اگر آپ کو بھی منہ کی بدبو جیسی مشکل درپیش ہے تو یہ خبر ضرور پڑھ لیں، زندگی آسان ہوجائے گی

اگر آپ کو بھی منہ کی بدبو جیسی مشکل درپیش ہے تو یہ خبر ضرور پڑھ لیں، زندگی ...
اگر آپ کو بھی منہ کی بدبو جیسی مشکل درپیش ہے تو یہ خبر ضرور پڑھ لیں، زندگی آسان ہوجائے گی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) منہ سے بدبو کا آنا آدمی کی خوداعتمادی کا خاتمہ کر دیتا ہے اور اس کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتا ہے۔ آئیے آپ کو بتائیں کہ اس سے چھٹکارہ کیسے پایا جا سکتا ہے۔ اکثر لوگوں کو پتا نہیں چلتا کہ ان کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا نہیں، وہ اپنے منہ کی بدبو چیک کرنے کے اپنی ہتھیلیوں میں گہرے سانس لے کر اسے سونگھتے ہیں اور بدبو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ طریقہ غیرمؤثر ہے۔بدبو چیک کرنے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی کلائی کو زبان سے چاٹیں اور اسے خشک ہونے دیں، خشک ہونے پر اسے سونگھیں، آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا نہیں، اس مقصد کے لیے آپ کلائی کی بجائے کھانے کا چمچ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:منہ کی بدبو اورچھالے کسی بڑی بیماری کا پیش خیمہ

منہ کی بدبو کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ منہ میں موجود بیکٹیریا منہ میں ہی خوراک کی توڑ پھوڑ کا باعث بنتے ہیں جس سے سلفر پیدا ہوتا ہے، یہی سلفر منہ کی بدبو کا سبب بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹ بھر کر کھانا، سخت ورزش کرنا، منہ میں Sliva(ہارمون) کا کم پیدا ہونا اور ناشتہ نہ کرنا بھی منہ کی بدبو کا باعث بنتے ہیں۔

ماہرین کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اوکوئے کا کہنا تھا کہ لوگ منہ کی بدبو دور کرنے کے لیے فوری طور پر پودینہ یا اس سے بنی ادویات کی طرف جاتے ہیں لیکن یہ چیزیں الٹا منہ کی بدبوکو بڑھا سکتی ہیں۔ پودینہ کھانے سے آدمی میٹھے کی طرف راغب ہوتا ہے اور زیادہ میٹھا کھانے سے منہ میں مزید بیکٹیریا پیدا ہوتے ہیں جو بدبو میں اضافہ کر دیتے ہیں۔چیونگم اور پودینہ فوری طور پر تو بدبو ختم کر دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ اس میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔اس کے خاتمے کے لیے مریض کوزیادہ مرچ مصالحے والے کھانوں، پیاز، لہسن اور کافی سے گریز کرنا چاہیے۔ گاجر اور سیب کی طرح کے چبا کرکھانے والے پھل اور سبزیاں بدبومیں اضافہ کرتی ہیں۔ڈاکٹر اوکوئے کا کہنا تھا کہ ترش اور کھٹی اشیاء منہ سے بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہیں اور اجوائن، سونف ، دار چینی، الائچی اور لونگ بھی منہ کی بدبو کا بہترین حل ہیں۔

مزید : تعلیم و صحت