ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ: اقوام متحدہ نوٹس لے

ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ: اقوام متحدہ نوٹس لے
ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ: اقوام متحدہ نوٹس لے

  

گزشتہ دنوں پاکستان اور بھارت کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین نے ورکنگ باؤنڈری کے قریب ان پاکستانی علاقوں کا دورہ کیا جو حالیہ بھارتی فائرنگ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مبصرین نے سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے سیالکوٹ کے متاثرہ سیکٹروں صالح پور، چپرار اور ملانی کے دورے میں بھارتی جارحیت کے شواہد اکٹھے کئے۔ مبصرین نے زخمی شہریوں سے ملاقات کے ساتھ ساتھ فائرنگ سے تباہ حال شہری املاک کا مشاہدہ بھی کیا۔ بعض عینی شاہدین نے مبصرین کو فائرنگ کے واقعات سے بھی آگاہ کیا۔ یہ فوجی مبصرین سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے دونوں ملکوں میں تعینات ہیں۔

بھارت نے جہاں ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ والی اپنی منافقانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی سالمیت پر اوچھے وار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں وہ ’’چور نالے چتر‘‘ کے مصداق پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرکے جارحیت، فائرنگ اور گولہ باری کے الزامات بھی پاکستان پر تھوپ دیتا ہے۔ اس بھارتی پالیسی کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گئے اپنے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور حقائق کو الٹانا ہوتا ہے اس لئے ہمارے حکمران اور سکیورٹی کے متعلقہ اداروں کو جہاں ان بھارتی سازشوں سے ہوشیار رہنا ہے وہیں بھارت کو موقع پر ہی منہ توڑ جواب دے کر ملکی سالمیت کے تقاضے بھی نبھانے ہیں ،مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمران بھارت کی کسی بھی سازش کا موثر جواب دینے کے لئے نیم دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ہمیشہ ’’بادل نخواستہ‘‘ والی پوزیشن میں رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں آئندہ کے بھارتی جارحانہ عزائم کو بھانپ کر بھی اس کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں اور ساتھ ہی سا تھ تسلسل سے یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ ہم تو بھارت کے ساتھ امن و آشتی سے ہی رہنا چاہتے ہیں چنانچہ ہمارے حکمرانوں کے اس طرز عمل نے بھی ایک جانب بھارت کے حوصلے بلند کئے ہیں تو دوسری جانب آزادی کی جدوجہد میں بھارت کے خلاف گزشتہ 68برس سے صف آراء کشمیری عوام کو بھی سخت مایوس کیا ہے۔

اس وقت کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ وابستگی اور وارفتگی کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی بھی اہم موقع پر مقبوضہ وادی میں پاکستان کا پرچم لہرا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کی اپنی خواہش کا بھارت کو پیغام پہنچا رہے ہیں اور عید کے روز بھارت کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرائے گئے جب کہ ٹرو کے روز کشمیری عوام نے بھارتی ریاستی جبروتشدد کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یوم الحاق پاکستان منایا ،مگر ہمارے حکمرانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ پانے کے خدشہ کے تحت مذاکرات کے معاملہ میں کشمیر کا لفظ استعمال کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ روس کے شہر اوفا میں شنگھائی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم مودی سے وزیراعظم نوازشریف کی ون آن ون ملاقات اس کی تلخ مثال ہے ،جس میں وزیراعظم پاکستان نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف مودی کی زہر اگلتی زبان کا انہی کے لہجے میں جواب دینے کی بجائے امن و آشتی کے ساتھ رہنے کی طفلانہ خواہش کا اظہار کیا چنانچہ مودی نے موقع غنیمت جان کر ممبئی حملوں کی رٹی رٹائی گردان کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے دوسرے واقعات کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال دیا اور اس ملاقات کے مشترکہ اعلامیہ میں اصل اور بنیادی تنازعہ کشمیر کا ذکر گول کرکے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہی پاکستان بھارت تنازعات کا باعث بن رہی ہیں اس لئے دہشت گردی کے تدارک کے لئے مشترکہ اقدامات اٹھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

بھارتی حکمران تو کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ہی دہشت گردی کو فوکس کرتے ہیں اور ان کی تان ممبئی حملوں پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے حکمران گودھرا ٹرین میں مسلمانوں کو زندہ جلانے کے ٹھوس شواہد کو پاکستان کے کیس کی مضبوطی کی بنیاد بنانے سے بھی گریز کرتے ہیں اور حد درجہ احتیاط کی پالیسی اختیار کرکے بھارتی لیڈران کے سامنے کشمیر کا نام لینا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ اس صورت حال میں اگر بزرگ کشمیری رہنما سیدعلی گیلانی بھی اپنی اس مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کشمیر کاز کے لئے پاکستان کے جذبے میں کمی آ رہی ہے تو ان کے اس مایوسی کے اظہار سے بھی بھارت کو کشمیر پر ہمارا کیس کمزور بنانے کی سہولت حاصل ہو گی۔بھارتی حکام کنٹرول لائن اور سیزفائر لائن کی تسلسل سے خلاف ورزیاں کرکے دانستہ طور پر سرحدی کشیدگی بھی انتہا تک پہنچا چکے ہیں۔ اس تناظر میں بھارتی عزائم تو بالکل واضح ہیں جو پاکستان کی سالمیت ختم کرنے کی منصوبہ بندی پر مبنی ہیں ،مگر اس کے جواب میں بھارت میں تعینات ہمارے ہائی کمشنر اور دفتر خارجہ سے لے کر وزیراعظم تک سبھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کے غم میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ کیا محض رسمی احتجاج ہی ایسی بھارتی مکاریوں، جارحانہ عزائم اور جارحیت کے ارتکاب کا مداوا ہے؟

بھارت گزشتہ دو ماہ سے تسلسل کے ساتھ جاری رکھی گئی اپنی جارحانہ اشتعال انگیر کارروائیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال رہا ہے اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت نے پاک فوج پر پونچھ سیکٹر میں فائرنگ کا الزام عائد کر دیا۔ بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل منیش مہتہ نے اس سلسلہ میں گزشتہ روز درفنطنی چھوڑی کہ پاک فوج نے ہماری فوجی چوکیوں اور سول آبادی پر فائرنگ کی ،جبکہ درحقیقت پاکستان رینجرز بھارتی یکطرفہ گولہ باری اور فائرنگ کے جواب میں حرکت میں آئی تھی ،جس نے جوابی فائرنگ کی تو بھارتی گنیں خاموش ہو ئیں۔ اس سلسلہ میں رینجرز کی جانب سے ٹھوس شواہد یو این فوجی مبصرین کو پیش کر دئیے گئے ہیں، جبکہ یکطرفہ بھارتی کارروائیوں کے عینی شاہدین نے بھی بھارتی حرکات سے یو این مبصرین کو آگاہ کیا ہے۔ دشمن کی ایسی جارحیت کا جواب نہ دینا اور اس کے برعکس امن کی خواہش کا اظہار کرنا دشمن کو اپنی کمزوریوں کا تاثر دینے کے مترادف ہے، جس سے ہمارے حکمرانوں کو اب بہرصورت گریز کرنا چاہئے۔ اب محض رسمی احتجاج کے بجائے عملیت پسندی کو اپنا شعار بنانا چاہئے۔

مزید : کالم