بلدیاتی انتخابات کے مزید التوا کا کوئی جواز نہیں

بلدیاتی انتخابات کے مزید التوا کا کوئی جواز نہیں

سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا جائزہ لینے کے لئے الیکشن کمیشن کا اجلاس27جولائی کو طلب کر لیا گیا، دونوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول ایک ماہ تک موخر کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبائی الیکشن کمیشن سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، لوکل گورنمنٹ اور سیکرٹری لا بھی شرکت کریں گے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں بارشوں اور سیلاب کے باعث انتظامیہ کی مصروفیت کے باعث تیاریاں نہیں کی جا سکتیں، کیونکہ آر او، ڈی آر او سمیت دیگر انتخابی عملہ انتظامیہ سے لیا جاتا ہے،جبکہ یہ تمام لوگ بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، اس لئے20اکتوبر سے قبل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد، اور28جولائی کو انتخابی شیڈول جاری کرنا ممکن نہیں، اس حوالے سے بلدیاتی انتخابات ایک ماہ کے لئے موخر کرنے کی تجویز سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی، جبکہ حکومتِ سندھ نے بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کی اجازت کے لئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

پاکستان کے دو صوبوں (بلوچستان+خیبرپختونخوا) میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک بلدیاتی اداروں نے کام شروع نہیں کیا۔ یہ مرحلہ بھی جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے، البتہ یہ عجیب بات ہے کہ دو بڑے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کسی نہ کسی وجہ سے ملتوی ہوتے چلے آ رہے ہیں، ان صوبوں میں آخری بار بلدیاتی انتخابات 2005ء میں ہوئے تھے اُس وقت صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف تھے، جنہوں نے یہ نظام وضع کیا تھا، پروگرام کے مطابق نئے انتخابات چار سال بعد 2009ء میں ہو جانے چاہئے تھے، لیکن2008ء کے انتخابات میں وفاق اور صوبوں میں جو حکومتیں قائم ہوئیں، بلدیاتی انتخابات اُن کی ترجیحات میں نہیں تھے، حالانکہ یہ آئینی ضرورت ہے اور انتخابات نہ کرانے کو آئین کی مخالفت قرار دیا جاتا رہا ہے، اس کے باوجود حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کو ایک یا دوسری وجہ سے ملتوی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ 2013ء میں عام انتخابات ہو گئے اور نئی حکومتیں بن گئیں، ان حکومتوں نے بھی بلدیاتی انتخابات کے ساتھ پہلے والا رویہ اختیار کئے رکھا، یہاں تک کہ کچھ لوگ اس معاملے کو اعلیٰ عدالتوں میں لے گئے، سپریم کورٹ نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تاریخ دی، لیکن اب اسے بھی حیلوں بہانوں سے آگے لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ درست ہے کہ اِس وقت بعض اضلاع میں سیلاب آیا ہوا ہے، لیکن پورا مُلک تو اس کی زد میں نہیں ہے، بہت سے ڈویژن اور اضلاع ایسے ہیں، جہاں کوئی سیلابی ایمرجنسی نہیں، اس لئے اگر انتخابات مرحلہ وار ہونے ہیں، تو ان اضلاع سے آغاز کیا جا سکتا ہے، جہاں کوئی ایمرجنسی نہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ انتظامی افسر سیلاب زدہ علاقوں میں ایمرجنسی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں، لیکن ہم نے نہیں سُنا کہ لاہور، راولپنڈی یا گوجرانوالہ ڈویژن کا کوئی افسر سیلابی ڈیوٹی دینے کے لئے ڈیرہ غازی خان، ملتان یا کسی دوسرے سیلابی علاقے میں گیا ہوا ہے، وہاں زیادہ تر ریلیف اور ریسکیو کا کام یا تو فوجی کر رہے ہیں یا پھر ان ضلعوں کی متعلقہ انتظامیہ یہ کام کر رہی ہے، اس لئے جن اضلاع میں بارش غیر معمولی طور پر نہیں ہو رہی یا سیلاب وغیرہ کی کوئی کیفیت نہیں وہاں تو انتخابات کا آغاز کیا جا سکتاہے، اور اگر سیلابی علاقوں میں واقعتا کوئی مجبوری ہے، تو وہاں الیکشن تیسرے مرحلے میں کرائے جا سکتے ہیں،تب تک سیلاب گزر چکا ہو گا۔

صوبہ سندھ میں بھی یہی کیفیت ہے وہاں کراچی سے انتخابات کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور دوسرے مرحلے پر اندرونِ سندھ کے ایسے ضلعوں کو منتخب کیا جا سکتا ہے، جہاں کوئی ایمرجنسی نہیں ہے اور انتظامی افسر روٹین کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، جو علاقے سیلاب سے متاثر ہیں اور جن کے اس کی زد میں آنے کا خدشہ ہے وہاں تیسرے مرحلے میں انتخاب کرائے جا سکتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اگر پنجاب اور سندھ کی حکومتیں اب الیکشن ملتوی کرانے کا مقدمہ دوبارہ سپریم کورٹ میں لے کر جاتی ہیں تو عوام الناس میں یہ تاثر ضرور پیدا ہو گا کہ حیلوں بہانوں سے انتخابات کو ٹالا جا رہا ہے، حالانکہ دُنیا بھر میں انتخابی سرگرمی اور اس طرح کی ایمرجنسی صورتِ حال ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ اور دِن صدیوں سے طے شدہ ہیں اور اس میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں بھی کوئی ردوبدل نہیں ہوتا۔ 2012ء کے صدارتی انتخابات کی پولنگ سے ہفتہ دس دن پہلے کئی ریاستوں میں زبردست سمندری طوفان آیا تھا، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی پھیلی تھی۔ صدر اوباما جو خود صدارتی امیدوار تھے،اپنی انتخابی مہم چھوڑ کر متاثرین کی امداد کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے اس دوران کسی جانب سے دبے دبے الفاظ میں پولنگ کا دن آگے کرنے کی تجویز آئی، جسے سختی سے مسترد کر دیا گیا، اور وقت پر پولنگ ہوئی۔البتہ پولنگ نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر نہیں کیا اور وہ ساتھ ساتھ جاری رہیں، کیونکہ ایسی صورت حال سے نپٹنے اور انتخابات کرانے والے ادارے الگ الگ ہیں اور وہ ہر حال میں اپنا کام کر سکتے ہیں۔

قوموں کی زندگیوں میں آفاتِ ارضی و سماوی آتی رہتی ہیں، ان کی وجہ سے زندگی کے معمولات میں فرق تو آتا ہے، لیکن گاڑی کُلّی طور پر رُک نہیں جاتی، معاملات چلتے رہتے ہیں۔ ایسے انتظامات کر لئے جاتے ہیں کہ سارے معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں، ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم ہر سال سیلاب سے دوچار ہوتے ہیں، لیکن سیلاب کا سدِ باب کرنے کی تدبیریں نہیں کرتے، سارے وقتی جذبے سیلابی کیفیت کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں، حالانکہ ایسے انتظامات کئے جانے چاہئیں کہ زندگی کا پہیہ ہر حالت میں چلتا رہے، ادارے اپنا اپنا کام کرتے رہیں، خدانخواستہ کوئی ایمرجنسی ہو تو خودبخود حرکت میں آ جائیں، جہاں ریلیف کی ضرورت ہو خود کار طریقے سے یہ ضرورت پوری ہوتی رہے۔ اضطراری اور ہنگامی اقدامات اور بدنظمی سے کئے جانے والے انتظامات سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلتے، لوگوں کو بھی شکایات پیدا ہوتی ہیں اور انتظامیہ کی انتظامی صلاحیتیں بھی زیر بحث آئی ہیں اور ان پر انگلیاں اُٹھتی ہیں، اس لئے ہماری گزارش یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات اگر مرحلہ وار کرانے ہیں تو ان علاقوں سے آغاز کر دیا جائے، جہاں نہ اس وقت کوئی ایمرجنسی ہے اور نہ آئندہ کوئی غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہونے کا امکان ہے۔اگر التوا کی ضرورت پیش آ ہی جائے تو زیادہ سے زیادہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں یہ کام دو تین ہفتوں کے لئے التوا کا شکار کیا جا سکتا ہے،اب بھی اگر بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوتے ہیں تو یہ تاثر پختہ ہو گا کہ حکومتیں کسی نہ کسی بہانے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرتے رہنا چاہتی ہیں، اس تاثر کی نفی اور اچھے حکومتی امیج کے لئے انتخابات کا بروقت انعقاد ضروری ہے۔

مزید : اداریہ