ٹیکسٹائل کا اہم شعبہ غیر فعال ہو رہا ہے، فوری اقدامات کئے جائیں‘میاں زاہد حسین

ٹیکسٹائل کا اہم شعبہ غیر فعال ہو رہا ہے، فوری اقدامات کئے جائیں‘میاں زاہد ...

لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے چودہ کھرب روپے کاٹیکسٹائل کا شعبہ توانائی بحران اور دیگر مسائل کی وجہ سے غیر فعال ہوتا جا رہا ہے۔اس دم توڑتے شعبہ کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ ملکی برامدات کا 57فیصدکمانے والا ٹیکسٹائل کا شعبہ جوفیکچرنگ کا 46فیصد، لیبر کا 38فیصدہے اور حصہ جی ڈی پی کا نو فیصد ہے اپنی تاریخ کے بد ترین بحران سے دوچار ہے۔ مقامی مسائل اور حریف ممالک کی جانب سے اپنے ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مراعات دینے کے سبب اسکے پاؤں بین الاقوامی منڈی سے اکھڑ رہے ہیں۔ان حالات کے سبب سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا شعبہ سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش نہیں رہاجو ملکی معیشت کے علاوہ اس صنعت سے وابستہ 35لاکھ افراد کیلئے خطرہ ہے۔ میاں زاہد حسین نے ٹیکسٹائل ملز مالکان کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹال اور دیگر شعبوں کی برامدات بڑھانے کیلئے ایکسچینج پالیسی، مانیٹری پالیسی اور ٹیکس پالیسی پر نظرالثانی اور ریفنڈز کی فوری ادائیگی یقینی بنانا ہو گی۔اس وقت ٹیکسٹائل کا شعبہ ایک کھرب دس ارب کے ریفنڈز کا منتظر ہے ۔یہ شعبہ بجلی، گیس اور پانی کی موجودہ قیمت میں ملکی ضروریات تو پوری کر سکتا ہے مگر حریف ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتا جو بین الاقوامی منڈی میں قدم جمانے کیلئے سبسڈی اور کرنسی کی قدر بھی کم کرتے رہتے ہیں جن نے پاکستان میں تیس فیصد صنعت کی بندش اور دس لاکھ افراد کا روزگار چھیننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگر کپاس کے بجائے دھاگہ اور کپڑے کی برامد کو ترجیح دینے کی پالیسی اپنائی جائے تو روزگاراور زرمبادلہ کی صورتحال بہتر ہو جائے گی جبکہ ٹیکسٹائل منسٹری کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبہ سے متعلق تمام فیصلہ یہ وزارت کرے اور متعدد دیگر اداروں کا عمل دخل ختم یا محدود ہو جائے۔ اگر ٹیکسٹائل کے شعبہ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تو کپاس کی فصل پرانحصار کرنے والے لاکھوں کاشتکار بھی نہیں بچیں گے۔

مزید : کامرس