بینکوں نے ہدف سے 32فیصد زائد زرعی قرضے تقسیم کیے

بینکوں نے ہدف سے 32فیصد زائد زرعی قرضے تقسیم کیے

کراچی(اکنامک رپورٹر)بینکوں نے جون 2015ء کو ختم ہونے والے سال کے لیے اسٹیٹ بینک کی زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی (ACAC) کی جانب سے مقرر کیے جانے والے زرعی قرضوں کی تقسیم کے ہدف سے زائد قرضے تقسیم کیے۔ 500 ارب روپے کے علامتی ہدف (جو مالی سال 14ء میں اصل تقسیم کیے گئے 391 ارب روپے کے قرضوں سے 28 فیصد بلند ہے) کے مقابلے میں بینکوں نے 515.9 ارب روپے تقسیم کیے ہیں جو مالی سال 15ء کے مقررہ ہدف سے 15.9 ارب روپے زیادہ اور گذشتہ برس تقسیم کیے جانے والے 391.4 ارب روپے سے 31.8 فیصد زیادہ ہے۔ واجب الادا زرعی قرضوں کے پورٹ فولیو میں بھی اضافہ ہوا جو آخر جون 2015ء تک 335.2 ارب روپے کی سطح پر تھا اور یہ گذشتہ برس کی 290.3 ارب روپے کی پوزیشن کے مقابلے میں 45 ارب روپے (15.5 فیصد زائد) اضافے کو ظاہر کر رہا ہے۔زرعی فنانسنگ کے متعلق بینکوں میں خطرے کے تصور کی بلند سطح اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی سال 15ء کے لیے زرعی قرضوں کا مقررہ 500 ارب روپے (28 فیصد نمو) کا ہدف ہر لحاظ سے پرعزم تھا۔ اس سے قطع نظر اسٹیٹ بینک نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی جس میں بینکوں کو زرعی فنانسنگ کو ایک قابل عمل کاروبار کے طور پر اختیار کرنے کی ترغیب دینا، بینکوں160کے زرعی قرض گاری (lending) کے پورٹ فولیو کو متنوع بنانا، فی ایکٹر قرضہ حدود میں اضافہ اور اہل اجزا کی فہرست کی وسعت بڑھانا، ویلیو چین فنانسنگ اور چھوٹے اور مذہب کے لحاظ سے حساس صارفین کی مائیکروفنانس اور اسلامی بینکوں میں160شمولیت جیسے نئی پروڈکٹس کے ایکوسسٹم(eco۔system) کی تیاری شامل تھے۔ مزید برآں، زرعی فنانسنگ کی رسائی کو مزید بڑھانے کے لیے سال کے دوران ملک کے منتخب اضلاع میں فارم و غیر فارم سرگرمیوں160کے لیے فاسٹ ٹریک لینڈنگ پروگرام متعارف کرایا گیا۔ کاشت کاروں کی آگاہی اور مالی خواندگی بڑھانے کے پروگرام نچلی سطح پر منعقد کیے گئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2011۔12ء سے مسلسل زرعی قرضوں کے اہداف سے زائد قرضے تقسیم کیے جاتے رہے ہیں جس میں 10.8 فیصد کی اوسط حقیقی نمو ہوئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں160اسی مدت میں زرعی جی ڈی پی میں 3 فیصد نمو ہوئی ہے۔زرعی قرضوں160کے علامتی ہدف کو حاصل کرنے کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے سال کے دوران بینکوں160کے اشتراک سے تمام میزانی اقدامات اور منصوبوں160پر عملدرآمد بھی کرایا ہے۔ جس میں 25 ایکڑ تک فصلی قرضہ بیمہ (Crop Loan Insurance)، چھوٹے کاشت کاروں کے لیے گلہ بانی بیمہ شروع کرنا،چھوٹے اور پسماندہ کاشت کاروں کے لیے کریڈٹ گارنٹی اسکیم، ویئرہاؤس ریسیٹ متعارف کرانا اور سولر ٹیوب ویلز کے لیے قرضے وغیرہ شامل ہیں۔یہ کامیابیاں حکومت کے تعاون اور گورنر اشرف محمود وتھرا اور ڈپٹی گورنر سعید احمد کی قیادت کی وجہ سے ممکن ہوئیں، جنہوں نے اے سی اے سی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے اور اور بینکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔بینکوں کی کارکردگی برائے 2014۔15ء کے تفصیلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ بڑے بینکوں نے اپنے سالانہ ہدف 252.5 ارب روپے کے مقابلے میں مجموعی طور پر 262.9 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے جو ہدف کا 104.1 فیصد ہے اور گذشتہ سال کی اسی مدت میں ان کی طرف سے جاری کیے گئے 195.5 ارب روپے سے 34.5 فیصد زائد ہے۔ پانچ بڑے بینکوں میں سے حبیب بینک نے اپنے انفرادی سالانہ ہدف کا 113فیصد حاصل کیا ہے، ایم سی بی نے 102.6 فیصد، یو بی ایل نے 101.4 فیصد، الائیڈ بینک نے 101.2 فیصد اور نیشنل بینک نے 100.1 فیصد ہدف حاصل کیا۔ تخصیصی بینکوں میں سے زرعی ترقیاتی بینک نے 95.8 ارب روپے یا اپنے سالانہ ہدف 90 ارب روپے کا 106.5 فیصد پورا کیا جبکہ پی پی سی بی ایل نے مالی سال 2014۔15ء میں اپنے 11.5 ارب روپے ہدف کے مقابلے میں 10.5 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے جو ہدف کا 91.2 فیصد بنتا ہے۔پندرہ نجی ملکی بینکوں نے بطور ایک گروپ اپنا 94.1 فیصد ہدف پورا کیا۔ اس گروپ میں فیصل بینک، بینک الفلاح، جے ایس بینک، بینک آف خیبر، بینک آف پنجاب اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کارکردگی میں سب سے آگے رہے اور ان بینکوں نے اپنے سالانہ اہداف سے آگے بڑھ کر زرعی قرضے جاری کیے۔

تاہم سمٹ بینک نے 99.6 فیصد، حبیب میٹروپولیٹن بینک نے 96.2 فیصد، عسکری بینک نے 86 فیصد، سونیری بینک نے 85.8 فیصد، این آئی بی نے 85.3 فیصد، سندھ بینک نے 80.9 فیصد، بینک الحبیب نے 72.1 فیصد جبکہ سلک بینک نے اپنے سالانہ انفرادی ہدف کا صرف 63.1 فیصد پورا کیا۔

آٹھ مائکرو فنانس بینکوں نے بطور ایک گروپ اپنے سالانہ ہدف 28.2 ارب روپے سے سبقت لے جاتے ہوئے 33 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے جو مالی سال 2014۔15ء کے ہدف کا 117 فیصد بنتا ہے۔ خوشحالی بینک، فرسٹ مائکرو فنانس بینک، تعمیر مائکرو فنانس بینک، پاک عمان مائکرو فنانس بینک، وسیلہ مائکرو فنانس بینک اور یو مائکرو فنانس بینک اپنے اپنے سالانہ اہداف سے آگے بڑھ گئے جبکہ این آر ایس پی مائکرو فنانس بینک اپنے سالانہ ہدف کا صرف 92.3 فیصد پورا کر پایا۔ چار اسلامی بینکوں نے بھی بطور ایک گروپ متاثر کن کارکردگی دکھائی اور سالانہ ہدف کے 2.3 ارب روپے کے مقابلے میں 5 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے۔ اس گروپ میں بینک اسلامی، میزان بینک اور البرکہ بینک نے مالی سال 2014۔15ء کے اہداف پورے کیے۔

مزید : کامرس