توسیع اچھا تجربہ نہیں

توسیع اچھا تجربہ نہیں
توسیع اچھا تجربہ نہیں
کیپشن: pic

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سابق صدر آصف علی زرداری کے دورہ¿ امریکہ کے حوالے سے شہلارضا کا بیان پیپلزپارٹی کے طے شدہ منصوبے کا حصہ لگتا ہے۔ سندھ اسمبلی کی خاتون ڈپٹی سپیکر نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بڑے اہتمام سے بتایا کہ آصف علی زرداری امریکی حکام کو این آر او کی ایک شق کی یاددہانی کرانے کے لئے واشنگٹن گئے ہیں ،جس کے تحت پاکستانی فوج کو 3 عام انتخابات کے انعقاد تک مارشل لاءلگانے سے روکا جا چکا ہے۔ این آر او کے گارنٹرز میں امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ”ہاتھی کے پاﺅں میں سب کا پاﺅں“ کے مصداق کسی بھی معاملے پر اگر امریکہ کو اعتماد میں لے لیا جائے تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ غور طلب امر ،لیکن یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے یہ بیان جمہوریت کے تسلسل کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر جاری کرایا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد بھی ہے۔ یقینی طور پر پیپلزپارٹی یہی چاہے گی کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو گرانے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو عبوری سیٹ اپ میں وہ اپنا حصہ وصول کر سکے۔ سیاست میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا۔ زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ تیزی سے محدود ہو کر دیہی سندھ تک سمٹ جانے والی پیپلزپارٹی کو پھر سے پنجاب میں انٹری چاہیے۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کو اگر یہ یقین ہو جائے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مہروں سے ٹکرا کر مسلم لیگ (ن) تتربتر ہو جائے گی تو وقتی طور پر ہی سہی تحریک انصاف، مسلم لیگ(ق)اور ڈاکٹر طاہرالقادری سے ہاتھ ملانے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایسے حالات میں عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو تحریک انصاف کا مقابلہ مسلم لیگ(ق)، ڈاکٹر طاہر القادری و ہمنواﺅں کونہیں ،بلکہ پیپلزپارٹی کو ہی کرنا ہو گا۔ حالات کا دھارا اس جانب بھی مڑ سکتا ہے کہ جہاں پنجاب میں دم توڑتی پیپلزپارٹی کو وفاداریاں تبدیل کر کے آنے والے بااثر انتخابی امیدواروں کی معقول تعداد میسر آ جائے۔ پیپلزپارٹی کے حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ سیاسی و انتخابی میدان میں عمران خان، نوازشریف کی نسبت کہیں کمزور حریف ثابت ہوں گے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ سے تال میل کے لئے آصف علی زرداری کی امریکہ یاترا تو جاری ہے ،لیکن انہیں مقامی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی بحالی کے لئے جوڑتوڑ کرنا ہو گا۔ اپنے پانچ سالہ دور صدارت میں آصف علی زرداری تمام ”ضرورت مندوں“ کی حاجات رفع کر کے اس فن کا عمدہ مظاہرہ کر چکے ہیں۔
شہلارضا کے ذریعے جاری کرائے گئے بیان میں یہ تاثر جان بوجھ کر ابھارا گیا ہے کہ مارشل لاءلگانے کا فیصلہ امریکہ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کی پیشگی رضامندی کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ کو عوام کے روبرو بیرونی طاقتوں کا مرہون منت ظاہر کر کے دباﺅ میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اسی سال اکتوبر میں پاک فوج کے 5 اعلیٰ افسروں کی مدت ملازمت ختم ہونی ہے۔ بعض حلقے اس کوشش میں ہیں کہ ان تمام افسروں کو توسیع دے دی جائے۔ ایک صاحب نے تو اس موقف کی حمایت کرتے ہوئے انوکھی دلیل دے ڈالی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے زیرعتاب میڈیا گروپ کے اخبار میں شائع ہونے والے کالم میں انہوں نے انکشاف نما دھمکی دی ہے کہ اگر یہ پانچ افسر بروقت ریٹائر ہو گئے تو ان کی جگہ آنے والے کئی درجے زیادہ ”عقاب صفت“ ثابت ہوں گے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ موصوف ریٹائر ہونے والے افسروں سے دوستی نبھا رہے ہیں یا پاک فوج کے حوالے سے اپنے اور اپنے ادارے کے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں؟
ڈی جی، آئی ایس آئی سمیت پانچ اعلیٰ فوجی افسروں کی ریٹائرمنٹ رکوانے کے لئے ایک دوسرے اخبار میں بھی مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے موقف اختیار کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور خطے کی صورت حال کے باعث پاکستان حالت جنگ میں ہے اور ایسے حالات میں کمانڈ تبدیل نہیں کی جاتی۔ مضمون نگار نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ توسیع دینے کا فیصلہ 14اگست سے پہلے پہلے کر لیا جائے تو انقلاب اور آزادی مارچ جیسے ہتھکنڈوں سے نمٹنا بہت آسان ہو جائے گا۔ تجویز دینے والے نے اس حوالے سے شاید ماضی قریب کا ریکارڈ مدنظر نہیں رکھا۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور سابق ڈی جی، آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو توسیع دینے سے قبل بھی یہی موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ ان حالات میں کمانڈ تبدیل کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس سے قبل جنرل (ر) مشرف اپنے آپ کو خود ہی توسیع دے کر طویل عرصے تک فوج کے سربراہ بنے رہے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کو توسیع ملنے کا نتیجہ خود فوج کے لئے نہایت ناخوشگوار تجربہ تھا۔
 ملک میں تباہی و بربادی اپنی جگہ ،لیکن ایک وقت وہ بھی آیا کہ جب حاضر سروس فوجی افسروں کو یونیفارم پہن کر عوامی مقامات پر جانے سے روک دیا گیا تھا۔ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور جنرل(ر) احمد شجاع پاشا کو توسیع ملنے کا نتیجہ بھی کچھ مختلف نہیں رہا۔ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے خلاف سب سے زیادہ آوازیں آج آرمی کے اندر ہی سے اٹھ رہی ہیں۔ طالبان کے خلاف جنگ اور شمالی وزیرستان آپریشن کے حوالے سے سامنے آنے والا معاملہ خود جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ایک سابق ماتحت نے اٹھایا۔ تنقید کی بوچھاڑ اس قدر شدید ہے کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی اور جنرل (ر) احمد شجاع پاشا نے جواب نہ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ یہ واقعہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ کالم نگار نے ایک مرتبہ نجانے کس عالم میں یہ لکھ ڈالا کہ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے صلاح مشورے کے لئے سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ طویل ملاقاتیں کیں۔ اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ اس کالم نگار کو اگلے ہی روز اس دعوے کی تردید کرنا پڑی۔ توسیعی جرنیلوں کے لئے حاضر سروس والوں کے لئے جذبات کیا ہو سکتے ہیں؟.... گزشتہ تجربات کو سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کرنا ہرگز مشکل نہیں۔
جنرل (ر) پرویز مشرف، چودھری برادران، الطاف حسین، اے این پی، جے یو آئی، حتیٰ کہ شیخ رشید وغیرہ وغیرہ سے لے کر مسلم لیگ (ن) کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مخالفانہ بیانات دینے والے عمران خان نے ایک غیرسیاسی محاذ کھول کر جو ”پنگا“ لیا ہے، اس کے مضمرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ہونے والی قانونی جنگ اتنی بھی آسان نہیں ،جتنی عمران خان اس وقت سمجھ رہے ہیں۔ 20ارب روپے ہرجانے سے بچنے کے لئے 14روز میں معذرت کرنے کا کہا گیا ہے۔ دوسری صورت میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، عمران خان کے خلاف عدالت میں چلے جائیں گے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاءکی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس میں ایک دکھتی رگ والا اہم نکتہ بھی بطور تنبیہ شامل ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ افتخار محمد چودھری، عمران خان کے خلاف ملک کے اندر اور باہر دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کے مجاز ہیں۔ ملک کے باہر عمران خان کے بارے میں کون سا ایسا معاملہ ہے جس پر کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے؟ اس کا جواب ارسلان افتخارپہلے ہی دے چکے ہیں۔
 کہا جاتا ہے کہ ملک کے طاقتور اور سنجیدہ حلقے عمران خان کی شخصیت کے حوالے سے جو تاثر رکھتے ہیں، وہ ہرگز ایسا نہیں جو کپتان کو حکمرانی دلوانے میں معاون ثابت ہو سکے۔ رکاوٹ البتہ ضرور پیدا ہو سکتی ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کپتان اور قادری کے راستے جداجدا ہیں۔ شاید یہ بات مکمل طور پر درست قرار نہیں دی جا سکتی ہے۔ دونوں میں حیرت انگیز مماثلتیں موجود ہیں۔ اس وقت دونوں کا ہدف بھی ایک ہی ہے اور ”گائیڈ“ بھی ایک ہی ہے۔ 14اگست سے پہلے دونوں یک جان، دو قالب بھی ہو سکتے ہیں۔ اقتدار حاصل کر کے آرٹیکل 62، 63 کے حقیقی معنوں میں نفاذ کا دعویٰ کرنے والے کپتان اور قادری کو خود بھی انہی آرٹیکلز سے خطرات لاحق ہیں۔ ہائیکورٹ کے جج پر مشتمل انکوائری ٹربیونل 1990ءمیں ہی قادری کو جھوٹا قرار دے چکا۔ ایام جوانی میں لندن میں گزاری گئی شامیں کپتان کے گلے کا طوق بن سکتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے خلاف 14اگست یا اس کے بعد کوئی بڑی گڑبڑ ہو بھی گئی تو کپتان اور قادری کو اقتدار کے بجائے امتحان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -