”بجلی رے بجلی“

”بجلی رے بجلی“
”بجلی رے بجلی“

  


وزیراعظم سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں ملک بھر سے شائد ہی کوئی معقول اور معروف صحافی ہو گا جو موجودد نہیں ہو گا ، وزیراعظم نواز شریف انرجی پالیسی پر جو بتا رہے تھے وہ بجلی کے اس بدترین بحران میں ہمارے لئے جاننا بہت ضروری تھا، ہم وہ ہیں جو حکومت اور عوام کے درمیان کھڑکی ، دروازوں،کانوں اور زبان جیسے کام کرتے ہیں۔ وزیراعطم کے سپیشل اسسٹنٹ ملک مصدق نے انرجی پالیسی پر ایک بہت لمبی چوڑی پریزنٹیشن تیار کر رکھی تھی ، یہیں پروزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیر اطلاعات پرویز رشید ،وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف ،اسحاق ڈار،شاہد خاقان عباسی، شوکت ترین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

جتنے اعداد وشمارتھے ، اتنے ہی سنگین و رنگین حقائق بھی تھے ۔ مثال کے طو ر پر بجلی کی ڈسٹری بیوشن کے نظام میں جنوبی ایشیاءدنیا میں سب سے برا اور ہم جنوبی ایشیاءمیں بھی سب سے برے ہیں۔ گذشتہ برس ہمارا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان گیپ اوسطاً پانچ ہزار میگا واٹ کا رہا، ہم نے چوالیس فیصد بجلی مہنگے ترین فرنس آئل اور ڈیزل سے تیار کی، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لاسز پچیس فیصد رہے اور ایک سو چالیس ارب روپوںکی بجلی چوری کر لی گئی۔ سستے اور مہنگے دونوں ذرائع استعمال کرتے ہوئے اوسطا بارہ روپے ساٹھ پیسے میںا یک یونٹ بجلی تیار کی گئی اور فراہم کرتے ہوئے یہ تیرہ روپے ساٹھ پیسے میں پڑ گئی لہذا اب بجلی کی پیداوار ہی نہیں بڑھانی بلکہ اس کی لاگت بھی کم کرتے ہوئے سنگل ڈیجٹ یعنی دس روپے فی یونٹ سے کم پر لانی ہے تاکہ لوگ بجلی استعمال کرنا افورڈ بھی کر سکیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس وقت صرف موجودہ شارٹ فال ختم کرنے کی حکمت عملی بناتے ہیں تو تین سے چا ر سال بعد جب وہ اس کمی کو پورا کر رہے ہوں گے تو بجلی ملنے کے بعد نئی انڈسٹری لگنا شروع ہو چکی ہو گی لہذا بجلی کا شارٹ فال پھربڑھ جائے گا اور لوڈ شیڈنگ کا بھوت اپنی جگہ پر موجود ہو گا ۔ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ بجلی کی آئندہ بیس سے پچیس سال کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کام کیا جائے اور اب یہ کام ہر شعبے میںکرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پرواپڈا کی ٹرانسمیشن لائنیں، گرڈ اسٹیشن، فیڈرز اور ٹرانسفارمرز تمام کے تمام سب اسٹینڈرڈ ہیں۔ اس وقت اگر ملک بھر میں بجلی کی اٹھارہ ہزار میگاواٹ طلب پیداوار کے ذریعے پوری بھی کر لی جائے تو یہ سسٹم اس قابل ہی نہیں کہ بجلی کی عوام تک ترسیل کو یقینی بنا سکے، وزیراعظم کے مطابق بہت سارے علاقوں میں جب سحری اور افطاری پر بجلی پوری فراہم کی گئی تو وہاں کے سسٹم بیٹھ گئے اور لوگ گھنٹوں کے لئے بجلی سے محروم ہو گئے، اسی طرح لوڈ بڑھنے پر ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر جاتی ہیں۔

ٹرانسمیشن لائنوں کا سن لیں، نیلم جہلم نوسو ساٹھ میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت کا پراجیکٹ ہے ، وزیراعظم کے مطابق وہ جب اس کے دورے پر پہنچے، تکمیل بارے پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ تین سال بعد مئی میں بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا۔ انہوں نے بہت ہی سادہ سوال کیا کہ اس کے بعد کیا عوام کو یہاں سے بجلی ملنا شروع ہوجائے گی تو جواب ملا کہ نہیں، کیونکہ نیلم جہلم پراجیکٹ تو بجلی پیدا کرے گا، بجلی کی فراہمی تو ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے ہو گی ، ان لائنوں کی تکمیل بھی اڑھائی ، تین سال کا ہی پراجیکٹ ہے لہذا یہ عین ممکن تھا کہ اگر میاں محمد نواز شریف اپنی طبعیت کے عین مطابق یہ سادہ سا سوال نہ پوچھتے تو مئی 2016 میں ہمیں پتا چلتا کہ بجلی بننے کے بعد ادھر ہی دھری رہ گئی ہے۔ یہاں مجھے لاہور ، گوجرانوالہ جی ٹی روڈ کی توسیع کا منصوبہ یادآ گیا۔ حکمرانوں نے جی ٹی روڈ بنانے کا ٹھیکہ دے دیا اور وہ بہت ساری تاخیر کے ساتھ آہستہ آہستہ بن بھی گئی مگر آخر میں پتا چلا کہ سڑک بناتے ہوئے اس میں آنے والے چھوٹے بڑے پلوں کا تو ٹھیکہ الگ سے ہونا تھا جوکسی کو بھی نہیں دیا گیا لہذا اس سڑک پرسفر کرنے والے جانتے ہیںکہ جی ٹی روڈ بن گئی مگر جہاں کوئی پل یا پلی آتی تھی، وہاں انہیں گاڑی کچے میں اتارنی پڑتی تھی۔ یہ ہماری بیوروکریسی کا حال ہے، یہ ان کا وژن ہے ، یہ ان کی مہارت ہے۔

سوال تو یہ بھی رہا کہ ہم اپنے کوئلے کے ذخائر کا بجلی بنانے کے لئے استعمال کیوں نہیں کرتے، وزیراعظم نے بتایا کہ تھر کول کو ڈویلپ کرتے ہوئے تین سے چھ سال کاعرصہ لگ سکتا ہے، یہ وہی ذخائر ہیں جو انڈیا میں جانکلتے ہیں اور ہندوستان والے اس سے بجلی بنا رہے ہیں مگر ہم نہیں حالانکہ ذخائر کا اصل اور بڑا ذخیرہ ہماری سرزمین میں دفن ہے۔ آہ ! جو خیال ہندوستان والوں کوازخود آ گیا وہ ہمیں ہندوستان کو دیکھتے ہوئے بھی کیوں نہیں آیا، اب بھارت میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کنٹریکٹر کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں بھی اس پراجیکٹ کے لئے بڈنگ میں حصہ لیں گے۔

 حکومت کے سامنے مسئلہ صرف بجلی بنانے کا نہیں بلکہ اسے عوام تک پہنچانے کا بھی ہے لہذا منصوبہ تو یہی بتایا جا رہا ہے کہ اٹھارہ، بیس ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ پورے سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ جب یہ بتایا گیا تو میرے ساتھ بیٹھے ایک سینئر صحافی نے کہا کہ اس کے بھی ٹھیکے ہوں گے تو میرے دل سے دعا نکلی کہ جس طرح شہباز شریف ٹرانسپرینسی کا خیال رکھتے ہیں، اللہ کرے واپڈا کے ان ٹھیکوں میں شفافیت برقرار رہے کہ واپڈا کسی بھی دوسرے محکمے سے کم کرپٹ ہرگز نہیں، ایوان وزیراعظم کے کمیٹی روم میں اعتراف کیا گیا کہ یہاں واپڈا کے عام افسران کروڑو ں روپے رشوت دے کر پوسٹنگ لیتے ہیں ، یہ تو بہت ہی سادہ بات ہے کہ ایک شخص جو دس کروڑ دے کر پوسٹنگ لے گا وہ ایک ارب روپے کمانے کی پلاننگ تو ضرور کرے گا ۔

یہ کروڑوں روپے انہیں کون دیں گے، یہ جاننے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، واپڈا کے کرپٹ افسران کو کروڑوں وہی دیں گے جو اربوں روپوں کی چوری کریں گے۔ پلاننگ تو یہ ہے کہ اب بہت سارے حصوں کی پرائیویٹائزیشن کے ساتھ ساتھ افسران کے ساتھ پرفارمنس بیسڈ کنٹریکٹ کئے جا رہے ہیں، گرڈ اسٹیشنوں پر سمارٹ میٹرز لگائے جا رہے ہیں جن کے بعد ہرمتعلقہ ایکسئن پرفارمنس کنٹریکٹ سائن کرنے کے بعد بجلی کی ترسیل اور بلنگ کے درمیان فرق کا ذمہ دار ہو گا۔ ٹرانسمیشن لائنیں بچھانا بھی بہت مہنگا اورلمبا کام ہے تو اس کے لئے پرائیویٹ کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ جس طرح موٹر وے بنی اوراس پر چلنے والی گاڑیاں اس پر جانے کا کرایہ دیتی ہیں، اسی طرح وہ ٹرانسمیشن لائنیں بچھائیں، انہیں وہاں سے گزرنے والی بجلی کا کرایہ ادا کر دیا جائے گا۔

 اڑھائی گھنٹے جاری رہنے والی بریفنگ میں نندی پور میں سابق حکومت کی کرپشن کارونا بھی رویا گیا، کالاباغ ڈیم کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ میری اس بارے رائے جانتے ہی ہیں اور اسحاق ڈار نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے ہونے کے بعد بھاشا ڈیم پر فنڈنگ کی راہ بھی کلئیر ہو رہی ہے اور وہ عالمی ادارے دیگر پراجیکٹس پر بھی امداد دینے کے لئے تیار ہیں۔ بجلی کے بلوں کی وصولی بارے بتایا گیا کہ یہ وصولی ستاسی فیصد ہے جسے پچانوے فیصد پر لے جانا ہے۔ بجلی چوروں کے خلاف سخت قانون کی بات تو سامنے آ چکی، یہ بھی کہا گیا کہ اب جو ڈیفالٹ کرے گا اسے کہا جائے گا کہ پری پیڈ میٹر لگوا لو اور نادہندگان سے بجلی کے بلوں کی وصولی اسی طرح کی جائے گی جس طرح کریڈٹ کارڈ کے ڈیفالٹرز سے رقم وصول کی جاتی ہے اور اسکے لئے بھی مختلف کمپنیوں سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اس بھرپور میٹنگ میں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ کسی حد تک خیبر پختونخوا اور بہت حد تک سندھ کی حکومتیں بجلی چوروں کے خلاف اس حد تک کارروائی کے لئے تیار نہیں جس حد تک شہبا زشریف جا چکے ہیں۔

مجھے بھی عرض کرنا تھا کہ حکومت کو صرف انتظامی ڈنڈے پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے لئے سماجی، مذہبی اور سیاسی طاقتوں کو بھی استعمال کرنا چاہئے تاکہ بجلی ، گیس کے چور معاشر ے میں عزت نہیں بلکہ نفرت کے حق دار ٹھہریں ، بجلی چوروں کی نشاندہی پر جرمانے میں سے نشاندہی کرنے والوں کو انعام کی معقول رقم دی جانی چاہئے اور یہ کہ بنکوں کو سولر انرجی کے یونٹوں کے لئے بلاسود یا بہت آسان قرضے دینے چاہئیں ۔یہ ایک لمبا سفر ہے اور مجھے اس انرجی پالیسی کی حمایت اور نتائج کی امید رکھتے ہوئے صرف یہ کہنا ہے کہ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتاہے۔

مزید : کالم