بھارت نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا جو اس نے آخری مرتبہ 8 سال پہلے کیا تو چین اتنا غصہ ہوگیا کہ دوبارہ جرأت نہ ہوئی

بھارت نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا جو اس نے آخری مرتبہ 8 سال پہلے کیا تو چین ...
بھارت نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کرلیا جو اس نے آخری مرتبہ 8 سال پہلے کیا تو چین اتنا غصہ ہوگیا کہ دوبارہ جرأت نہ ہوئی

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) آٹھ سال قبل بھارت نے بحر ہند میں جاپان اور امریکا کے ساتھ ملکر جنگی مشقیں کی تو چین کی طرف سے سخت برہمی کا اظہار کیا گیا اور دوبارہ بھارت کو ایسی مشقوں کی جرأت نہ ہوئی۔ اگرچہ آٹھ سال تک بھارت نے ان مشقوں سے توبہ کئے رکھی لیکن اب وزیر اعظم مودی کی حکومت آنے کے بعد بھارت کے بحر ہند میں طاقت دکھانے کے خواب پھر زندہ ہوگئے ہیں اور رواں سال اکتوبر میں پھر سے امریکا اور جاپان کے ساتھ ملکر بحری مشقیں کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ویب سائٹ defencenews.inنے بھارتی سفارتی اور دفاعی زرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ بھارت ہر سال امریکا کے ساتھ ملکر جنگی مشقیں کرتا ہے لیکن چین کی مخالفت مول لیتے ہوئے ایک بار پھر جاپان کو شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتے ہوئے چینی اثر ورسوخ اور اس کے نتیجے میں جاپان کے ساتھ تنازعے کی وجہ سے چین پسند نہیں کرتا کہ جاپان بحر ہند میں بھارت کے ساتھ ملکر جنگی مشقیں کرے، لیکن بھارت بحر ہند میں اپنا تسلط قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور مشترکہ جنگی مشقوں کو اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھتا ہے۔

بھارتی دفاعی زرائع کا کہنا ہے کہ بھارت امریکا اور جاپان کے اہلکار ٹوکیو کے نزدیک ایک جاپانی نیول مرکز یوکو سو کا پر ملاقات کررہے ہیں تاکہ مشترکہ مشقوں کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔ زرائع کے مطابق شمال مشرقی بحر ہند میں ان مشقوں کے سلسلے میں بحری جہاز اور ہوائی جہاز تعینات کئے جائیں گے۔ اس سے پہلے ان مشقوں میں بھارت اور امریکا ائر کرافٹ کیرئیر، جنگی جہاز اور ایٹمی آبدوزیں استعمال کرتے رہے ہیں اور اس دفعہ زیادہ بڑے پیمانے پر جنگی اسلحے کی نمائش کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ مشقوں کو مالا بار 2015کا نام دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت جاپان کی شمولیت کا تاثر ضرور دے رہا ہے لیکن دوسری طرف جاپانی دفاعی زرائع کا کہنا ہے کہ ابھی شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی