تاجروں کی ہڑتال۔۔۔ نعیم میر سے مکالمہ

تاجروں کی ہڑتال۔۔۔ نعیم میر سے مکالمہ
 تاجروں کی ہڑتال۔۔۔ نعیم میر سے مکالمہ

  

مُلک کا سیاسی منظر نامہ پُرسکون ہو گیا ہے، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نے سازشوں،قیاس آرائیوں کو کسی حد تک دفن کیا ہے اور بیمار جمہوریت کو دوبارہ صحت یاب کر کے عوام میں بھیج دیا ہے۔ حکمرانوں کے اندر اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بھی بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں۔ ایک تبدیلی تو یہ ہے کہ وہ عوام میں نظر آ رہے ہیں۔ شائد حکمرانوں کے اندر عوام کا سامنا کرنے کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ جہاں حکمران ڈرائنگ رومز سے نکل کر عوام میں آ گئے ہیں۔ وہاں دھرنے والے ڈرائنگ رومز میں غائب ہو گئے ہیں۔ ان کی سیٹی گم ہو گئی ہے۔ ان کی تو لٹیا ہی ڈوب گئی ہے۔ وہ شدید صدمہ میں ہیں۔ شائد حکمران جس آئی سی یو سے نکلے ہیں وہ وہاں داخل ہو گئے ہیں۔ ایک رائے ہے کہ انہیں عدلیہ کی بجائے سکرپٹ رائٹرز سے گلہ کرنا چاہئے۔ کہ اس نے سکرپٹ میں یہ خیال کیوں نہیں رکھا کہ اگر جوڈیشل کمیشن نے خلاف رپورٹ دے دی تو کیا ہو گا۔ ایسا لگتا ہے کہ جو سکرپٹ عمران خان کے پاس تھا اس میں آگے اندھیرا ہے اور انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا اور دو دن سے وہ اس اندھیرے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک دھواں دار پریس کانفرنس کیا ان کا غصہ ختم کر سکے گی۔

گو کہ حکومت نے ایک اہم لڑائی جیت لی ہے۔ یہ وہ لڑائی تھی، جس نے ایک دفعہ حکومت کو تقریباً گھر بھیج ہی دیا تھا۔ گو نواز گو نے تو حکومتی ذمہ داران کے ہوش اڑا ہی دئے تھے، لیکن اب لگتا ہے کہ رو عمران رو کی باری آگئی ہے اور لگتا ہے کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان معرکہ آرائی شروع ہونے والی ہے۔ حکومت نے بنک ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگا یا ہے، جس سے تاجر تنگ ہیں۔ اور اس ٹیکس کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو ویسے تاجروں کی جماعت کہا جا تا ہے۔ تاجر اس کا بنیادی ووٹ بنک ہیں۔ اس لئے یہ گمان ذرا مشکل ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تاجروں کے ساتھ لمبی محاذ آرئی میں جائے گی۔

انجمن تاجران کے صدر نعیم میر کے ساتھ اس حوالہ سے ایک مکالمہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک مارکیٹ میں دو ہزار دکان ہے تو اس میں ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد ایک درجن سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ بات حقیقت اور حکومت کو بھی پتہ ہے کہ تاجروں کی اکثریت ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرواتی، لیکن تاجر ٹیکس گوشوارہ جمع کروائے یا نہ کروائے، لیکن بنک کے ساتھ کاروبار ضرور کرتا ہے۔ اس لئے حکومت نے بنک کے ساتھ کاروبار میں جو ٹیکس عائد کیا ہے۔ اس سے ہر تاجر متاثر ہوا ہے۔ اس لئے تاجر اس ٹیکس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔مَیں نے سوال کیا کہ تاجر ٹیکس گوشوارے کیوں جمع نہیں کرواتے، تو انہوں نے کہا کہ اس میں بہت مسائل ہیں، جن پر الگ بات ہو سکتی ہے، لیکن ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے کی بجائے زبردستی ٹیکس اکٹھا کرنا ٹھیک قرار نہیں دیا جا سکتا۔

نعیم میر کا کہنا تھا کہ ویسے تو تاجروں کا کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا مشکل ہے۔ ایک ایک مارکیٹ میں کئی گروپس ہیں۔ ہر سیاسی جماعت نے بھی تاجروں میں اپنا الگ گروپ بنا رکھا ہے۔ تاجروں میں اس گروہ بندی کا ہمیشہ تاجروں کو نقصان ہوا ہے، لیکن ماضی میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جب تاجر کسی بڑے مقصد کے لئے گروپ بندی ختم کر کے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس بار بھی ماحول اسی طرف بڑھ رہا ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی جماعت کا گروپ بھی اس ٹیکس پر ہمارے ساتھ ہے۔ اور اگر ٹیکس ختم نہ ہو اتو وہ بھی ہڑتال کا حصہ ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تاجروں میں جو ماحول بن گیا ہے ۔ اسحاق ڈار کو یہ ٹیکس ختم ہی کرنا ہو گا۔

تاجروں اور نعیم میر کا موقف اپنی جگہ، لیکن تاجروں کو مُلک کے ٹیکس نیٹ میں شامل کئے بغیر پاکستان کی ترقی اور معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، لیکن ہر دور حکومت میں تاجروں نے اپنے اتحاد سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایسی کوششیں سابقہ ادوار میں بھی ہوئی ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف نے جب ابھی لو لی لنگڑی جمہوریت بحال نہیں کی تھی اور بلا شرکت غیر ملک کے تن تنہا طاقتور ترین حکمران تھے۔ انہوں نے بھی تاجروں پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بھی ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد پرویز مشرف کے ساتھیوں نے اس کو اپنی نا کامی ماننے کی بجائے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تاجر میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور میاں نواز شریف اور ان کی جماعت تاجروں کو سپورٹ کر رہی ہے۔ اس کے بعد فوج نے تاجروں میں اپنا گروپ بنا نا شروع کر دیا اور پھر ہر مارکیٹ میں یہ گروپ بن بھی گیا، لیکن پرویز مشرف تاجر وں کی ٹیکس اصلاحات کرنے میں نا کام رہے۔

آج قدرت کی ستم ظفریفی دیکھیں ۔ آج تاجر اور میاں نواز شریف کی حکومت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ آج میاں نواز شریف کی حکومت بھی تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور آج تاجر میاں نواز شریف کے خلاف ہو گئے ہیں۔ تاجروں کا خیال ہے کہ پنجاب میں با لخصوص بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے سب سے بڑے ووٹ بنک تاجروں کو کیسے ناراض کر سکتی ہے۔ اس لئے اگر تاجر کھڑے ہو گئے تو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔ تاجر کسی بھی طرح ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اگر ایک دفعہ انہوں نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے تو وہ ٹیکس کی دلدل میں پھنس جائیں گے۔ تاجروں کو امید ہے کہ اول تو حکومت پہلے ہی ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔ ورنہ ہڑتال ہوئی تو پورا ملک بند ہو جائے گا، اور حکومت گھٹنے ٹیک دے گی۔ کیا ایسا ہو گا۔ دل کہتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہو۔ یہ پاکستان کے لئے نقصان دہ ہو گا، لیکن دماغ کہتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ دل اور دما غ کی یہ لڑائی اسحاق ڈار کو کہاں لیجائے گی۔ یہ پاکستان کے مستقبل کے لئے اہم سوال ہے۔

مزید : کالم