تیس دنوں میں دنیا کے گرد سفر کا المناک اختتام

تیس دنوں میں دنیا کے گرد سفر کا المناک اختتام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سترہ سالہ پاکستانی نژاد امریکی کمرشل پائلٹ حارث سلیمان اپنے والد بابر سلیمان کے ساتھ اس طیارے کے گرنے سے جاں بحق ہو گئے جس میں وہ دنیا کے سفر پر نکلے ہوئے تھے اور ایک انجن والے اس طیارے میں ایک ماہ میں اپنا سفر مکمل کر کے ریکارڈ قائم کرنا چاہتے تھے لیکن امریکی ریاست ہوائی سے کیلی فورنیا کا یہ سفر آخری سفر ثابت ہوا اور ایک افسوسناک حادثے پر ختم ہو گیا، حارث سلیمان ایک نیک مقصد کے لئے دنیا کے سفر پر تھے۔ وہ دنیا کے کم عمر ترین کمرشل پائلٹ تھے جو اس چھوٹے طیارے میں دنیا کا چکر اس لئے لگا رہے تھے کہ وہ دس لاکھ ڈالر جمع کر سکیںیہ رقم انہوں نے نادار، بے سہارا اور مستحق طلباء کی مدد کے لئے سٹیزن فاؤنڈیشن کے سپرد کرنا تھی، یہ فاؤنڈیشن معیاری تعلیم کے لئے سرگرم عمل ہے، اس دوران وہ پاکستان بھی آئے اور انہوں نے اپنے سفر کی تفصیلات بتائیں اور پاکستانیوں سے داد وصول کی، لیکن کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ہو گا، حارث کے ساتھ ان کے والد بھی سفر کر رہے تھے جو خود ایک مشاق ہوا باز ہیں اور ایک بار انہوں نے اپنے طیارے میں خطرناک لینڈنگ بھی کی تھی، پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیرچیف مارشل(ر) راؤ قمر سلیمان ان کے بھائی ہیں۔حارث اور ان کے والد نے یہ سفر انڈیانا سے شروع کیا اور اس دوران وہ کینیڈا، آئس لینڈ، انگلینڈ ، یونان، مصر اور یو اے ای گئے، پھر یکم جولائی کو پاکستان پہنچے جہاں کراچی کے ہوائی اڈے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، پاکستان سے وہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، آسٹریلیا، فجی، امریکن سمووا اور کربائی گئے، حارث نے کراچی ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ وہ سمندر پر پرواز کرتے ہوئے ذرا ہچکچاہٹ اور خوف محسوس کرتے ہیں خاص طور پر ہوائی سے کیلی فورنیا تک 13گھنٹے کی پرواز کے تصور سے وہ ذرا نروس تھے اس لئے انہوں نے اس طویل سفر کے لئے طیارے میں اضافی فیول ٹینک لگوایا تھا۔ بہرحال اُن کے سفر کا انجام ایک المیہ پر ہوا، جس پر ہر سننے والا دُکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

اداریہ -