عدلیہ سے عام آدمی کو کچھ نہیں ملا:کرد بھی سپریم کورٹ پر برس پڑے

عدلیہ سے عام آدمی کو کچھ نہیں ملا:کرد بھی سپریم کورٹ پر برس پڑے
 عدلیہ سے عام آدمی کو کچھ نہیں ملا:کرد بھی سپریم کورٹ پر برس پڑے

  


اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈیسک)سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمدکرد نے کہا ہے پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے بہت اچھا کیا اور تحریک انصاف کو بھی پیپلز پارٹی کی تقلیدکرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر الیکشن کمیشن کواحتجاج کرناچاہئے تھے مگر اس نے بھی کمزوری دکھائی ۔ سماءنیوزکے پروگرام ”نیوز آور “میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ پر جانبداری کاالزام نہیں لگاتے مگر بہت سے معاملات میں اختیار ات سے تجاوز کیا گیا ہے اورصدارتی الیکشن کے معاملے پر بھی ایساہی کیا گیا ۔ ایک سوال پر کے پیپلز پارٹی کو بھی سپریم کو رٹ سے رجوع کرنا چاہئے تھا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سپریم کورٹ کیا لینے جاتی جب اس کو بلایاگیا اورنہ ہی فریق بنایا گیا اور صرف فرد واحدکی درخواست پر فیصلہ دیدیا گیا ۔ علی احمدکردنے کہا کہ عدلیہ آزادی کی تحریک بڑی تحریک تھی بلکہ یہ ایک انقلاب تھا مگر اس کے ثمرات کوضائع کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب دبنگ آدمی ہیں جو چندماہ بعد ریٹائرڈ ہوجائیں گے مگر عدلیہ بحالی کی کے ذریعے آنے والے انقلاب سے ایک عام آدمی کو کیا ملا؟ انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم کی ایک تقریب میں گئے اور وہاں پر جو سات آٹھ سو آدمی جمع کئے گئے تھے صرف وہی پاکستان ہے عام اورکچلے ہوئے غریب شخص کا پاکستان سے کچھ لینادینا نہیں۔

مزید : قومی