ایک اور گیارہ مئی ۔ ۔ ۔

ایک اور گیارہ مئی ۔ ۔ ۔
ایک اور گیارہ مئی ۔ ۔ ۔

  


نمل نامہ (محمد زبیراعوان) سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے جہاںحکومت کیلئے مشکلات کھڑی کردی ہیں ،وہیں خود سپریم کورٹ کے کردار اور گیارہ مئی کو ہونیوالے انتخابات کے بارے میں بھی انگلیاں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں ۔سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماءراجہ ظفرالحق کی درخواست پر ایک ہی دن میں سماعت مکمل کرکے صدارتی الیکشن 30جولائی کوکرانے کا حکم دیدیا۔ اچانک شیڈول میں تبدیلی سے اپوزیشن جماعتوں کو دھچکا لگا لیکن کسی نے فوری طورپر ردعمل ظاہر نہ کیا۔ جمعہ کو پاکستان پیپلزپارٹی نے صدارتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور کچھ تحفظات کے باوجودتحریک انصاف نے الیکشن سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان کے نہایت قریبی دوستوں میں سمجھے جانیوالے وکیل چوہدری اعتزازاحسن نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہارکیا۔ سپریم کورٹ نے صدارتی انتخابات کی تاریخ کی تبدیلی کیلئے دائر درخواست پر فیصلے میں آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل کومدنظرنہیں رکھا، صرف حکومتی جماعت کا موقف سننے کے بعد فیصلہ صادر فرمادیا،دیگر امیدوار اور جماعتیں منہ تکتی رہ گئیں۔۔۔مزید یہ کہ درخواست گزارصدارتی امیدوار بھی نہیں تھایعنی راجہ ظفرالحق کابنیادی حق بھی متاثر نہیں ہورہاتھا،وہ صرف ایک ووٹر تھے ۔الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کیلئے تو ووٹر کی اہمیت ہوتی ہے لیکن کیا یہ اہمیت ایسے دنوں میں سپریم کورٹ کیلئے بھی ہے ؟؟؟ انتخابی مہم چلانے کیلئے صوبوں میں جانے کیلئے وقت نہ ہونے اور شاید کسی حدتک شکست یقینی ہونے پر پیپلزپارٹی نے انتخابات سے بائیکاٹ کا اعلان کردیاجس کی حمایت عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق نے بھی کردی ۔ عدلیہ بحالی تحریک کے مرکزی کردار اعتزاز احسن نے فیصلے پر سپریم کورٹ اور مسلم لیگ ن میں رابطے کا شبہ بھی ظاہرکیاہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ، یہاں تک چہہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ 2015ءکے بعدافتخار محمد چوہدری کو صدر پاکستان بنائے جانے کا امکان ہے ،ن لیگ کے بارے میں سافٹ کارنر کی باتیں بھی ماضی سے چلی آرہی ہیں ۔پیپلزپارٹی کے امیدوار رضاربانی نے کہاکہ گیارہ مئی کے انتخابی نتائج بھی جمہوریت کی خاطر قبول کیے ، وہ بھی اِسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھے ۔ مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کے انتخابی بائیکاٹ پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن نے غیر جمہوری رویہ اپنایا،بائیکاٹ کے فیصلے سے پیپلزپارٹی کو ہی نقصان ہوگاکیونکہ چیف الیکشن کمشنر کو تمام جماعتوں نے متفقہ طورپر منتخب کیا۔مشاہداللہ کاکہناتھاکہ سپریم کورٹ ڈوگر کورٹ نہیں ،ا ٓزاد عدلیہ ہے ۔عدلیہ کی آزادی پر ہر کسی کو یقین ہے کہ عدالتیں کتنی آزاد ہیں اور کتناکچھ اُن کے احکامات پر عمل درآمد ہورہاہے ؟یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ماتحت عدلیہ میں آئے روز حج صاحبان وکلاءاور سائلین کے ہاتھوں خوار ہورہے ہیں ۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے تحفظات کو تسلیم کیالیکن فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے سے بچنے کیلئے خود صدارتی الیکشن میں جانے کا اعلان کیا۔صدارتی انتخابات کا نتیجہ تو گیارہ مئی سے بھی زیادہ واضح ہے، صدر بھی مسلم لیگ ن کا ہی ہوگا ۔ ۔ ۔ صدارتی انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی نے جہاں حکومت اور اپوزیشن میں اچانک دوری پیداکردی ہے ، وہیں ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوال اُٹھناشروع ہوگئے ہیں ۔

مزید : بلاگ