وزیراعظم پاکستان کے نام کھلا خط

وزیراعظم پاکستان کے نام کھلا خط
وزیراعظم پاکستان کے نام کھلا خط

  



عزب مآب جناب میاں محمد نواز شریف صاحب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

مزاج گرامی!

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اہلِ پاکستان کے حوالے سے بڑی بھاری ذمہ داریاں تفویض کی ہیں۔ آپ چونکہ پاکستان کی خالق جماعت کے وارث اور قائد ہیں ، اس لئے اس عظیم جماعت کے اہداف و مقاصد کے آپ نگران و نگہبان بھی ہیں اور پشتیبان بھی۔ ان مقاصد کی نشان دہی تحریک پاکستان کے دوران ہماری عظیم قیادت نے بارہا کی۔ انہی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد پاکستان میں اسلامی علوم وفنون کو فروغ دینا تھا ۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران اسلامیانِ بر صغیر سے یہ وعدہ کیا تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد نوزائیدہ اسلامی ریاست میں طب یونانی/ طب اسلامی کے فروغ کی جدوجہد کی جائے گی کیونکہ یہ ہمارے مسلم اطباءکا قابل فخر ورثہ ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ادوار میں اس وعدے کی تکمیل کے حوالے سے چند ایک تاریخی اقدامات کئے، جن میں ایک اہم قدم آپ کی زیر قیادت، پنجاب میں ضلعی سطح پر طبی ڈسپنسریوں کا قیام بھی تھا۔ طب کی ترقی اور اطباءکے وقار میں اضافے کے لئے یہ اہم اقدام تھا ، جسے ملک بھر کے اطبائے کرام نے بے حد سراہا۔

 بد قسمتی سے کچھ ادوار میں فروغِ طب کی بجائے اس عظیم مسلم ورثے کو تباہ وبرباد کرنے کے اقدامات کئے گئے ۔ انہی میں ایک سے قدم گزشتہ دورِ حکومت میں ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی آف پاکستان آرڈیننس 2010ءکا نفاذ تھا۔ اس آرڈی ننس نے پاکستان بھر کے اطبائے کرام اور ملک کی طبی دوا سازی کی صنعت کی 28سالہ طویل جدوجہد پر پانی پھیر دیا تھا۔

28سالہ اس طویل جدوجہد کی مختصر سی کہانی کچھ یوں ہے:

پاکستان کی طبی دو ا سازی کی صنعت کے لئے قوانین کی تشکیل کی خاطر جدوجہد 1984ءسے جاری ہے۔ 2012ءمیں DRAPکے قیام سے پہلے تک کی 28سالہ مدت کے دوران قانون کے کم وبیش دس مسودے تیار ہوئے، ان پر وزارتِ صحت کے ذمہ داران کے ساتھ بیسیوں طویل نشستیں ہوئیں۔ دن بھر کے طویل مذاکرات ہوئے۔ اس مدت کے دوران کئی بار یہ طے پایا کہ چونکہ طبی ادویات ، ایلوپیتھک ادویات سے یکسر مختلف ہیں اور طبی طریقِ علاج اور ایلو پیتھک طریقِ علاج میں بُعد المشرقین موجود ہے، اس لئے طبی ادویات کی صنعت کو الگ قانون کے تحت لایا جانا چاہیے۔ اسی فیصلے کی رو سے طبی میڈیسن ایکٹ یا متبادل ادویات ایکٹ کے نام کے تحت جامع مسودہ جات چار بار قومی اسمبلی میں پیش ہوئے۔ یہ مسودات ایجنڈے کا حصہ بنے۔ ایک بارآپ کی حکومت کے دوران اور ایک مرتبہ محترمہ بے نظیر کی حکومت کے دوران ، لیکن دونوں بار اسمبلیاں ٹوٹ گئیں اور مسودے قانون کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ 2002ءمیں تشکیل پانے والی اسمبلی میں بھی ایک مسودہ پیش کیا گیا، اسے مجلس ِ قائمہ کے سپرد بھی کیا گیا، مجلس ِ قائمہ سے ہماری تفصیلی میٹنگز ہوئیں۔مجلس ِ قائمہ کی رپورٹ اسمبلی میں بھی پیش ہوئی، لیکن مسودہ پھر قانون کی شکل نہ اختیار کر سکا۔ نادیدہ ہاتھ رکاوٹ بنتے رہے اور بالآخر اسمبلی کی قانونی مدت پوری ہو گئی۔ اگلی اسمبلی میں بھی یہی مسودہ پرائیویٹ بل کی صورت میں پیش کیا گیا ، لیکن بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے اچانک شبخون مارا اور DRAP آرڈیننس کے ذریعے طبی صنعتِ دو ا سازی کو1976ءکے ڈرگ ایکٹ میں ڈرگ کی تعریف میں حاصل استثناءکا خاتمہ کردیا۔

واجب الاحترام وزیراعظم

ہمیں یہ امید تھی کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملکی طبی صنعتِ دو ا سازی پر جو ظلم کیا گیا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ، اپنی سابقہ طب دوست پالیسیوں کے تناظر میں اس کا ازالہ کرے گی۔ یہ امید اور توقع اس لئے تھی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہمیشہ اسلام، اسلامی ورثے اور اقدار و روایات کی علم بردار رہی ہے۔

اس امید اور توقع کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے پاکستان بھر کے معیاری طبی دوا ساز اداروں کی تنظیم پاکستان طبی فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اورکوارڈی نیشن کی وزارت کے ذمہ داران سے بار ہا تفصیلی ملاقاتیں کیں اور DRAPکے بارے میں انہیں اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کی۔ بسا اوقات ہمیں یہ لگا کہ شائد ہماری کاوشیں کامیابی سے ہم کنار ہوا چاہتی ہیں، لیکن S.R.O.412مورخہ 27مئی2014ءکے اچانک نفاذ نے ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا۔ ہمیں یوں لگا کہ پیپلز پارٹی کی روح پھر اس وزارت کے اندر کہیں گھس آئی ہے ، اور اس نے وہی کچھ کر دکھایا جو DRAP آرڈی ننس کے نفاذ کے وقت ہوا تھا۔ اس S.R.Oکے تحت نافذ ہونے والے قواعد وضوابط سے پاکستان بھر کی طبی برادری ، اطبائے کرام اور طبی دوا ساز ادارے ناقابل تصوراذیت اور پریشانی سے دوچار ہوچکے ہیں۔

لائق تکریم وزیراعظم صاحب!

پاکستان بھر کے اطبائے کرام اور طبی دوا ساز ادارے یہ سمجھنے میں پوری طرح حق بجانب ہیں کہ اس وقت متعلقہ وزارت کے پالیسی سازوں میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو طبی طریقہ علاج (جسے ہم قانونی طور پر تو طب یونانی کہتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ ہمار ے عظیم مسلم اطباءکی روشن و تابندہ کارہائے نمایاں کے باعث طب ِ اسلامی کہلانے کا حق دار ہے) کی مبادیات بھی جانتا ہو۔ اس عظیم ورثے کی اہمیت سے کوئی کماحقہ آگاہ نہیں ہے۔ اس کی فلاسفی کو سمجھنا کسی کے بس میں نہیں ہے، اس فن کی بنیادوں سے کسی کی شناسائی نہیں ہے، اس کے فنِ دوا سازی کے بارے میں بنیادی معلومات بھی کسی کے پاس نہیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متعلقہ سبھی لوگ Allopathic Orientationکے حامل ہیں اور اسی کے پیرا میٹرز کے مطابق وہ اس صنعت کو Regulate کرنا چاہتے ہیں۔

افہام و تفہیم میں موجود اس خوف ناک خلا نے ملک بھر کے اطباءکو انگاروں پر لوٹنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ ملک کے سبھی طبی دوا ساز ادارے شدید ترین اضطرابی کیفیت سے دو چار ہیں۔

طبی صنعت ِ دوا سازی پر ایلو پیتھک جیسے قواعد و ضوابط کے نفاذ سے درج ذیل سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں:

(1) چھوٹے اور درمیانے درجے کے سینکڑوں دوا ساز ادارے بند ہو جائیں گے اور یوں ملکی صنعت ِ دوا سازی کا 80سے 90فیصد حصہ ختم ہو جائے گا۔یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان کی طبی صنعت دوا سازی ، محض طبی ادویات کی تیاری کا مقدس فریضہ ہی انجام نہیں دیتی، وہ ہزار ہا برسوں پر محیط طب جیسے عظیم انسانی اور اسلامی ورثے کے محافظ کا کردار بھی نبھا رہی ہے ۔ DRAP کے تحت موجودہ قوانین بالخصوص SRO 412کا نفاذ اس عظیم ورثے کی جڑیں کاٹنے کے مترادف ہے ، جو پوری انسانیت سے اس کا قابل فخر طبی ورثہ ، جو جانبی اور مابعد اثرات سے بہت حدتک پاک ہے ، چھیننے کا ذریعہ بن جائے گا۔

( 2) ان دو ا ساز اداروں کے خاتمے سے بے روزگاری کا عفریت اور زیادہ توانا ہو جائے گا۔ ہزاروں لوگوں کے روز گارکا براہِ راست خاتمہ ہو گا۔ جبکہ ان سے متعلقہ لاکھوں لوگوں کا کاروبار بُری طرح متاثر ہو گا۔

(3) اس صورت حال سے ملک میں بے چینی کی بدترین فضا جنم لے گی ، جو براہِ راست مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت پر اثر انداز ہو گی۔

(4) ان دو ا ساز اداروں کی تیار کردہ ادویات ملک بھر کے اطبائے کرام استعمال کرتے ہیں۔ ادویات جب انہیں میسر نہیں ہو ں گی تو نہ صرف وہ معاشی بدحالی کا شکار ہوں گے بلکہ ان کے لاکھوں، کروڑوں مریض صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے۔(جاری ہے)  ٭

(5) ہماری طبی ادویات، عالمی ادارہ¿ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 70فیصد سے زائد آبادی استعمال کرتی ہے۔ ان ادویات کی تیاری پر غیر دانش مندانہ، غیر منطقی اور غیر منصفانہ ضوابط کا نفاذ ملک کی اٹھارہ کروڑ میں سے چودہ کروڑ آبادی کو اپنی پسند کے طریقہ علاج کے انتخاب کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا۔

(6) ملک کے دوا ساز اداروں ، اطبائے کرام اور مریضوں میں پھیلنے والی بے چینی ، انہیں احتجاج کرنے پر مجبور کر دے گی۔ وہ سڑکوں پر بھی آئیں گے، جس سے ایک جانب مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کا گراف نہ صرف تیزی سے نیچے آئے گا بلکہ موجودہ سنگین سیاسی تناﺅ کے ماحول میں امن و امان کا مسئلہ شدت اختیار کرکے حکومت کے لئے پریشانی کا موجب ہو گا۔

(7) ملک کی طبی صنعت ِ دوا سازی اور طبی طریقِ علاج کے ادارے ہمیشہ ہی حکومتی سرپرستی سے محروم رہے ہیں۔ اس کے باوجود طب یونانی (طب اسلامی) اگر زندہ ہے تو محض اپنی افادیت کی بنا پر اور اس فن سے وابستہ مخلص حضرات کی بدولت جنہوں نے تند و تیز آندھیوں کے مقابلے میں بھی طب کے جلتے ہوئے چراغ کی حفاظت کی ہے، اس کی مدھم سی لَو کو بجھنے سے محفوظ رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اپنی جدوجہد سے اس کی روشنی کو ہر سُو بکھیرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اگر حکومتیں اس فن کی تسلسل کے ساتھ سرپرستی کرتی رہتیں تو ہم پورے و ثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پورے مشرقِ وسطی کی مارکیٹ میں ہندوستان کی تیار کردہ طبی ادویات کا تسلط نہ ہوتا۔ پاکستان کی طبی صنعتِ دو اسازی اپنے معیار کی بدولت مقابلے کی اس فضا میں ترقی کی منازل طے کرتی اور ملک کو قیمتی زر مبادلہ کے ذخائرفراہم کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی ۔

بدقسمتی سے ہماری حکومتیں ، سوائے ایک آدھ دور کے ، ہمیشہ طب دشمنی کی راہ پر گام زن رہیں، جس کے نتیجے میں ہماری طبی صنعتِ دو ا سازی بین الاقوامی سطح پر مقابلے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئی۔ اگر آج بھی بھارت کی طرح پاکستان میں بھی طبی طریقِ علاج ، اس کے اداروں اور اس کی صنعتِ دوا سازی کے لئے دوستانہ پالیسیاں تشکیل دی جائیں تو ہمارے ادارے دنیابھر میں پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ کر سکتے ہیں، ا س کے امیج کو بہتر بنا سکتے ہیں ، اس کے لئے زرِ مبادلہ کے ذخائر کے حصول میں ممدو معاون ہو سکتے ہیں، ان شاءاللہ العزیز۔

اس منزل تک پہنچنے کے لئے ، آپ سے ہماری یہ درخواست ہے:

(1)S.R.O.412 (I) 2014 مورخہ 27مئی 2014ءکو فوری طور پر واپس لینے کے احکامات صادر فرمائے جائیں۔

(2)نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اور کوارڈی نیشن کی وزارت میں طب اور طبی دوا سازی سے متعلقہ معاملات اور قوانین و ضوابط کو حتمی شکل دینے کے لئے ایسے ذمہ دار حضرات کا تقرر کیا جائے جو طب یونانی (طب اسلامی) سے کما حقہ آگہی رکھتے ہوں، اس کے فلسفہ علاج اور فن دوا سازی سے گہری واقفیت رکھتے ہوں۔ یہ لوگ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قوانین وضوابط اور طریقِ کارکا تعین کریں۔

اس ضمن میں طبی ماہرین اور طبی صنعت ِ دو ا سازی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مستقل ایڈوائزی کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام متعلقہ معاملات پر غورو خوض کرکے مستقبل کا خاکہ اور لائحہ عمل مرتب کرے۔

(3)پاکستانی طبی صنعت ِدو ا سازی کے لئے انڈین ماڈل کو اپنایا جائے۔ یاد رہے کہ وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کے کارپردازوں کے ساتھ ہماری کئی ایک میٹنگز کے دوران اس امر پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے جب قوانین کے نفاذ کا وقت آیا تو معاملہ بالکل الٹ ہوگیا۔ اب بھی ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ انڈین ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کی طبی صنعتِ دوا سازی کے لئے نئی تشکیل دی جانے والی ایڈوائزری کمیٹی کے ذریعے اصول وضع کئے جائیں۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ:

(1) نافذ کئے گئے قوانین سے بدعنوانی او رکرپشن کا نیا راستہ کھلے گا ، جس سے ہماری تیار کردہ طبی ادویات سے وہ برکت اور تاثیر اٹھ جائے گی جو اب تک اس طریقِ علاج کا خاصہ رہا ہے۔

(2)ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان قوانین و ضوابط کا نفاذ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشارے پر ان کے مفاد کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں طبی ادویات کی تیاری کے لئے اپنے اپنے اداروں میں ہر بل ڈویژن قائم کر چکی ہیں، یا کر رہی ہیں اور چونکہ ان کے پاس وہ انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے جو موجودہ قوانین میں طبی دواساز اداروں کے لئے طے کیا گیا ہے، اس لئے وہ ادارے فوری طور پر طبی ادویات کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیں گے جبکہ مقامی طبی دوا ساز اداروں کی اکثریت ، طے کردہ معیار پر پورا نہ اتر سکنے کے باعث تباہی و بربادی سے دو چار ہو جائے گی۔

(3) نافذ شدہ رولز کی رو سے ہر طبی دوا ساز ادارے پر لازمی ہے کہ اس میں کوالٹی کنٹرول لیب ہو، جس میں ہر دوا کے ہر بیج کے مختلف ٹیسٹ کرکے پھر مارکیٹ میں بھیجا جائے۔ ان میں سے کچھ ٹیسٹ اور ان ٹیسٹیوں کا طریق کار ابھی تک ایلوپیتھک کمپنیوں میں بھی رائج نہیں ہے جبکہ انہیں طبی دوا سازی پر لاگو کرکے اسے بے موت مارنے کا پروگرام تیارکیا گیا ہے۔ ہمارے نظام دوا سازی میں کوالٹی کا وہ طریقِ کار درکار ہی نہیں ہے جو ایلوپیتھک ادویات کے لئے ضروری ہے۔

(ط)نافذ شدہ رولز کے غیر منطقی ہونے کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ ان کے مطابق ہر طبی دوا ساز ادارہ بی فارما سسٹ کو ملازم رکھنے کا پابند ہو گا اور اس کے سرٹیفکیٹ ((Market Authorizationکے بغیر کوئی دوا فروخت نہیں ہو گی۔ ذرا اس قاعدے کی سنگینی تو ملاحظہ فرمایئے کہ وہ بی فارماسسٹ جو طبی ادویہ سازی کی الف ب نہیں جانتا ، وہ طبی ادویات کی فروخت کے لئے سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔پھر یہ امر بھی ذرا ملحوظ ِ خاطر رہے کہ طبی دوا ساز ادارے اپنے خرچے پر اس شخص کے روزگار کا بندوبست کریں گے جو ان کے فنِ دوا سازی کو سرے سے جانتا ہی نہیں ، جبکہ طبی سسٹم کے اپنے حکماءاور دوا ساز بے روز گار ی کا شکار رہیںگے۔

محترم و مکرم وزیراعظم صاحب!

اسلامی علوم و فنون اور مسلم ورثے سے آپ کی غیر متزلزل وابستگی اور اس حوالے سے آپ کے تابندہ ماضی کی بدولت ہم آپ سے متوقع ہیں کہ آپ مسلم ورثہ اسلاف کے حامل اطباءاور طبی دو ا ساز اداروں پر روا رکھے جانے والے ظلم سے بچانے اور طبی دوا سازی واطباءکے معاملات کو طب یونانی / اسلامی کے ماہرین کے ذریعے ہی چلانے کے احکامات متعلقہ وزارت کو فوری طور پر صادر فرمائیں گے۔

ہم پر ظلمتیں مسلط کرنے کی جو ناپاک سازشیں کی جا رہی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ آپ کے احکامات سے، ان شاءاللہ، ان کا خاتمہ ہو گا اور طب اسلامی ماضی کی طرح ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شاہ راہِ ترقی پر گام زَن ہو گی۔

اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتیں اور برکتیں آپ کے ہم رکاب رہیں اور آپ ملک و ملت اور طبی ورثے کی حفاظت میں مجاہدانہ کردار ادا کرتے رہیں۔ آمین۔

احتراماتِ فائقہ کے ساتھ

  والسلام

مزید : کالم