بھکاریوں نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر دیا

بھکاریوں نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر دیا
 بھکاریوں نے بھی عوام کا جینا دوبھر کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


بابو تیرے بچے جیون، اللہ تینوں خوش رکھے، اللہ تینوں پتر دیوے اور نہ جانے کیا کچھ نہیں سننا پڑتا ہے آپکو۔۔۔ اس وقت جب آپکی گاڑی مین سڑک پر کسی ٹریفک سگنل پر رکتی ہے یا تب آپ کو جب آپ بازار میں شاپنگ کر رہے ہوں یا پھر آپ مسجد سے نماز پڑھ کر لوٹ رہے ہوں، یا پھر یوں بھی اکثر ہوتا ہے کہ آپ کے گھر کے دروازے کی گھنٹی بجتی ہے تو آپ خوشی خوشی گھر سے باہر نکلتے ہیں کہ شائد کوئی اپنا ہو، لیکن جب آپ گھر کے باہر جاتے ہیں تو، آپ کو بہت بار یہ سننا پڑتا ہے کہ اللہ کے نام پر کچھ دے دو تو آپ میں سے بہت سے غصے میں یہ کہتے ہیں کہ جاؤ معاف کرو۔۔۔!
جی دوستو یہ ایک کڑوا سچ ہے، ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔آسان لفظوں میں بھیک منگے ،مطلب مانگنے والا کہتے ہیں۔۔۔ یوں بھی کہہ لیں کہ بھکاری و فقیر۔۔۔اور یقیناًبھکاری اور فقیروں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا۔ ملک بھر میں بھکاریوں کی تعداد ایسے ہے، جیسے موسم برسات میں پتنگوں کی آسمان پر ہوتی ہے۔ جی ہاں کیا بتائیں کہ مانگنے کا پیشہ ہمارے ملک میں اتنی وسعت اختیار کر گیا ہے کہ سوچ سے باہر ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پچاس فیصد آبادی مانگنے میں ہی مصروف ہے۔ جی ہاں ملک بھر کے گلی کوچوں، بازاروں میں، چوراہوں، پارکوں میں باقاعدہ نسل در نسل خاندانی بھکاریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔۔۔ اور یقیناً ان کی جگہ پر کوئی باہر کا بھیک مانگے تو یہ لڑنے مرنے پر اتر آتے ہیں۔
یقین کریں کہ دل خون کے آنسو روتا ہے جب کسی جگہ چھوٹے بچے یا چھوٹی بچی کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے پھولوں سے معصوم و ننھے منھے بچوں جن کے پڑھنے لکھنے، کھیل کود کے دن ہیں۔ لیکن اپنے ماں باپ کے حکم پر جگہ جگہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ بہر حال یہ تو حکومتوں کا کام ہے کہ ملک بھر میں بھیک مانگنے والے افراد کی روک تھام کریں اور ان کی بہتری و فلاح کے لئے کوئی قدم اٹھائے اور نہ صرف یہ بلکہ چھوٹے چھوٹے بھیک مانگنے والے ننھے منھے بچوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم کے مطابق مفت تعلیم مہیا کی جائے۔۔۔ انہیں ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ بھی معاشرے کے عزت دار شہری بن سکیں۔ اس ضمن میں مختلف این جی اوز و تنظیموں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانہ چاہئے۔

بہت سے بے سہارا بچے اور بھیک مانگنے والے ایسے افراد جن کے پاس کمانے یا روز گار کا کوئی ذریعہ نہیں۔ انہیں سہارا دیں۔ اور ان کے لئے روزگار کے بہتر مواقع بھی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر مہیا کریں۔ اور مانگنے کے پیشے سے انہیں باہر نکالیں نہ صرف یہ بلکہ ان کی بہترین تربیت کے لئے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کئے جائیں۔
اسلام میں بھی مانگنے کو برا کہا گیا ہے اور ارشاد تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والا ہاتھ (مانگنے والے) سے بہتر ہے۔لیکن ہم پھر بھی مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ محنت زیادہ نہیں کرتے، بہر حال کیا کہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہماری اپنے ، ہمارے، آپ کے سب کے رب سے کہ اللہ کرے ہمارے ملک سے بھی جلد غربت دور ہو اور بھکاریوں کا بھی خاتمہ جلد ہو جائے، آمین ثم آمین۔ بہر حال دوستو اجازت چاہتے ہیں۔ آپ سے ملتے ہیں جلدبریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگہبان۔ *

مزید :

کالم -