پاکستان ہاکی میں کھویا مقام آخر کب حاصل کرے گا؟

پاکستان ہاکی میں کھویا مقام آخر کب حاصل کرے گا؟

پاکستان ہاکی ٹیم اپنا کھویا ہوامقام حاصل کر سکے گی۔ یہ سوال اس کھیل سے محبت کرنے والے ہر فرد کی زبان پر ہے لیکن کسی کو اس کا جواب نہیں مل رہا ہاکی کے کرتا دھرتے بھی اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صر ف اپنی نوکریاں بچانے کے چکر میں ہیں ان کو اس بات کی فکر ہی نہیں کہ ہم نے اس کھیل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اب جب یہ کھیل آخری سانسیں لے رہا ہے ایسے موقع بھی اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر یہ کھیل کبھی بھی پروان نہیں چڑھ سکے گا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو ذاتی طور پر قومی کھیل کی حالت زار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کمیٹیاں تشکیل دینے سے کچھ نہیں ہو گا جب تک عملی طور پر اس حوالے سے کردار ادا نہیں کیا جاتا امید ہے کہ اب جب یہ کھیل آخری سانسیں لے رہا ہے اس پر بھرپور توجہ جائے گی، کیونکہ اگر آج اس پر توجہ نہ دی گئی تو پھر شائد ہی پاکستان میں اس کھیل کو عروج مل سکے جس کے ہم صرف دعوے ہی کرتے نظر آتے ہیں اور عملی طور پر اس حوالے سے کچھ نہیں کر رہے ۔ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی پی ایچ ایف کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں اولمپئن شاہد علی خان کی سربراہی میں منعقد ہوجس میں اراکین محمد اخلاق اور منصور احمد نے شرکت کی۔ کمیٹی کے روبرو کوچ دانش کلیم نے پیش ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا، جبکہ معاون کوچ ابوذر کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی کراچی میں ہونے والے اجلاس میں ان کا بیان قلمبند کرے گی ۔ کمیٹی نے لاہور کے بعض من پسند سپورٹس جرنلسٹس سے بھی ورلڈ ہاکی لیگ میں ٹیم کی شکست کے حوالے سے تجاویزحاصل کیں۔ کمیٹی کے رکن اولمپئن محمد اخلاق احمد نے بتایا کہ کمیٹی کے اجلاس اسلام آباد اور کراچی میں بھی منعقد ہوں گے ۔کمیٹی کا اجلاس اگلے ہفتے اسلام آباد اور پھر کراچی میں منعقد ہوگا ۔اخلاق احمد نے کہا کہ کمیٹی صرف اور صرف میرٹ پر فیصلہ کرے گی ۔ورلڈ ہاکی لیگ میں قومی ہاکی ٹیم کی شکست کی مفصل رپورٹ تیار کی جائے گی ۔کمیٹی نے اپنا 80فیصد کام مکمل کرلیا ہے اور رپورٹ اگست کے مہینے میں مکمل ہوجائے گی۔ لاہور میں تحقیقات کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، جبکہ دوسرا مرحلہ اسلام آباد اور تیسر ا مرحلہ کراچی میں ہوگا ۔ دوسری طرف قومی ہاکی ٹیم کے کوچ دانش کلیم نے کہا ہے کہ ورلڈ ہاکی لیگ میں پرفارمنس کا مظاہرہ نہ کرنے والے کھلاڑیوں کے خلاف بھی ایکشن لیا جانا چاہئے ۔نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں پی ایچ ایف کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے روبرو اپنا بیان قلمبند کروانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ورلڈ ہاکی لیگ میں جن کھلاڑیوں نے پرفارمنس دی ان کو ٹیم میں رہنا چاہئے، جبکہ جنہوں نے پرفارمنس نہیں دی ان کا ٹیم میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ 300سے 400 میچز کھیلنے والے کھلاڑی اگر اتنے اہم ایونٹ میں پرفارمنس نہیں دیں گے تو ایسے ہی نتائج سامنے آئیں گے ۔پاکستان ہاکی ٹیم کا اگلا ٹارگٹ دو سال بعد ہونے والا ورلڈ کپ کوالیفائر راؤنڈ ہے۔ اس کے لئے ابھی سے تیاری شرو ع کردی جانی چاہئے۔ جونیئر ٹیم کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹریننگ کیمپس اور زیادہ سے زیادہ میچز کھیلانے کا بندوبست کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں قومی ٹیم کو نیا ٹیلنٹ مل سکے ۔قومی ہاکی ٹیم کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے جب تک ہم ان کی ضروریات پوری نہیں کرتے وہ دل سے کھیل نہیں کھیلیں گے اور ان کی توجہ اپنی ضروریات پر مبذول ہوں گی اس لئے سب سے پہلے کھلاڑیوں کو ان کاحق دینے کی ضرورت ہے، جس کے لئے وہ کافی عرصہ سے آواز بلند کر رہے ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 1