لوکل باڈیز کی لیڈر شپ

لوکل باڈیز کی لیڈر شپ
لوکل باڈیز کی لیڈر شپ

  


لوکل باڈیز کی لیڈرشپ کے معاملے کو سمجھنے اور اس کی حامی اور مخالف قوتوں کے اصل مقاصد کو جانچنے کے لئے ایک دو بنیادی غلط فہمیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس مفروضے سے باہر نکلنا ہوگا کہ تمام سویلین حکومتیں پوری طرح جمہوری اصولوں پر عمل کرتی ہیں اور تمام فوجی حکومتوں کے سبھی اقدام غیر جمہوری ہوتے ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس بحث میں پڑنے سے پہلے اگر آپ اس تصور کی وضاحت چاہتے ہیں تو لوکل باڈیز کی لیڈر شپ کے ساتھ ہمارے ہاں کی سویلین یا فوجی حکومتوں نے جو سلوک کیا ہے یا کر رہے ہیں، اس کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں۔ آپ کی جمہوریت کو خوبصورت بنانے والے سارے کے سارے طبق روشن ہو جائیں گے۔

مَیں خدانخواستہ جمہوری حکومتوں کا مخالف اور فوجی حکومتوں کا حامی نہیں ہوں، لیکن اچھی اور بُری باتیں سبھی میں ہو سکتی ہیں۔ صرف ریکارڈ درست رکھنے کے لئے مَیں یہاں ایک دو چیزوں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ فوجی حکومتوں میں گدی نشینی کا تصور نہیں ہوتا۔ پرویز مشرف نے نو دس سال حکومت کی ، لیکن کسی کو ان کے بیٹے یا بیٹی کا نام تک معلوم نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں بھٹو کی گدی کا تصور بہت راسخ ہے۔ سینئر بھٹو نے اپنے بیٹوں کی بجائے بیٹی کو اپنے سیاسی تخت پر بٹھایا۔ بے نظیر بھٹو کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وراثت کو ان کے پوتوں یا پوتیوں ، خصوصاً فاطمہ بھٹو سے بچانے کے لئے آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے بڑے بیٹے بلاول زرداری کو بلاول بھٹو بنایا گیا۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ پیپلز پارٹی کی تمام اعلیٰ سطح کی ذہین، قابل، با صلاحیت، محنتی اور وفادار لیڈر شپ کو ایک کونے میں دھکیل کر سلطنت بھٹو کے تخت و تاج کو شہزادہ بلاول کے سپرد کرنے کے لئے اس کے بالغ ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ وہ عیاش ہے یا نیک، وہ با صلاحیت ہے یا نکما، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ پیپلز پارٹی کی گدی پر اس نے ہی بیٹھنا ہے، جس طرح بے نظیر بھٹو اپنے والد کے ہنر مند، قابل اور دیوہیکل ساتھیوں کو لتاڑتی ہوئی اس سنگھاسن پر بیٹھی تھیں۔

مسلم لیگ (ن) میں بھی شریف خاندان کی سیاسی گدی کم مضبوط نہیں ہے۔ اس خاندان کے لئے اپنی سیاسی گدی کو مستحکم رکھنے کے ساتھ ساتھ بزنس کو فروغ دینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ نواز شریف کے دونوں بیٹے چپکے چپکے اپنے بزنس کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دینے میں مصروف ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی ذیلی گدی پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بٹھا رکھا ہے۔ وراثتی خلا پُر کرنے کے لئے ان کی بیٹی مریم نواز میدان میں موجود ہے۔ چھوٹی گدی کے بڑے شہزادے حمزہ شہباز مستقبل میں شریف خاندان کی وراثت سنبھالنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن ان کے دل میں یہ کھٹکا موجود ہے کہ بے نظیر بھٹو کی روایت پر عمل کرتے ہوئے کہیں مریم نواز تخت نشین نہ ہو جائے۔

اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام کی بادشاہت بالترتیب باچا خان اور مفتی محمود کے خاندانوں میں چلی آ رہی ہے۔ البتہ ایم کیو ایم میں الطاف حسین نے ایک اچھی روایت یہ ڈالی ہے کہ وہاں گدی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہاں نچلی سطح سے اٹھنے والے ورکروں کا راج ہے۔ جماعت اسلامی میں سید مودودی نے خاندانی گدی قائم نہیں کی اور اپنے بچوں کو اپنی سیاسی جماعت سے دور رکھا۔ یہ تو تھا کچھ بظاہر جمہوری جماعتوں کی ایک کمزوری کا تذکرہ۔ جمہوری دور میں کارکردگی اور ترقی کی رفتار اس لئے بھی سست ہوتی ہے کہ ان حکومتوں کو سب کو ساتھ لے کر چلنے اور اتفاق رائے پیدا کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ سرخ فیتہ قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ فوجی حکمران کے ”غیر جمہوری انداز“ سے خود فیصلہ کرنے کی وجہ سے سارے مراحل تیزی سے طے ہو جاتے ہیں اور ترقی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ فوجی حکمران قوم کے مفاد میں بعض اوقات وہ ”غیر مقبول“ فیصلے کرنے کی جرا¿ت کر لیتا ہے جو اصل میں قوم کے مفاد میں ہوتے ہیں، لیکن لوگوں کو اس کا صحیح شعور نہیں ہوتا۔ جمہوری لیڈر ایسے فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں۔

مثال کے طور پر صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں اپنے خصوصی اختیارات کے باعث بہت ترقیاتی کام کئے، لیکن مجھے ان سے ایک شکایت رہی ، جس کا مَیں نے ان کے دور میں تحریری طور پر اظہار بھی کیا تھا کہ جہاں انہوں نے پانی کو ذخیرہ کرنے اور توانائی کے فروغ کے لئے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا، وہاں وہ اتفاق رائے پیدا کرنے کے چکر میں کالا باغ ڈیم کی بنیاد نہ رکھ سکے۔ میرے خیال میں ایمرجنسی کے نفاذ کی طرح یہ بھی ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اتنی محنت سے لوگوں کو قائل کرنے کی کوششیں کرنے کی بجائے وہ اللہ کا نام لے کر اس کی داغ بیل ڈال دیتے تو شاید آج انرجی کا مسئلہ اتنا گھمبیر نہ ہوتا، لیکن وہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں اپنے سیاسی ساتھیوں کی مخالفت سے گھبرا گئے۔ اتنی زیادہ تفصیل میں جانے کا مطلب یہ واضح کرنا تھا کہ فوجی حکومتوں کو سیاسی دباو¿ اور مصلحتوں سے بالا تر ہو کر ہر جائز ترقیاتی کام کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ ان چیزوں میں بھی ہاتھ ڈال لیتے ہیں، جن سے سیاسی جماعتوں کی روایتی لیڈر شپ کترا جاتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں سے وہ انصاف مل جاتا ہے جو سیاسی لیڈر جان بوجھ کر فراہم کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔

اب آتے ہیں بلدیاتی اداروں کے قیام، فروغ اور اختیارات کی طرف، جن پر فوجی دور میں توجہ دی جاتی ہے اور سیاسی دور میں یہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کو سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں عمومی طور پر حکومتوں کی تین سطحیں وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی ہوتی ہیں۔ بیرونی دنیا سے تعلق، آئین، مرکزی قوانین اور بجٹ پر کنٹرول اور نگرانی وفاقی حکومت کے ذمے ہوتی ہے جو وفاقی اکائیوں کو انصاف کے ساتھ ان کا حصہ دیتی ہے۔صوبائی حکومتیں اپنے صوبے کا انتظام چلاتی ہیں، جن میں وفاق رہنمائی تو کر سکتا ہے، لیکن مداخلت نہیں کر سکتا۔ لوکل باڈیز کی حکومتیں عوام کو انفراسٹرکچر فراہم کرنے اور ان کے روز مرہ معاملات کو ڈیل کرتی ہیں۔ شہروں اور قصبوں کی سڑکیں بنانا، پانی، سیوریج اور تمام شہری سہولتوں کا خیال رکھتی ہے، یقیناً لوکل باڈیز وہ ترقیاتی فنڈ استعمال کرتی ہیں جو وفاق سے صوبوں کے راستے یا براہ راست صوبوں سے ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بلدیاتی سطح پر جو قیادت منتخب ہوتی ہے، دراصل وہی عام شہری سے قریب ترین اور اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ عام شہری اپنی روز مرہ ضروریات اور سہولتوں کے لئے اس کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہے۔

اس طرح دیکھا جائے تو جمہوری سسٹم میں لوکل باڈیز کی حکومت سب سے نچلی سطح پر ہے، لیکن شہری سہولتیں فراہم کرنے کے اختیارات کے باعث عام شہریوں کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے۔ عوام کی خدمت یا اصل محنت یہی کونسلر اور کمیٹیوں کے چیئرمین کرتے ہیں، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے اجلاس اٹینڈ کرنے کے سوا کوئی خاص کام نہیں کرتے۔ حکومت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اپنے اختیارات کا آزادانہ استعمال، جس طرح وفاقی اور صوبائی حکومتیں با اختیار اور خود مختار ہوتی ہیں، اصولی طور پر لوکل باڈیز کی حکومتوں کو بھی اپنی جگہ با اختیار اور خود مختار ہونا چاہئے، لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اگر کبھی اختیارات تھے تو انہیں قانون سازی کر کے گرفت میں لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے رہے سہے اختیارات بھی برداشت نہیں ہوتے اور کوشش ہوتی ہے کہ انتخابات ہی نہ ہوں اور اگر کرانے ہی پڑیں تو ممکن حد تک ان کا التوا کیا جائے۔

بلدیاتی اداروں کی اس اہمیت کو سمجھ لینے کے بعد دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ کون لوگ ان اداروں کے اختیارات سلب کرنے کے درپے ہیں۔ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قومی اسمبلیوں اور صوبائی اسمبلیوں کی لیڈر شپ ایک دوسرے کے خون کی پیاسی ہونے کے باوجود بلدیاتی اداروں کو اختیارات سے محروم رکھنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر سو فیصد متفق ہیں۔ یہ مافیا نہ صرف تمام جماعتوں کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل ہے، بلکہ قومی اور صوبائی سطح کے وہ لیڈر بھی اس میں شامل ہیں جو الیکشن ہار چکے ہیں یا آئندہ امیدوار ہو سکتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں قومی اور صوبائی سطح پر جو لیڈر شپ ہے، وہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے تو بلدیاتی سطح کے لیڈروں سے اچھے تعلقات رکھتی ہے، لیکن وہ انہیں گلی، محلوں کا لیڈر بنتے نہیں دیکھ سکتی۔ بلدیاتی ادارے نہیں ہوں گے تو ترقیاتی فنڈ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان استعمال کریں گے اور اپنے ووٹروں پر احسان کریں گے، ورنہ ان کی کوشش ہوگی کہ ایسی قانونی سازی کی جائے جس سے ان کے اختیارات کم کر کے صوبائی ارکان کو دے دئیے جائیں۔

فوجی حکمران اس نظام کی جو حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اس کا سبب بھی سن لیں۔ فوجی حکمران جب آتے ہیں تو وہ دراصل قومی اور صوبائی سطح کی سیاسی لیڈر شپ کو ختم کر کے آتے ہیں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ نچلی سطح پر جو بلدیاتی اداروں کی لیڈر شپ ہے، اسے پہلی اور دوسرے درجے کی سیاسی لیڈر شپ نے اختیارات سے محروم کر رکھا تھا تو وہ ان کے اختیارات بحال کر دیتے ہیں۔ فوجی حکومتیں اپنے لئے نیا حلقہ بنانے کے لئے آئین کے تقاضوں کے عین مطابق انصاف کرتے ہوئے یہ ”جمہوری“ کام کر گزرتی ہیں۔ ان حالات میں ہمارے جیسے ملک میں جہاں اوپر سے نیچے تک سارا جمہوری ڈھانچہ کرپشن میں ڈوبا ہوا ہو، وہاں بلدیاتی اداروں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنے سارے کام دھندے چھوڑ کر وقت ضائع کریں، الیکشن پر پیسہ خرچ کریں اور فنڈ استعمال کرنے کی باری آئے تو وہ کونسلروں اور چیئرمینوں کو مل جائے۔ یہ تو نرا گھاٹے کا سودا ہے جو انہیں منظور نہیں ہے۔ اب آپ مزے لے لے کر بلدیاتی انتخابات ہونے تک کی خبروں کو پڑھیں کہ اس نظام کی مخالف قوتیں کس کس انداز سے اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور بلدیاتی ارکان کو بے اختیار بنانے کے لئے کیسی کیسی چالاکیاں کرتی ہیں....بہرحال یہ کہانی تھی۔   ٭

مزید : کالم