصل نہیں …… یہ موضوع سٹرٹیجک نوعیت کا حامل ہے اور ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے……

الیکشنوں کے ملٹی پارٹی سسٹم کے حصار سے باہر نکل کر جنگ و جدل کے ملٹی بلاک سسٹم کی طرف بھی جھانکنا چاہیے۔

دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں اٹھتے 

نہ ہوں پیدا نظر میں جب تلک انداز، آفاقی

مزید :

رائے -کالم -