سکھر میں دہشت گردی

سکھر میں دہشت گردی

سکھر کی بیراج کالونی میں آئی ایس آئی کے دفترپر دہشت گردوں کے حملے میںمیجر اور نائیک سمیت چار افراد شہید اور پچیس زخمی ہوگئے۔ حملے میںتین دہشت گرد بھی مارے گئے۔ سیکیورٹی اداروں نے موقع سے چار افراد کو دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کر لیا ہے۔ دہشت گردوں نے چالیس کلوگرام دھماکہ خیز موادسے بھری ایک گاڑی آئی ایس آئی کے دفتر کے مین گیٹ سے ٹکرادی ، ایک بڑا دھماکہ ہوا ، جس کے بعد وقفے وقفے سے کئی مزید دھماکے ہوئے ، فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں ۔ پورا علاقہ دھوئیں سے بھر گیا ۔ کئی عمارتوں کو دھماکوں سے شدید نقصان پہنچا۔بہت سے مکانوں کی چھتیں گر گئیں۔ جس کے بعد پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ دہشت گردی کے یہ واردات افطار کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب لوگ نماز مغرب کے لئے مساجد کی طرف جا رہے تھے۔

رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہونے کے بعد یہ دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی ہے ۔ اس پراعلیٰ حکام کی طرف سے تعزیتی بیانات جاری کئے گئے ہیں اور دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلی سندھ کی طرف سے بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ شمالی سندھ کا یہ علاقہ اب تک دہشت گردی کی کسی واردات سے محفوظ تھا۔ رمضان میں اس طرح سیکورٹی کے اعتبار سے انتہائی حساس علاقے میں یہ کارروائی کرکے دشمن نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی علاقے میں اپنی کارروائی کرسکتا ہے۔

پوری قوم کو رمضان کے مقدس مہینے میں افطار کے بعد نماز کی تیاریوں میں مصروف لوگوں کے ساتھ اس بہیمانہ سلوک پر گہرا دکھ اور صدمہ ہے۔ اس کی مذمت ہی نہیں ذمہ دار لوگوں تک پہنچ کر اس کا انتقام لینے کی خواہش کا پیدا ہونا بھی ایک قدرتی امر ہے ۔ جس کے لئے ہماری ایجنسیاں اور سیکورٹی کے ذمہ دار ابھی تک کچھ نہیں کر پارہے۔ رسمی پیغامات اور رسمی تحقیقات سے آگے بھی ہمیں ہر ایسی کارروائی کے بعد سوچنا اور کچھ عمل کرنا چاہئیے۔ آخر سیکورٹی کے دفاتراور مراکز کی چوبیس گھنٹے نگرانی اور حفاظت کے انتظامات میں کیا کمی رہ جاتی ہے اور کون کس بات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ؟ اس سب کچھ کے متعلق ہمیں سوچنا چاہئیے۔ ہر واقعے سے دشمنوں کے طریقہ واردات اور اپنی حفاظتی کمزوریوں سے متعلق زیادہ سے زیادہ سیکھنے اور ان کی روشنی میں اپنے حفاظتی انتظامات کو فول پروف بنانے کی ضرورت ہے۔ سکھر کا انتہائی المناک واقعہ اپنے نتائج اور نفسیاتی اثرات کے لحاظ سے کسی بھی طرح پہلے بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات سے کم نہیںاور یہ اپنی نوعیت کا واحد المیہ نہیں ہے۔ آخر پہلے واقعات سے کیوں نہیں سیکھا گیا ۔ ایسے واقعات کے بعد اگرچہ دہشت گردی کے خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، لیکن یہ دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ بہترین صلاحیتوں ، بہترین جذبات اور تمام ضروری وسائل سے لیس ہماری ایجنسیاں اور ادارے ایسے المیوں کا تدارک کیوں نہیں کرپاتیں۔ ؟ قوم کے اذہان میں موجود یہ سوال ہر ایسے واقعہ کے بعد افراد قوم کے لئے زیادہ سے زیادہ اذیت کا باعث بن رہے ہیں ۔ ان کا جواب آخر کب اور کون دے گا؟

مزید : اداریہ